غریب روزہ داروں میں خوشیاں بانٹ رہے زہرہ فاؤنڈیشن کو سلام

کہیں افطار اتنا کہ بچا پڑا رہتا ہے اور کہیں ایسے غریب روزہ دار جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ زہرہ فاؤنڈیشن نے 500 سے زائد ایسے غریب روزہ داروں کے لیے پورے مہینے افطار کا انتظام کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔

رمضان کے مہینے میں افطار پارٹیاں عام بات ہیں۔ جیسے جیسے رمضان کا مہینہ اختتام کی طرف بڑھتا ہے، افطار پارٹیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ مسلمانوں سے تعلق رکھنے والی ہر مذہبی و سماجی تنظیم کسی نہ کسی دن افطار پارٹی ضرور دیتی ہے جس میں مشہور و معروف شخصیتیں، معزز لیڈران اور میڈیا سے وابستہ حضرات کی شرکت ہوتی ہے۔ یہ ایسے اشخاص ہوتے ہیں جو معاشی طور پر خوشحال ہوتے ہیں اور افطارکرنا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن ہمارے ملک میں ایسے روزہ داروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جن کے لیے افطاری کا انتظام ایک بڑا مسئلہ ہے اور کئی لوگوں کے گھروں میں افطار کی شکل میں صرف پانی موجود ہوتا ہے۔ یہ لوگ نہ افطار پارٹیوں میں مدعو کیے جاتے ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ ہاں، کچھ تنظیمیں ایسی ضرور ہیں جو جھگی جھونپڑیوں میں افطار کٹ تقسیم کرتی ہیں اور غریب و غربا کو افطار کراتی ہیں۔ ایسا ایک دن، دو دن یا تین دن ہی ہوتا ہے۔ بقیہ دن وہی فاقہ والی حالت ہوتی ہے۔

لیکن ذرا ٹھہریے... جو کام بڑی بڑی تنظیمیں نہیں کر رہی ہیں ہمارے ملک میں کچھ غیر معروف سوسائٹی و ٹرسٹ یا پھر انفرادی طور پر کچھ لوگ کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہی ایک ہے دہلی میں نوجوانوں کی ایک چھوٹی سی ٹیم۔ میں بات کر رہا ہوں ’زہرہ فاؤنڈیشن‘ کی جو ایک، دو یا تین دن نہیں بلکہ پورے رمضان جھگی جھونپڑی میں رہنے والوں اور غریب روزہ داروں کے لیے افطار کا انتظام کر رہا ہے... اور وہ بھی دس، بیس یا پچاس روزہ داروں کا نہیں بلکہ 500 سے بھی زائد لوگوں کا۔ بٹلہ ہاؤس واقع پہلوان چوک کے آگے صغرا پبلک اسکول احاطہ میں شام 6 بجے سے ہی جھگی جھونپڑی میں بسنے والے روزہ دار بچوں اور خواتین کی بھیڑ آپ کو روزانہ دیکھنے کو ملے گی جو ہاتھوں میں ایک صفحہ لیے لائن لگا کر کھڑے رہتے ہیں۔ کچھ یہی نظارہ شرم وِہار میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ’قومی آواز‘ نے جب اس پورے انتظام کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا اور صغرا پبلک اسکول پہنچا تو ’زہرہ فاؤنڈیشن‘ کے صدر محمد سیف سے ملاقات ہوئی جنھوں نے بتایا کہ ’’جھگیوں میں کئی خاندان ایسے بستے ہیں جو مالی طور پر کمزور ہیں۔ لوگ روزہ تو رکھتے ہیں لیکن افطار کا انتظام نہیں کر پاتے۔ ان کا مسئلہ حل کرنے کے مقصد سے ہم لوگوں نے کچھ مخلص افراد سے مالی تعاون لے کر ایک ایسا نظام تیار کیا جس سے پورے رمضان جھگی جھونپڑی میں رہنے والے غریب روزہ داروں کو افطار کرایا جا سکے۔‘‘ جب ’قومی آواز‘ نے ان سے یہ پوچھا کہ غریبوں کو پورے رمضان افطار کرانے کی بات ان کے ذہن میں کیسے آئی؟ تو انھوں نے کہا کہ ’’زہرہ فاؤنڈیشن کے تحت جھگی جھونپڑی میں بسنے والے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور گزشتہ سال جب فاؤنڈیشن کے اراکین نے محسوس کیا کہ ان بچوں کے والدین افطار کا انتظام نہیں کر پاتے، تو تقریباً 70-60 فیملی کو روزانہ افطار کا پیکٹ دیا گیا تھا۔ اس مرتبہ ہم نے سوچا کہ کچھ دوسرے علاقوں میں بھی غریب روزہ داروں کی افطاری کا انتظام کیا جائے، اور جب کچھ مخلص احباب و دوستوں سے تذکرہ کیا تو انھوں نے مثبت رد عمل ظاہر کیا اور پھر رمضان شروع ہونے سے پہلے غریب روزہ داروں کی پوری لسٹ تیار کر لی گئی۔‘‘

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نیک طینت طلبا پر مشتمل زہرہ فاؤنڈیشن نے افطار تقسیم کے لیے ایک منظم طریقہ اختیار کیا ہوا ہے۔ سبھی روزہ داروں کو ایک صفحہ دیا گیا ہے جس میں کل 30 خانے بنے ہوئے ہیں اور ہر دن افطار کٹ دینے کے بعد ایک خانہ میں کراس کا نشان لگا دیا جاتا ہے۔ افطاری تیار کرنے کے لیے فاؤنڈیشن نے باضابطہ دو باورچی اور تین معاون باورچی سے پورے مہینے کے لیے معاہدہ بھی کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے اس کارِ ثواب میں صغرا پبلک اسکول انتظامیہ کا بھی تعاون حاصل ہے جنھوں نے افطار تیار کرنے اور پھر پیکنگ وغیرہ کے لیے مفت میں جگہ فراہم کی ہے۔ لیکن اس پورے انتظام میں روزانہ تقریباً 30 ہزار کا خرچ آتا ہے اور زہرہ فاؤنڈیشن معاشی اعتبار سے اتنی مضبوط نہیں کہ یہ خرچ اٹھا سکے۔ اس بارے میں فاؤنڈیشن کے صدر کا کہنا ہے کہ ’’افطار کے انتظام میں سب سے بڑا مسئلہ پیسوں کا ہی ہے۔ ہمارے دوستوں و احباب کی بڑی تعداد نے مالی تعاون کیا جس کی وجہ سے شروع میں بہت آسانی ہوئی، لیکن اب ہمیں اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’زہرہ فاؤنڈیشن کے بنیادی اراکین (Core Members) یعنی جاوید، قاسم، فہد مسعود، شاغل اقبال، سیف احمد، ونکٹیش کھتری، ارشد علی اور سفیان خان نے کچھ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر رمضان سے قبل دو مہینے پر مشتمل ایک سروے کیا جس کے بعد غریب روزہ داروں کی فہرست تیار کی گئی۔ ہم نے تقریباً 700 لوگوں کو افطاری تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن معاشی مسائل کو دیکھتے ہوئے فی الحال 500 لوگوں کا ہی انتظام دیکھا جا رہا ہے۔‘‘ زہرہ فاؤنڈیشن کے عہدیداروں سے بات چیت کرنے پر پتہ چلا کہ شروع میں صغرا پبلک اسکول، شرم وِہار (نزد مدن پور کھادر) اور کنچن کنج (نزد کالندی کنج) میں افطار تقسیم کیا جاتا تھا لیکن جب پیسوں کی کمی واقع ہوئی تو کنچن کنج میں یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔

 

صحیح البخاری میں کتاب الصوم کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث درج ہے کہ ’’روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک خوشی (اللہ کے) دیدار کے وقت۔‘‘ لیکن افطار کے وقت بھی کسی روزہ دار کو بھوکا رہنا پڑے تو اس کی تکلیف کا اندازہ لگانا ان کے لیے ممکن نہیں جن کے سامنے دسترخوان پر نوع نوع کی چیزیں رکھی رہتی ہیں۔ ذرا سوچیے کہ جھگی جھونپڑی میں بسنے والے غریب روزہ دار جب اپنے بچوں کو ہاتھ میں کوپن لے کر بھیجتے ہوں گے اور وہ بچے جب افطار کا پیکٹ لے کر گھر پہنچتے ہوں گے تو ان کی خوشی کا کیا حال ہوتا ہوگا! غریبوں کو یہ ’خوشی‘ دینے کے لیے زہرہ فاؤنڈیشن کی ٹیم کو سلام۔

سب سے زیادہ مقبول