مرد حق، بے باک صحافی ونود دوا کو آخری سلام... ظفر آغا

ونود تم کو بھلا پانا ناممکن ہے اور آج کے دور میں تمہاری اصولی صحافت کی کس قدر ضرورت ہے اس کا اندازہ لوگوں کو تمہاری غیر موجود میں ہوگا۔ ایسے مرد حق اور بے باک صحافی ونود دوا کو آخری سلام۔

ونود دوا / تصویر سوشل میڈیا
ونود دوا / تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

وہ سچ بولتا تھا اور سچ کے لئے کبھی کسی کے آگے جھکا نہیں۔ تبھی تو وہ بے باک صحافی تھا۔ اس مرد حق کا نام ونود دوا تھا۔ جی ہاں، وہی ونود دوا جو ہر روز رات میں ٹیلی ویژن پر ملک میں ہونے والے دن بھر کے واقعات کا کچا چھٹا سچ سچ آپ کے سامنے کھول دیتا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ اقتدار والوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ اکثر اس نے اپنی حق گوئی کا خمیازہ بھی بھگتا ہے۔ اس پر آئے دن مقدمات بھی دائر ہوئے۔ ابھی کوئی سال بھر قبل ہماچل پردیش کی بی جے پی حکومت نے ان کو ملک کا غدار ٹھہرایا اور ان پر مقدمہ دائر کیا۔ ابھی چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے انہیں اس معاملے میں باعزت بری کر دیا۔

اس بے باک اور ایماندار شخص کو فرقہ پرستی سے سخت نفرت تھی۔ اسی لئے وہ فرقہ پرست طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ وہ گجرات کے فسادات ہوں یا کسی کی موب لنچنگ، ونود دوا تڑپ اٹھتا تھا اور رات نو بجے اپنے پروگرام میں سب کچھ کہہ دیتا تھا جو دوسرے صحافی کہنے سے گریز کرتے تھے۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔ کیونکہ ان کے والد بٹوارے کے وقت سرحد کے اس پار پنجاب سے گھر بار لٹوا کر دہلی آئے تھے۔ دہلی کے پنجابی عموماً فرقہ پرستی کا شکار ہونے کے باوجود فرقہ پرست ہو گئے ہیں لیکن ونود دوا کی زندگی میں کہیں بھی بٹوارے کی تلخی کا سایہ تک نہیں تھا۔ اور یہ بات ان کے ٹی وی شوز میں بالکل عیاں تھی۔


ونود اردو ادب و شاعری کا دلدادہ تھا۔ شاید ہی اس کا کوئی ٹی وی شو ہوگا جس میں وہ کم از کم اپنی بات ایک اردو کے معیاری شعر کے ذریعہ اپنے ناظرین کو ناسمجھاتا ہو۔ میں نے یونہی ایک بار پوچھا ونود صاحب یہ اردو کہاں سیکھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ارے بھائی میں چاندنی چوک میں پلا بڑھا اور پرانی دہلی میرا گہوارا رہا ہے۔ سن 1950 کی دہائی میں غربت کے درمیان پرانی دہلی میں انہوں نے نہ صرف اسکولی تعلیم حاصل کی، بلکہ چاندنی چوک، جامع مسجد اور اردو بازار جیسے علاقوں کی اردو زبان ان میں رچ بس گئی اور اردو اس کے پروگرام کا اٹوٹ حصہ بن گئی۔

صرف یہی نہیں کہ وہ پرانی دہلی کی زبان اور وہاں کی گنگا-جمنی تہذیب میں رچا بسا تھا، بلکہ ونود تو شاہجہاں آباد کے مغلائی کھانوں میں بھی ڈوبا ہوا تھا۔ پرانی دہلی میں نہاری کہاں سب سے اچھی ملتی ہے، بریانی اور کباب کہاں کے سب سے بہتر ہیں، وہ یہ بھی خوب جانتا تھا اور ان کا لطف بھی اٹھاتا تھا۔ ارے ونود نے تو کھانوں پر ایک ٹی وی شو کر ڈالا تھا، جو این ڈی ٹی وی پر مہینوں تک چلا، جس میں اس نے سارے ہندوستان میں گھوم گھوم کر رنگا رنگ کھانوں کی داستان ہندوستان اور پوری دنیا کو سنائی۔


ونود محض ایک کہنہ مشق صحافی ہی نہیں تھا بلکہ وہ ہمہ جہت شخصیت کا حامل بھی تھا۔ اردو، پنجابی ادب پر اس کی استادوں سے بہتر گرفت تھی جو اس کے پروگراموں میں صاف جھلکتی بھی تھی۔ وہ بہترین میوزک اور گانوں کا ایسا شوقین تھا کہ ایک عرصے تک اس کے گھر پر ہر سنیچر کی رات میوزک کا پروگرام ہوتا تھا۔ جس میں ہر کسی کے لئے اس کا گھر کھلا رہتا تھا۔ وہ خود گاتا اس کی بیوی گاتی اور جس کا جی چاہے وہ گاتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ ایک بہترین مہمان نوازی کا رول بھی ادا کرتا۔ وہ اچھے لطیفوں کا بھی شوقین تھا، جہاں ملتا ایک لطیفہ ضرور سناتا تھا۔

یہ تھیں اس کی شخصیت کی وہ چند صفات، جن کا صحافت سے لینا دینا نہیں تھا، بطور صحافی وہ بے نظیر تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ ہندوستان کو ہندی اور اردو صحافت کا سبق سکھانے والا صحافی تھا۔ جب دوردرشن نے ہندی پروگرام شروع کئے، بس تبھی سے وہ ٹی وی میں کود پڑا۔ پھر دوردرشن پر بھی این ڈی ٹی وی کے مالک پرنوئے رائے کے ساتھ اس نے نیوز پروگرام شروع کرائے، جلد ہی سارے ملک میں اس کی ٹی وی صحافت کے ڈنکے بجنے لگے۔ پھر کون سا ایسا پرائیویٹ چینل تھا جس نے ونود کو اپنے ٹی وی پروگرام میں نا لیا ہو۔ این ڈی ٹی وی سے لے کر انڈیا ٹوڈے، زی ٹی وی، سہارا ٹی وی کون سا چینل ایسا ہے کہ جو ونود کی صحافت کے بنا چلا پایا ہو۔ لیکن وہ جہاں گیا اس نے چینل کی نہیں بلکہ اپنی خود کی آزاد صحافت کی، کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے۔ اگر کسی چینل مالک نے اس پر ذرا سا دباؤ ڈالا، وہ شرافت سے بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے چینل چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ لیکن وہ فن صحافت میں ایسا یکتا تھا کہ ایک چینل سے نکل کر دوسری رات دوسرے چینل پر چمکتا تھا۔


ایسا ہمہ جہت اور حق گو صحافی جب محض 67 سال کی عمر میں چلا جائے تو صرف تکلیف ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کو پُر کرنا ناممکن سا لگتا ہے۔ ونود اور اس کی اہلیہ چِنّا دوا دونوں کوئی 6 ماہ قبل کورونا وائرس کے شکار ہوئے اور دونوں کو اس منحوس وبا نے نگل لیا۔

ونود تم کو بھلا پانا ناممکن ہے اور آج کے دور میں تمہاری اصولی صحافت کی کس قدر ضرورت ہے اس کا اندازہ لوگوں کو تمہاری غیر موجود میں ہوگا۔

ایسے مرد حق اور بے باک صحافی ونود دوا کو آخری سلام۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Dec 2021, 6:11 PM