اب علماء سے دست برداری میں ہی نجات... ظفر آغا

اکیسویں صدی میں جو قوم مذہب کے نام پر سیاست کرے گی وہ پستی و تباہی کا شکار ہوگی اور اگر مسلمان جذبات کی سیاست کرے گا تو سنگھ اور بی جے پی ہندو دھرم اور ہندو مفاد کی بات کرے گیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

ظفر آغا

کبھی کبھی قوموں پر پڑنے والی آفت کچھ ہی عرصے میں نعمت بن جاتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آفت میں مبتلا قوم اپنے اوپر پڑنے والی بلا سے کوئی سبق حاصل کر کے اپنی نجات کی راہ تلاش کرتی ہے یا نہیں ۔ لیکن اگر وہی قوم غفلت کی نیند سوتی رہے تو وہ بلا پھر اسے جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔ ہم ہندوستانی مسلمانوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ اس وقت اس ملک کی اقلیت جس آفت کی شکار ہے اس کی مثال آزادی کے بعد تو کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ لیکن افسوس کہ کہیں یہ آثار نظر نہیں آ رہے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان اس آفت و بلا کا کوئی سدباب تلاش کر رہا ہے۔ ظاہرہے کہ ان حالات میں مسلم اقلیت کی زندگی موجودہ حالات میں جہنم جیسی بنتی جا رہی ہے مگر اس پر بھی شکایت کے سوا کوئی کوشش کہیں نظر نہیں آتی۔ خیر اس سے قبل کہ پریشانی کا کوئی حل تلاش ہو، یہ تو معلوم ہو نا ہی چاہیے کہ پریشانی کا سبب کیا ہے! صرف یہ روتے رہنے سے کہ ’ہائے مودی نے مار دیا ‘ تو کوئی کام بننے والا نہیں۔ تو آئیے پہلے اس بات پر نظر ڈالیں کہ ہندوستانی مسلمان اس نوبت کو کیوں پہنچا جہاں و ہ آج ہے!

یوں تو ہندوستانی مسلمان سن 1857 میں مغلیہ سلطنت کے بعد سے آج تک پسماندگی کا شکار ہے لیکن وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ آزادی کے فوراً بعد ہی فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور آئے دن کے فسادات نے قوم کو بقا کے مسائل میں الجھائے رکھا۔ لیکن سن 1990 کی دہائی میں بابری مسجد -رام مندر تنازع سے لے کر اب تک مبتلا کسی نہ کسی بلا نے مسلم اقلیت کو پریشانیوں نے سر اٹھانے کی مہلت تک نہیں دی۔ سچ پوچھیے تو اس بلائے ناگہانی کا سلسلہ شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعد سے شروع ہوا۔ ادھر طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ نے طلاق شدہ عورت کو نان ونفقہ کا حق عطا کیا اور بس ادھر سنگھ کی قیادت میں ہندو قدامت پسند اور مسلم مخالف طاقتوں کو گویا ایک نئی جان مل گئی۔ سنگھ ، بی جے پی اور اس کی تمام حامی طاقتوں نے مل کر ایک منظم سازش کے ساتھ یہ حکمت عملی بنائی کہ اس ملک میں مسلمانوں کو حاشیہ پر پہنچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اس کے ووٹ بینک کو بے معنی بنا دیا جائے۔ لیکن یہ کام ہو تو کیسے ہو! کیونکہ ہندو قوم با ذات خود ایک بہت منظم گروہ نہیں ہے ، وہ سماجی طور پر مختلف ذاتوں میں تقسیم ہے۔ ہندوؤں کو ایک منظم گروہ بنانے کا سنگھ کو واحد راستہ یہ نظر آیا کہ عام ہندو کے دماغ میں یہ بات ڈال دی جائے کہ دراصل اس ملک میں اس کا دشمن مسلمان ہی ہے۔ اس کو مسلمان کے خلاف بھڑکاؤ، اس کو مسلمان سے ڈراؤ، بس کسی طرح وہ مسلم مخالف ہو کر اپنے ذات کے مسائل بھول کر مسلمان کے خلاف ایک متحد ہندو ووٹ بینک میں منظم ہو جائے۔

شاہ بانو فیصلے کے بعد سنگھ اور بی جے پی نے اس بات کی گرہ باندھ لی اور اسی حکمت عملی کے تحت کام شروع کر دیا۔ اس حکمت عملی کے ساتھ شاہ بانو کیس کو لے کر سب سے پہلے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے مسلم عورت کے خلاف تین طلاق مسئلہ کو ظاہری طور پر مسلم عورت کے خلاف ہونے والے ظلم کے طور پر پیش کیا گیا۔ لیکن اس پوری تحریک کا مقصد یہ تھا کہ ہندوؤں کو یہ میسیج جائے کہ بیچارے ہندو کو تو محض ایک شادی کا حق حاصل ہے جبکہ مسلمان چار شادی کر سکتا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ایک وقت یہ آئے گا کہ مسلم آبادی کی یہاں اکثریت ہوگی اور یہ ملک بھی دوسرا پاکستان بن جائے گا اور بیچارہ ہندو کہیں کا نہیں رہے گا۔ تین طلاق معاملے پر سنگھ حامیوں نے اور ادھر مسلم علمء نے اس کے خلاف اس قدر شور مچایا کہ ہندو یہ سمجھنے لگا کہ مسلمانوں کی چار شادیاں اور طلاق ثلاثہ ہندو کی تمام پریشانیوں کی جڑ ہے اور یہ پیغام عام ہندؤوں تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ بس وہیں سے مسلم آبادی کا ڈر ہندو ذہنوں میں غیر شعوری طور پر پیدا ہونا شروع ہوگیا ۔

کسی بھی قوم کی ذی شعور اور ایماندار قیادت کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی حکمت عملی کا سہی تجزیہ کر اپنی قوم کے مسائل کو حل کرنےکا سد باب تلاش کرے ۔ ادھر سنگھ نے تو اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ لیکن مسلم قیادت نے اس سلسلہ میں جو طرز عمل اپنایا وہ انتہائی غیر دانشمندانہ تھا۔چونکہ طلاق ثلاثہ شرعی معاملہ تھا اس وجہ سے اس مسئلہ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ سب سے پہلے آگے آیا۔ حالانکہ اس ایشو میں اس وقت میڈیا میں پیش پیش مرحوم شہاب الدین جو کوئی عالم دین نہیں تھے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نےتین طلاق کے سلسلے میں ضد پکڑ لی کہ مسلم پارٹی اس معاملہ میں کسی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کرے گی۔ حد یہ ہے کہ اس وقت راجیو گاندھی حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو بدلنے کے لئے مجبور کیا گیا ۔ جبکہ خود پرسنل لاء بورڈ کے بقول قران طلاق ثلاثہ کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ مانتے ہیں کہ طلاق ثلاثہ بدعت ہے اور یہ رسم ختم ہونی چاہیے۔ لیکن صاحب ضد نہیں چھوڑی گئی۔ بس جناب سنگھ اور بی جے پی کو موقع مل گیا ۔ انہوں نے تین طلاق پر مسلمانوں کو بدنام کر دیا اور یہ پیغام بھی پہنچا دیا کہ مسلمان تو آبادی بڑھا کر اس ملک کو پھر سے پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔

اس طرح ہندؤوں کے ذہنوں میں مسلم دشمنی کا بیج بو دیا گیا۔ جلدی ہی سن 1986 میں بابری مسجد کا تالا کھول دیا گیا ۔ سنگھ اور بی جے پی کو رام مندر بابری مسجد کا قضیہ مل گیا۔ انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسجد تو بھگوان رام کی جائے پیدائش پر بنی ہے۔ اس کو ہٹاؤ۔ مسلمان نے جواب میں کہا کہ ہم جان دے دیں گے لیکن مسجد نہیں ہٹائیں گے۔ سنگھ کی حکمت عملی صاف تھی ،انہوں نے کہا ، دیکھا مسلمان بھگوان کا بھی احترام نہیں کر سکتے۔ ان کے پاس محلہ محلہ مسجد ہے لیکن پھر بھی یہ ہم کو رام مندر نہیں دے سکتے۔ مسلم پارٹیوں نے نعرہ تکبیر کے ساتھ مسجد کے لئے جلسے جلوس نکالنے شروع کر دیئے ۔ کچھ عرصے بعد اس مسئلہ میں وشو ہندو پریشد کو د پڑا ۔ مسلم علماء اور خود ساختہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے لیڈران اپنی ضد پر اڑے رہے، ادھر سنگھ یہ میسیج دیتا رہا کہ مسلمان صرف ہندو دشمن ہی نہیں بلکہ ہندو بھگوانوں کا بھی دشمن ہے۔ اور اس طرح مسلمانوں کے خلاف ایک کثیر ہندو ووٹ بینک تیار ہونا شروع ہو گیا ۔ آخر مسجد گئی، ہزاروں مارے گئے۔ لیکن مسلم ضد کے سبب ہندو ووٹ بینک بن کر ایسا تیار ہوا کہ آخر نریندر مودی نے ہندوستان کو مستحکم ہندو راشٹر بنا دیا۔ اور ساتھ ہی ایک منظم ہندو ووٹ بینک بن کر تیار ہو گیا جو اب باقاعدہ سماجی اور سیاسی دونوں سطح پر مسلم دشمنی پر آمادہ ہے۔

خیر ، شاہ بانو کے وقت سے اب تک ہندوستانی مسلمان جس مصیبت سے گزرا اس کا سبق کیا ہے! یہ بات واضح ہے کہ اس پورے دور میں جو بھی مسلم قیادت رہی اس کی اکثریت علماء کی تھی اور غیر علماء تھے وہ بھی شرعی لب و لہجے یا خالص مسلم جذبات کی سیاست کر رہے تھے۔ تین طلاق اللہ کا دیا ہوا حق ہے ہم نہیں بدلیں گے۔ بابری مسجد اللہ کا گھر ہے ہم کیوں ہٹائیں۔ ارے جناب سعودی عرب میں سڑک چوڑی کرنے کے لئے صحابہ کرام کی بنوائی مسجدیں گرا دی گئیں، وہاں طلاق ثلاثہ جائز نہیں، لیکن ہم یہاں نہیں بدلیں گے۔ اب نہ بابری مسجد بچی اور نہ ہی طلاق ثلاثہ کا حق۔ لیکن ردعمل کی سیاست نے ہندو راشٹر ضرور بنا دیا۔

خیر، اس طویل کہانی کا لب و لباب کیا ہے ! جناب مولوی نے مسلمان کو مروا دیا، جی ہاں شاہ بانو کے وقت سے اب تک مسلم سیاست کی باگ ڈور یا تو علماء کے ہاتھوں میں رہی یا پھر مسلم سیاست شرعی لب و لہجے وجذبات میں ہوتی رہی جس کے ردعمل میں سنگھ و بی جے پی ہندو رد عمل کی سیاست کر ایک مستحکم ہندو ووٹ بینک بنانے میں کامیاب ہوتی گئی جبکہ آج آپ دوسرے درجے کے شہری بن گئے۔ تو پھر اس بلائے ناگہانی سے بچنے کا راستہ کیا ہے! پہلی بات تو یہ واضح ہے کہ اکیسویں صدی میں جو قوم کھل کر مذہب کے نام پر سیاست کرے گی وہ محض پستی و تباہی کا شکار ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اگر مسلمان جذبات کی سیاست کرے گا تو سنگھ اور بی جے پی ہندو دھرم اور ہندو مفاد و جذبات کی بات کرے گیں اورپھر آخر اقلیت کہیں کی نہیں رہے گی۔اور مسلمانوں میں اس طرز کی قیادت کرنے کی علماء اور جذبات کی سیاست کرنے والے اویسی جیسے لیڈارن ہیں۔ اس لئے نجات کا راستہ اسی میں ہے کہ مولویوں سے نجات حاصل کیجیے ورنہ مودی سے نجات نہیں ملے گی۔ ان علماؤں نے تو سنگھ کے دربار میں حاضری لگا کر اپنی نجات کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔ آپ بھی عقل کے ناخن لیں ان سے دامن چھوڑائیں ورنہ آنے والی نسلیں بھی آپ کو معاف نہیں کرے گیں۔

Published: 5 Oct 2019, 8:10 PM