طنز و مزاح: مسلم احتجاجیوں کی کپڑوں سے شناخت کرنے والے کمزور بینائی والے سنگھی... وشنو ناگر

کشمیر میں فوج لگا کر، انٹرنیٹ اور فون سب بند کر کے انہیں لگا کہ ان کی بینائی اب مضبوط ہے اور یہ شہریت ترمیمی بل لے آئے، بل قانون بنا تو انہیں لگا ان کی بیمار آنکھوں کی روشنی حقیقی اور باقی سب دھوکہ ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشنو ناگر

ڈاکٹر تو خیر انہیں بہت پہلے اور کئی بار بتا چکے تھے مگر بہتوں کو شاید اب معلوم ہوا ہے کہ مودی-شاہ برادران کی دونوں آنکھیں کمزور ہیں اور یہ دونوں موتیا بِند کا شکار ہیں۔ آج سے نہیں بلکہ گجرات کے دنوں سے ہے۔ کچھ کا دعوی ہے کہ یہ بیماری سنگھ میں شامل ہونے سے پہلے سے موجود ہے۔ ابتدا میں بہت سے لوگوں نے انہیں علاج کروانے کا مشورہ دیا لیکن جواب یہ ملا کہ سنگھ خود ہی موتیا بند کے مرض میں مبتلا ہے، لہذا ہم اور سنگھ کے موتیابند کی خوب جمےگی۔ موتیابند اگر پہلے سے موجود نہیں ہے یا جلد ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پھر کسی کو سنگھ میں داخلہ نہیں ملتا اور اگر مل بھی جاتا ہے تو کیریئر نہیں بنتا! ہمیں بنانا ہے کیریئر- گدھوں کی طرح بدن نہیں توٹتے رہنا ہے۔ موتیابند ہمارے لئے مناسب ہے، تو ہم علاج کیوں کرائیں؟

اور سنیے جناب! ایک بار جب کسی کو سنگھی موتیابند ہو جائے تو کالے، زعفرانی اور خاکی کے علاوہ کسی اور رنگ کی موجودگی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ یہ رنگ ہی روشنی کے مانند ہو جاتے ہیں۔ حقیقی روشنی کی ضرورت سیکولرازم کے حامیوں کو ہوتی ہے۔ ہماری ذہانت کی زیادہ سے زیادہ ترقی سنگھ میں داخل ہوتے ہی ہو جاتی ہے۔ ہمیں مستقل طور پر پڑھنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم علم دیتے ہیں، وہ اپنی زندگی علم کے حصول میں صرف کرتے ہیں۔ کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، ہم ان کے کپڑے چھین کر انتخابات جیت جاتے ہیں۔ ہم وزیر، وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم بن جاتے ہیں اور یہ غریب ہم سے ہی نام نہاد دانشور اور اربن نکسل کا خطاب پاتے ہیں۔ جب ہم طاقت کی اونچی سیڑھیوں پر چڑھتے ہیں، دوسروں کو دھکیلتے اور کچلتے ہیں، تو پھر وہ لوگ جو ہمیں علم دینے کی جرأت کرنے والے سمجھے جاتے ہیں کہ اب انہیں علم دیا گیا تو وہ آنکھیں پھڑوا دیں گے، سر کچلوا دیں گے۔

یہ اسی موتیابند کی حکمت کی رونق ہے کہ جنہوں نے بھی انہیں سمجھایا کہ کشمیر سے 370 کو مت ہٹاؤ، ان کو انہوں نے سبق سکھا دیا۔ ان کے گلے کی آواز گھونٹ دی۔ فوج لگاکر انٹرنیٹ اور فون سب کچھ بند کرنے میں کامیابی کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ اب بیمار آنکھوں میں روشنی آ گئی ہے۔ انہوں نے اپنی جیت کا رتھ آگے بڑھایا اور شہریت ترمیمی بل لے کر آ گئے۔ جب یہ بھی پارلیمنٹ میں آسانی سے منظور ہوا تو پھر ایسا لگا کہ موتیابند کی یہ روشنی ہے اور باقی سب دھوکہ ہے! اور جب موتیابند اتنا زبردست ہو گیا تو طلباء اور لوگوں کا احتجاج دہلی سے کیرالہ تک، گجرات سے لے کر مغربی بنگال تک خود بخود پھیل جاتا ہے۔ پھر مخالفت کرنے والوں کے کپڑوں سے طلباء ہونے کی نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی بو آنے لگتی ہے۔ وزیر اعظم ہندو بن جاتے ہیں اور مخالف مسلمان ہوجاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما پاکستانی بن جاتے ہیں اور یہ قوم پرست ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد موتیابند والوں کی پولیس کینٹین، لائبریری، مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور طلباء کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ بربریت کی تمام حدود عبور کرتے ہوئے لڑکیوں کو بھی لاٹھیوں سے پیٹا جاتا۔ طلباء اور نوجوانوں پر گولی چلوائی جاتی ہے۔

جب صورت حال بہت زیادہ خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے تو پھر ڈی ڈی ڈی (ڈیبٹ، ڈسکشن، ڈیسنٹ) کی جملہ بازی شروع کر دیتے ہیں۔ موتیابندی رہنما ہوائی چیلنج پھینکنے لگتا ہے کہ کیا کانگریس پاکستان کے تمام شہریوں کو شہریت دینے کے لئے تیار ہے؟ جیسے ساری عقل ان کے حصہ میں آئی ہے اور بے وقوفی ان کے مخالفین کے حصہ میں! کل تک طالب علموں کی ان کے لباس سے شناخت کرنے والا شخص شہری نکسلیوں سے خبردار کرنے لگتا ہے۔ جب مخالفت میں اضافہ شروع ہوتا ہے تو وہ سر پھوڑ لیتا ہے، بڑبڑاتا ہے۔ انتقام لینے کا، املاک ضبط کرنے کا اعلان کرنے لگتا ہے۔ گودھرا دہرانے کی دھمکی دینا شروع کر دیتا ہے۔ موتیابند کا علاج نہیں کرواتا، موتیابند کی جے کرواتا ہے۔

Published: 22 Dec 2019, 5:11 PM