سماجی

طلاق دیں گے لیکن حق نہیں...

شوہر مار پیٹ بھی کرتا ہے تو بھی لڑکی کے والدین کی کوشش آخر تک یہی ہوتی ہے کہ شادی نہ ٹوٹے۔ لیکن کئی معاملے ایسے بھی دیکھے گئے ہیں کہ شوہر اور سسرال والے مل کر سازش تیار کرتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا

اندر وششٹھ

بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتی ہیں، وہ سب کے غموں میں شریک ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی کی بھی بیٹی غمزدہ نہیں رہنی چاہیے۔ لیکن تین طلاق کی غلط روایت کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں پر زور ڈالنے اور ہنگامہ کرنے والے ہندوؤں پر ’پَر اُپدیش کُشل بہُتیرے‘ والی بات صحیح ثابت ہوتی ہے۔ ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں۔ ہندو لڑکیوں کی جو حالت ہو رہی ہے اس کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جا رہا۔ ہندو لڑکیوں اور ان کے بچوں پر جو کچھ گزر رہا ہے اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بیوی کو طلاق دے کر شوہر فوراً دوسری شادی کرنا چاہتا ہے لیکن بیوی اور بچوں کو ان کا حق (گزارے کے لیے خرچ وغیرہ) بھی نہیں دینا چاہتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس طلاق میں لڑکے کے والدین پوری طرح شامل ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ ایسے راستے نکالتے ہیں کہ بہو اور پوتے-پوتی کو کچھ بھی نہیں دینا پڑے۔

کوئی بھی اپنی لڑکی کے لیے لڑکے کی فیملی اور گھر دیکھ کر ہی رشتہ کرتا ہے۔ اس وقت لڑکے والے اپنی اور لڑکے کی معاشی حالت اور لڑکے کے بارے میں ایسی تفصیل دیتے ہیں کہ جس سے لڑکی والے مطمئن ہو جائیں کہ ان کی بیٹی کو سسرال میں معاشی طور پر بھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

شوہر اور بیوی میں اگر اچھا رشتہ نہیں استوار ہو پاتا یا شوہر مار پیٹ بھی کرتا ہے تو بھی لڑکی کے والدین کی کوشش آخر تک یہی ہوتی ہے کہ شادی نہ ٹوٹے۔ لیکن کئی معاملے ایسے بھی دیکھے گئے ہیں کہ شوہر اور سسرال والے مل کر سازش تیار کرتے ہیں تاکہ ان کو بیوی و بچوں کو کچھ بھی نہ دینا پڑے اور آرام سے طلاق لے کر لڑکا دوسری شادی کر لے۔ ایسے میں بیوی اور بچوں کا چاہے جو بھی ہو، اس سے ان کو کوئی مطلب نہیں۔ حالانکہ ایسی بھی بہوئیں ہوتی ہیں جو شوہر کا ہی نہیں، ساس-سسر کا بھی جینا حرام کر دیتی ہیں۔

سسرال والے کچھ اس طرح تیار کرتے ہیں سازش

سازش کے پہلے قدم کے طور پر سسرال والے بیٹے و بہو کو اپنے آبائی گھر سے کرایہ کے مکان میں رہنے یہ کہہ کر بھیج دیتے ہیں کہ الگ رہنے سے تعلقات ٹھیک ہو جائیں گے۔ اس کے بعد جب بیوی مائیکہ گئی ہوتی ہے تو شوہر کرایہ کے مکان کو خالی کر غائب ہو جاتا ہے۔ مائیکہ سے واپس آنے پر یہ سب دیکھ لڑکی سسرال جاتی ہے تو وہ سسرال والے جو دنیا کے سامنے بہو کو بیٹی ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں، اسے گھر میں بھی نہیں گھسنے دیتے ہیں۔ اب لڑکی پولس میں شکایت کرتی ہے تو وہاں سے معاملہ خاتون جرائم سیل میں بھیج دیا جاتا ہے جس کی تشکیل اس لیے کی گئی تھی کہ شوہر-بیوی کو بلا کر سمجھایا جا سکے تاکہ رشتہ بنا رہے۔ حالانکہ زیادہ تر معاملوں میں وہاں وقت کی بربادی ہی ہوتی ہے۔ یہاں آ کر سسرال والے سازش کا دوسرا پتہ پھینکتے ہیں۔ سسرال والے کہتے ہیں کہ انھوں نے تو اپنے بیٹے کو ملکیت سے بے دخل کر دیا ہے، ان کا بیٹے سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔

پولس کا کردار

خاتون جرائم سیل میں کئی مہینے دھکا کھانے کے بعد بھی کوئی حل نہیں نکلنے پر وہاں سے متعلق تھانہ میں معاملہ درج کرنے کے لیے رپورٹ بھیج دی جاتی ہے۔ ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد ملزم کی گرفتاری تو دور، جانچ کے نام پر پولس کئی مہینے نکال دیتی ہے۔ ایسے میں ملزم کو عارضی ضمانت کا موقع مل جاتا ہے۔ پولس عدالت میں فرد جرم داخل کرنے میں بھی سالوں لگا دیتی ہے۔ دوسری جانب لڑکی تھانہ کا چکر کاٹتی رہتی ہے۔ عدالت میں اپنے اور بچوں کے گزارا خرچ کے لیے مقدمہ میں الجھ کر پریشان رہتی ہے۔ معاشی اور ذہنی طور پر وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ دوسری طرف سماج ہی نہیں، اپنے رشتہ دار بھی لڑکی کو ایسے نظریے سے دیکھتے ہیں جیسے کہ پورا قصور لڑکی کا ہی ہے۔ لڑکی مائیکہ میں بھی بے چاری سی بن کر رہ جاتی ہے۔

طلاق دیتے ہیں لیکن حق نہیں دیتے

اگر مان لیا جائے کہ شوہر دودھ کا دھلا ہے اور ساری کمی بیوی میں ہی ہے اور طلاق ہی واحد راستہ بچتا ہے، تو بھی بیوی اور بچوں پر قانوناً جو حق بنتا ہے وہ تو ایمانداری سے ادا کرنا ہی چاہیے۔ حق نہ دینا پڑے، اس لیے اپنے بیٹے کو بے دخل کرنا تو سسرال والوں کی ہی نیت میں کھوٹ ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کو ایسا قانون بنانا چاہیے جس سے طلاق دینے والا بیوی اور بچوں کا حق نہ مار پائے۔ حق دینے سے بچنے کے لیے بیٹے کو بے دخل کرنے کی کارروائی کو غیر قانونی تصور کیا جائے۔ لڑکی کی شادی میں والدین اپنی حیثیت سے زیادہ پیسہ لگاتے ہیں۔ لالچی، نالائق، شرابی اور لڑکی سے مار پیٹ تک کرنے والے لڑکے کو بھی لڑکی اورلڑکی کے والدین صرف اس امید سے برداشت کرتے رہتے ہیں کہ رشتہ بنا رہے۔ زیادہ تر معاملوں میں لڑکی اپنی طرف سے طلاق کے لیے پیش قدمی بھی نہیں کرتی ہے۔ لڑکی والے اتنے بے بس ہو جاتے ہیں کہ وہ چاہ کر بھی کوئی سخت قدم اپنے داماد کے خلاف نہیں اٹھاتے۔

سماج کی بھی سوچ ایسی ہے کہ ایک بار جس کے ساتھ شادی ہو گئی اس کے ساتھ ہی لڑکی کو زندگی گزارنا چاہیے چاہے شوہر میں لاکھ برائی کیوں نہ ہو۔ شوہر/سسرال سے پریشان لڑکی مائیکہ میں رہنے کی سوچے تو ’سماج بات بنائے گا‘، یہ سوچ کر لڑکی کے والدین بھی اسے اپنے ساتھ رکھنے کی ہمت نہیں کرتے۔ ایسے میں ہی لڑکی کو جب کہیں سے کوئی سہارا نہیں ملتا تو خودکشی جیسا قدم اٹھانے کو مجبور ہو جاتی ہے۔ پھر والدین پچھتاتے ہیں کہ اگر سماج کی پروا نہ کرتے تو بیٹی زندہ رہتی۔ اس لیے والدین کو بے حس سماج یا کسی دیگر کی پروا کیے بغیر اپنی پریشان بیٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ کسی کی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہونا چاہیے۔

دھوکہ

شرابی، جواری، بے روزگار ہی نہیں، نامرد اور ہم جنس پرست لڑکے کی بھی شادی لڑکی والوں کو دھوکہ دے کر لڑکے کے والدین کر دیتے ہیں۔ کئی معاملے تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ لڑکے کا کسی دیگر لڑکی سے رشتہ ہوتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی والدین لڑکے کی شادی کسی دوسری لڑکی کے ساتھ کر دیتے ہیں۔ ان کی سوچ ہوتی ہے کہ شادی کے بعد لڑکا ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن ایسا کر کے وہ بہو کی زندگی تو برباد کرتے ہی ہیں، لڑکے کے نہ سدھرنے پر بہو کو ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

بہر حال، شادی شدہ زندگی کو جنت یا جہنم بنانے میں بیوی کا بھی کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ سرف شوہر اور سسرال والے ہی بدمعاش، لالچی اور گھٹیا سوچ کے ہوں۔ کئی بار بیوی اور اس کے والدین بھی بہت گھٹیا اور لالچی ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی سوچ بھی ایسی ہی ہوتی ہے کہ لڑکا ملکیت میں سے اپنا حصہ لے کر الگ رہے۔ اس کے لیے اگر آسانی سے بات نہیں بنتی تو والدین کی شہ پر لڑکی اپنے سسرال والوں پر الزام لگانے میں کسی بھی حد تک چلی جاتی ہے۔ لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ رشتہ ٹوٹنے کا ذمہ دار لڑکا ہو یا لڑکی، اس کا خمیازہ ان کے معصوم بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔