طنزومزاح: دو کشتیوں میں سوار– دلّی کے مانجھی... تقدیس نقوی

کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر ایک کشتی میں سوار ہوکر دریا پار کرنا مشکل ہو تو دو کشتیوں میں سوار ہو جانا چاہیے۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر ایک کشتی ڈوبی تو دوسری کشتی ضرور کسی ساحل تک پہنچا دے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تقدیس نقوی

ہمارے میر صاحب دہلی کے الیکشن کے نتائج آنے تک ریاست دلی کے قائد کے بڑے مداح تھے اور ان کی طرح سردی گرمی برسات میں گلے میں مفلر لپیٹے پوری دلی میں گھومتے پھرتے تھے۔ مگر گذشتہ چند ہفتوں میں نہ جانے انھوں نے ایسا کیا دیکھا کہ وہ ریاست دہلی میں برسر اقتدار پارٹی کی بیچ دریا میں ڈوبتے ہوئے ’بچاو بچاؤ‘ والی آوازیں بہت جلد سنائی دے جانے کی پیشین گوئی کرنے لگے ہیں۔

ہم نے بہت سمجھایا کہ جناب تھوڑا صبرو تحمل سے کام لیں۔ سیاست میں اور اِنکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ سیاست میں کچھ ایڈجسٹمنٹس کرنا پڑتے ہیں۔ بلکہ کچھ ایڈجسٹمنٹس تو سیاسی بقا کے لئے ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ اب یہ کوئی ’لوک پال آندولن‘ تھوڑی ہے کہ جہاں صرف نعروں سے کام چلایا جاتا تھا۔ سیاست میں آگے پیچھے دائیں بائیں سب طرف دیکھ کر چلنا پڑتا ہے۔ جسے لوگ موقع پرستی سے تعبیر کر رہے ہیں، سیاست میں وہ سیاسی سوجھ بوجھ، تدبر اور دوراندیشی سمجھی جاتی ہے۔

ہر لیڈر کو سیاسی پینترے بازی اور جوڑ توڑ کرنے کا فن سیکھنے لئے کچھ وقت تو درکار ہوتا ہے۔ جھاڑو پکڑنا آسان ہوتا ہے مگرجھاڑو پھیرنے کے فن پر پوری طرح دسترس حاصل کرنے میں کافی جوڑ توڑ کرنا پڑتے ہیں۔ اب جب دلی حکومت کی کشتی کے مانجھی کو اس فن پر مکمل عبور حاصل ہوچکا ہے توعوام یہ تبدیلی دیکھ کر بلا وجہ چراغ پا ہو رہی ہے۔ آپ ذرا اپنے انّا جی کو ہی دیکھ لیجیے۔ وقت اور حالات کے ساتھ کتنی خاموشی اور سلیقہ سے ایڈجسٹمنٹس کر رہے ہیں یا نہیں۔

دلّی کے قائدین کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ مرکز جیسے ہی مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ’سوچھتا ابھیان‘ سے فارغ ہوگا فوراً دہلی کی ٹوٹی پھوٹی دہلیز کی مرمت شروع کرنے لگے گا۔ ملکی سدھار کے لئے اگر کچھ تھوڑا بہت پیسہ خرچ بھی ہوجائے تو کیا برا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سے یہ کروڑوں روپئے کس دن کے لئے پڑے سڑ رہے ہیں۔ بس اسی خطرے کی بو سونگھتے سونگھتے ان لوگوں نے مرکز کی خاطر مدارات شروع کردی اور لکھنؤ کی تہذیب کو دلّی میں آزماتے ہوئے’’پہلے آپ، پہلے آپ‘‘ کہہ کہہ کر اپنی خیر وعافیت کے لئے مہذبانہ عرضی داخل کرادی ہے۔

پہلے وہ ایک کشتی میں ’سیکولرزم‘ کا نعرہ لگانے والوں کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے ان کے ساتھ سوار ہوگئے تھے اور دلی کی سیاست کی کشتی کو کنارے کے قریب لانے میں کافی کامیاب نظر آنے لگے تھے جس کے باعث دلّی کی عوام نے معصومانہ انداز سے ان سے ہزاروں امیدیں باندھنی شروع کردی تھیں۔ مگر پھر باد مخالف کے تند و تیز جھونکوں سے گھبرا کر وہ پہلی کشتی میں لڑ کھڑاتے ہوئے ان کا تعاقب کرتی ہوئی اک دوسری ’نرم ہندوتوا‘ کی کشتی میں چھلانگ لکا کر سوار ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ شاید ابھی تک وہ دو کشتیوں میں سفر کرنے والوں کے انجام سے ناواقف ہیں۔ یہ اور بات ہے جسے وہ سیاسی مصالحت یا دوراندیشی سے تعبیر کر رہے ہیں سیاسی پنڈت اسے ’’خودکشی‘‘ گردان رہے ہیں۔

ان کے ناقدین بلاوجہ بس اتنی سی بات پر آسمان سر پر آٹھا رہے ہیں کہ اس الیکشن سے پہلے انھوں نے ہنومان چالیسہ کیوں یاد کرکے نہیں سنایا تھا جبکہ ان کی آواز اس وقت بھی اتنی ہی سریلی تھی جتنی اس الیکشن میں رہی تھی۔ شاید ان کا جواب ہوگا کہ ہنومان چالیسہ یاد کرنے میں تو کسی کو بھی زیادہ وقت نہیں لگتا مگر اس کو مناسب وقت پر اور جنتا سے پوشیدہ رکھتے ہوئے اسے مؤثر طریقہ سے پڑھنے اور اسے استعمال کرنے کا فن حاصل کرنے میں بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی لئے انہیں بھی پورے پانچ برس لگ گئے۔ مگر ان کا کمال یہ ہے کہ اس کی انہوں نے جنتا کو ہوا تک نہیں لگنے دی۔

گزشتہ دنوں ریاست میں کچھ ’چھوٹے موٹے‘ دنگے سننے میں آئے۔ سنا ہے کچھ لوگ مرے بھی ہیں۔ خیر مرتے تو لوگ روز ہی ہیں یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے جس کے لئے وزیر اعلیٰ جیسی بڑی شخصیت سڑکوں پر ماری ماری پھرے۔ آخر آفس ڈیکورم بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔ انہیں حال ہی میں دہلی میں ہوئے دنگوں کے متعلق ٹی وی سے خبریں سننے پراس لئے اکتفا کرنا پڑا کہ انہیں وہ سب کچھ دیکھنے کے لئے ان دنگا زدہ مقامات پر بذات خود جانا پڑتا۔ جس کے لئے انہیں سرپر ہیلمٹ پہننا ضروری ہوتا جو مفلر کے ساتھ کسی طور بھی سوٹ نہیں کرتا۔

ریاست میں جب دنگوں کو سنبھالنے اور ان کا باقاعدہ اہتمام کرنے کا ذمہ پولیس نے اٹھا رکھا ہے تو پھرایک تنہا مکھیہ منتری بھلا پولیس کی حسن کارکردگی کی تعریف اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ آخر کر بھی کیا سکتا ہے۔ اب جب کہ ہر طرف شانتی ہے اور دلّی کی خاکستر بستیوں کی راکھ پر بغیر کسی خوف و خطر کے چلنا آسان ہے دلّی حکومت کی پوری ٹیم ہر طرف بلا جھیجھک گھوم رہی ہے۔ اسے کہتے ہیں قومی خدمت کا جذبہ۔ بھلا اب ایسے کٹھن وقت میں جب دلّی کی جنتا کو اپنی منتخب حکومت کی ضرورت ہے تو کیا وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی۔

یہ دلی والے بھی روز نت نئی فرمائشیں لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ الیکش کیا جتا دیا پوچھتے پھر رہے ہیں ’’یہ ہمارے لیڈر کی آواز کیوں نہیں نکل رہی۔ اب تو اتنی سردی بھی نہیں ہے اور سڑکوں پر نعرے لگائے ہوئے بھی برس ہوگئے ہیں جو گلا صاف کرنے کی ضرورت پڑجائے‘‘

سنا ہے ان دنگوں کے دوران کچھ الھڑ بچوں نے شرارتاً سی سی ٹی کیمرے توڑ دیئے تھے۔ مگر مجال ہے جو ان کی زبان سے اک اُف بھی نکلی ہو۔ بس وہ یہی کہتے رہے کہ جس نے بھی یہ کیمرے توڑے ہیں وہ بھی اپنے ہی بچے ہیں۔ بچوں کی عادت تو شرارت کرنے کی ہوتی ہی ہے۔ حالات ٹھیک ہوتے ہی نئے کیمرے لگوا دیئے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بات بالکل اسی طرح کہی جیسے اک منحنی کمزور سے شخص نے اس وقت کہی تھی جب اس کو ایک بہت طاقتور پہلوان نے دو چار ہاتھ رسید کردیئے تھے۔ مار کھاکراس بے بس انسان نے بظاہر اپنی کمزوری چھپاتے ہوئے اس پہلوان سے پوچھا ’’پہلوان جی آپ نے یہ دوچار ہاتھ مجھے مذاق میں مارے ہیں یا سنجیدگی میں‘‘۔ پہلوان بھی کافی سیانا تھا سینہ تان کرکہنے لگا ’’سنجیدگی میں مارے ہیں، تم سے جو ہوسکے وہ کرلو‘‘

یہ سن کر وہ نحیف و ناتوان جان یہ کہتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا کہ ’’چلو پھر ٹھیک ہے۔ کیونکہ مجھے مذاق بالکل پسند نہیں ہے‘‘۔

Published: 8 Mar 2020, 9:11 PM