طنز و مزاح: مودی جی! ملک آپ کو بھول جائے، آپ کے ’احسانوں‘ کو نہیں بھولے گا

نیوٹن کے ’عمل پر رد عمل‘ کے سائنسی اصول کے ’سیاسی خالق‘ بھی جب مسلمانوں سمیت ملک کے سوا سو کروڑ شہریوں کو مبارکباد پیش کرنے کی سخاوت ظاہر کر سکتے ہیں تو ہم بھی ایسے گستاخ نہیں جو مبارکباد نہ دیں!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وشنو ناگر

مودی جی آپ نے ہمیں یوم جمہوریہ پر مبارکباد نیک خواہشات پیش کیں تو ہم بھی رد عمل کے طور پر آپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ نیوٹن کے ’عمل پر رد عمل‘ کے سائنسی اصول کے ’سیاسی خالق‘ بھی جب مسلمانوں سمیت ملک کے سوا سو کروڑ شہریوں کو مبارکباد پیش کرنے کی سخاوت ظاہر کر سکتے ہیں تو ہم بھی ایسے گستاخ اور غیر روادار نہیں جو مبارکباد نہ دیں! اور اس مرتبہ تو ہم خصوصی طور سے آپ کو نیک خواہشات پیش کر رہے ہیں کیونکہ اس کی ضرورت ہم سوا سو کروڑ ہندوستانیوں سے زیادہ آپ کو ہے، حالانکہ آپ بھی یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس سے اپ کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہے!۔

آپ کو مبارکباد کہ آپ ملک کو ’کانگریس مکت‘ کانگریس سے پاک کرتے کرتے نہ جانے کب اور کیسے ملک کو کانگریس اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں سے پُر کرنے اور مودی سے پاک کرنے میں مصروف ہو گئے۔ میں ایمانداری سے کہوں کہ یہ آپ کی گزشتہ سال کی سب سے بڑی اور یہاں تک کہ میرے دوست مجھے ’مودی بھگت‘ کے لقب سے بھی نوازیں تو بھی میں یہ کہنے میں گریز نہیں کروں گا کہ یہ آپ کی ’عظیم ترین کامیابی‘ ہے۔ کاش آپ اشتہارات کے ذریعہ اپنی ’کامیابی‘ کا ڈنکا ہندوستان بھر میں بجواتے تو ملک و بیرونی ممالک میں آپ کی عزت میں اضافہ ہوتا۔

میں ایمانداری سے مانتا ہوں کہ یہ آپ کی خاص کاوشوں اور سخت محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ایسے ہندوستان کی تعمیر ہونے کے قوی امکان پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کے لئے یقینی طور پر آپ نے راہل گاندھی سے زیادہ شدید اور انتھک کوشش کی ہے۔ آپ نے اس کے لئے یقینی طور سے پانچ سال 18-18 گھنٹہ کام کیا ہے اس کے لئے آپ کو پھر سے مبارکباد اور نیک خواہشات۔

آج لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زبان پر کنہیا کمار، چندر شیکھر آزاد، جگنیش میوانی وغیرہ کے نام ہیں۔ ان کا جادو کام کر رہا ہے تو اس کا بھی سہرہ صرف اور صرف آپ کے ہی سر باندھتا ہے۔ آج ان کے لاکھوں حامی ہیں تو آپ کی ہی وجہ سے ہیں۔ آپ نہ ہوتے تو کنہیا کمار بھی وقت کے ساتھ جے این کے دیگر طلبا رہنماؤں کی طرح ہجوم میں کھو جاتے اور کہیں لیکچرار بن کر زندگی گزار رہے ہوتے۔ آپ نے ہی ایسی سخت محنت کی کہ وہ آج اپوزیشن کے ستارے بن چکے ہیں۔

مودی جی، آپ کو لاکھوں مبارکباد اور نیک خواہشات۔ یہ ملک خواہ آپ کو بھول جائے لیکن آپ کے احسانات کو کبھی نہیں بھولے گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ تاریخی صفحات پر سنہرے الفاظ میں کسی کا نام لکھنے کا کام کون کرتا ہے، اس بھائی یا بہن سے میری مودبانہ درخواست ہے کہ اس حوالہ میں کہیں مودی جی کا نام بھی چار نکات میں ڈالنے کے لئے تھوڑا سا سونا خرچ کر دیں، تاکہ مودی جی کو یہ شکایت نہ ہو کہ ناانصافی کرنے والے کے ساتھ بھی ناانصافی ہو گئی!

آپ نے نوٹ بندی کر کے غریبوں کی مزدوری-نوکریاں چھین کر جو اپنے لئے گڈھا کھودنے کے لئے جو محنت کی ہے اس کے لئے بھی یوم جمہوریہ کے اس موقع پر مبارکباد اور شکریہ۔ اور ہاں رافیل کو تو میں بھولا ہی جا رہا تھا۔

یوں تو آپ کی کامیابیاں بے شمار ہیں لیکن اور تذکرہ کر کے میں آپ کو مبارکباد پیش کرنے کا سلسلہ ختم کرتا ہوں، پھینکنے کے فن کو جو آپ نے اعزاز دلایا ہے وہ آج تک کوئی نہیں دلا پایا۔ تمام رہنما سر پیٹ پیٹ کر مر گئے لیکن ان بلندیوں تک نہیں پہنچ پائے۔ آپ سے ترغیب حاصل کر کے ملک میں آج اتنے چھوٹے-موٹے-کھوٹے پھینکو پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کی درآمد فوری شروع نہیں کی گئی تو 2019 میں آپ کے ساتھ یہ ’چھوٹے پھینکو‘ بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔

اور آخر میں ان دور اندیش لوگوں کو بھی مبارکباد پیش کر دوں جنہوں نے آپ کو پھینکو کے اعزاز سے نوازا ہے اور اس اعزاز کو اتنا مقبول بنایا ہے کہ آپ کا پورا نام لینے کی ضرورت ہی نہیں، پھینکو جی کہو تو لوگ خود بخود سمجھ جاتے ہیں کہ ذکر آپ کا ہی ہو رہا ہے۔ مجھے دوستوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ گنیز اور لیمکا بک آف ریکارڈس میں دنیا کے ’عظیم پھینکوؤں‘ کی فہرست میں بھی آپ کا نام اول مقام پر درج ہونے والا ہے، اس کے لئے بھی آپ کو پیشگی مبارکباد۔

با وثوق ذرائع کے مطابق آپ کو آپ کی وزارت عظمیٰ کی مدت کی یاد میں پھینکنے کے فن کے لئے ایک نوبل انعام متعارف کرانے کی بھی تجویز پی ایم او کی طرف سے پیش کی گئی ہے، جس کی مکمل رقم بھی حکومت ہند دینے کو تیار ہے بشرطیکہ اس سلسلہ کا پہلا انعام آپ کو دیا جائے۔ میں اس کی حمایت کرتا ہوں کہ اگر نوبل کمیٹی اس سے انکار کر دے تو حکومت ہند کو خود اگلے سال سے ’بین الاقوامی پھینکو رتن اعزاز‘ کی شروعات کرنی چاہیے اور حکومت کسی کی بھی بنے یوم جمہوریہ کے موقع پر اس اعزاز سے آپ کو ضرور نوازا جانا چاہیے۔ جو ایسا نہ کرے، یقینی طور پر اسے غدار ملک قرار دیا جائے۔