حضرت فاطمہ زہرا خواتین کے لیے نمونۂ عمل...نواب علی اختر

اگر کوئی خاتون اپنی زندگی کو سنوارنا چاہتی ہے تو فاطمہ زہرا سے بڑھ کر کوئی نمونہ عمل نہیں مل سکتا، جو اتنا کامل ہو کہ ہر کسی کی سعادت کی ضمانت دے سکے

فاطمہ زہرا
فاطمہ زہرا
user

نواب علی اختر

یہ ایام عصمت کبری حضرت فاطمہ زہرا کی شہادت کے ایام ہیں، وہ پاک اور مقدس ذات جو ام ابیھا بھی ہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی ماں بھی ہے۔وہ فاطمہ کہ جس کی مرضی پیغمبر اکرم کی مرضی ہے اور پیغمبر کی مرضی خدا کی رضا ہے، جس کا غضب پیغمبر کا غضب اور پیغمبر کا غضب خدا کا غضب ہے۔وہ فاطمہ جس کی مادری پر ہمارے آئمہ ، جو عالم انسانیت کے کامل ترین افراد ہیں، فخر کرتے ہیں۔وہ فاطمہ جس نے اپنی مختصر سی حیات میں ہی انسانیت کو ہمیشہ کے لیے بقا عطا فرمائی۔وہ فاطمہ جس کے روشن و جلی خطبے نے چاہنے والوں اور دشمنوں کو انگشت بدندان کر دیا۔ وہ فاطمہ جس نے اپنے پدر بزرگوار کی وفات کی عظیم ترین مصیبت اور اپنے شوہر نامدار کی مظلومیت کو ، اپنے نالہ و شیون سے تمام لوگوں کو آگاہ کیا اور آج بھی وہ اندوہ ناک آواز مدینہ کی گلیوں میں گونج رہی ہے۔

جنابِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہ حضورِ اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی چہیتی بیٹی کہ جن کی تعظیم کے لئے رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم اپنی نشت سے کھڑے ہوجاتے تھے۔ دختر رسول خدا حضرت بی بی فاطمہ زہرہ کا یوم شہادت آج تمام عالم اسلام میں عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے ۔صدیقہٴ کبریٰ ، جگر گوشہ رسول، زوجہٴ علی بن ابی طالب،ام الحسنین، جنت کی عورتوں کی سردار،فاطمہ زہرا کی حیاتِ طیبہ سے نور کی ایس کرنیں جلوہ گر ہوئیں کہ رسول اسلام نے آپ کی سیرتِ طاہرہ ہر مسلمان خاتون کے لیے اسوہ قرار دی۔ جناب فاطمہ زہرا نے مادر گرامی حضرت خدیجۃ الکبرا کے وصال کے بعد اپنے بابا کی ایسی خدمت کی رسول اکرم نے انہیں امِ ابیہہ کا لقب دیا یعنی اپنے باپ کی ماں -حضرت سیدہ زہرا خانہ نبوت کے گلستان کا وہ پھول تھیں جن کی تعظیم کو رسول کھڑے ہوجاتے تھے۔ آپ کے لیے رسول اللہ نے فرمایا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔آپ کے کف کی بات آئی تو حضرت علی سے بہتر آپ کا کوئی ہمسر نہ ملا، رسول خدا نے خانہ زہرا کے سامنے کھڑے ہوکر وصیت کی کہ اے لوگو میرے بعد اس گھر کا خیال رکھنا جس میں میری بیٹی رہتی ہے۔آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے نو برس اپنے بابا کے گھر گزارے اور کل نو برس خاوند حضرت علیٗ کے گھر عبادت خدا وندی اور شوہر کی اطاعت میں بتائے،آپ کی شہادت 3 جمادی الثانی کو ہوئی۔ آپ کو پیش آنے والے مصائب کا اندازہ آج بھی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی آپ کی بے مزار قبر اطہر کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے- عالم اسلام آپ کے وصال کو ایام فاطمی کے نام سے مناتے ہیں ۔ اپ کی المناک شہادت سے عالمِ اسلام آج تک سوگوار ہے۔ آپ کے پسران و دختران میں امامِ حسن امام حسین، جناب زینب ،جنابِ ام کلثوم اور جناب محسن شامل ہیں-

سرکار دوعالم نے دنیا کو بتایھ کہ میں جو کچھ ہوں فاطمہ بھی اس کا حصہ ہیں۔ اگر میں رسول ہوں تو فاطمہ بھی میری رسالت میں شامل ہیں اگر میں رحمة اللعالمین ہوں تو فاطمہ بھی سیدة نساء العالمین ہیں، اگر میں مردوں کے لیے نمونہ عمل ہوں تو فاطمہ بھی خواتین کے لیے نمونہ عمل ہیں۔ ہمیں رسول اسلام کی تاریخ زندگی میں یہ نہیں ملتا کہ آپ نے باہر سے آنے والے کسی فرد کو اپنی جگہ پر بٹھایا ہو ، ہاں بیشک یہ کرتے تھے کہ آنے والے مہمان کی تعظیم کرنے کے لیے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے تھے لیکن کھڑے ہونے کے بعد کسی کو اپنی جگہ پر نہیں بٹھایا لیکن یہ فاطمہ زہرا کا مقام ومنصب تھا کہ جب بھی آپ رسول اسلام کی خدمت میں تشریف لاتی تھیں رسول اسلام اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے تھے اور فاطمہ زہرا کو وہاں بٹھاتے تھے ، کیونکہ وہ مقام نبوت اور مقام رسالت ہے اس مقام پر یا نبی رہ سکتا ہے یا وہ جو نبی کا شریک کار ہو۔

رسول اسلام کے اس رفتارو عمل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا کی شان ومنزلت خدا اور اس کے رسول کے نزدیک بہت بڑی ہے جو ان کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کر رہے ہیں کیونکہ رسول کا ہر قول اور فعل خدا سے منسوب ہوتا ہے وہ جو بھی کام یابات کرتے ہیں وہ خدا کی اجازت سے کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ یعنی ہمارے رسول اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتے وہ جو کچھ کہتے ہیں وحی کے مطابق گفتگو کرتے ہیں۔حضرت فاطمہ زہرا کی عظمت کے لیے یہ کافی ہے کہ امام محمد باقر کی ایک حدیث ان کے بارے میں ہے کہ ہم خدا کی جانب سے خدا کی مخلوقات پر حجت ہیں اور ہماری ماں فاطمہ زہرا ہم پر حجت ہیں۔ پس فاطمہ زہراؑ تمام عورتوں کے لیے نمونہ عمل ہیں۔اگر کوئی خاتون اپنی زندگی کو سنوارنا چاہتی ہے تو فاطمہ زہرا سے بڑھ کر کوئی نمونہ عمل نہیں مل سکتا جو اتنا کامل ہو کہ ہر کسی کی سعادت کی ضمانت دے سکے۔

آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف برائی ہی برائی نظر آتی ہے اور انفرادی برائیوں کے علاوہ اجتماعی برائیاں بھی نظر آرہی ہیں۔ انفرادی گناہ کا ذمہ دار تو وہی شخص ہوگا جس نے گناہ انجام دیا ہے لیکن اجتماعی گناہوں میں صورتحال مختلف ہے۔ اجتماعی برائی کو ختم کرنے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو کوشش کرنی پڑے گی کیونکہ یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ اس لحاظ سے خواتین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایک معاشرے کی تربیت وپرورش کریں کیونکہ ہرانسان ماں کی گود سے ہی دنیا کو دیکھتا ہے اور ماں کی تربیت کے حساب سے ہی وہ اپنی زندگی میں قدم بڑھاتا ہے۔ ماں کی گود میں صرف ایک بچہ نہیں ہوتا بلکہ یہ آئندہ کا ایک مکمل خاندان ہوتا ہے ۔اگر ماں چاہے تو اس خاندان کی اچھی تربیت کرکے معاشرے کو اچھے افراد فراہم کرسکتی ہے۔

اسی لئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ یعنی جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔اس سے دو چیزیں سامنے آتی ہیں ، ایک یہ کہ اولاد کو بتایا جائے کہ ماں کی عظمت خدا کے نزدیک بہت زیادہ ہے۔ اگر کوئی بچہ جنت حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی ماں کی پیروی کرے اور ماں کی خدمت کرے کیونکہ اکثرانسانوں کی انتہائی کوشش جنت کیلئے ہی ہوتی ہے اور جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے لہذا ہمیں آگے پیچھے بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے گھر میں ہی جنت موجود ہے اور وہ بھی سب سے پیاری اور محترم ذات، ماں کے قدموں کے نیچے لہذا ماں کا کہنا ماننا چاہیے اور اس کی کہی ہوئی باتوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ جنت حاصل کی جاسکے۔ دوسری چیز یہ کہ حدیث میں ماں کو مخاطب کیا گیا ہے یعنی کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کی عاقبت ماں کے ہاتھ میں ہے اگر ماں چاہے تو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرے اور اپنے بچوں کو جنت دے دے اور اگر اچھی تربیت نہ کرے تو اس کے بچے جنت جیسی نعمت سے محروم ہوجائیں گے خلاصہ یہ کہ جنت کا ملنا اور نہ ملنا ماں کے ہاتھوں میں ہے۔

ہمیشہ نڈر ،بے باک، سچی اور بہادر ماں ہی نڈر اور بے باک، صاف گو اور بے مثال اولاد کی پرورش کر سکتی ہے اس لیے اسلام حقوق نسواں کے بارے میں بھی زور دیتا ہے۔ اسلام امن و محبت کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کو احترام دینے کا قائل ہے لیکن ساتھ ہی امر بالمعروف نہی المنکر کا بھی حکم دیتا ہے۔ ان مندرجہ بالا سطروں کا مقصد یہ ہے کہ اسلام عورت کو انسانی زندگی کا محور گردانتا ہے اس لیے نمونہ عمل کے طور پر جناب سیدہ سلام اللہ کا کردار اس بات کا گواہ ہے کہ فاطمہ ؑ کی اولاد جیسی اولاد کائنات میں کسی کی نہیں۔ انسان کی عزت، عورت کی عزت، برائی کی نشاندہی، اچھائی کی ترغیب، عائلی زندگی میں عورت و مرد کا کردار، مظلوم کی حمایت اور ظالم کو آشکار کر کے کیفر کردار تک پہنچانا آل فاطمہ کا شیوہ ہے۔ یہ تمام اسوہ و ہ خاتون ہی اپنی اولاد میں منتقل کر سکتی ہے جو اپنی ذات میں مجسم اطاعت گزار احکام خدا وندی ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next