پہلی جنگ آزادی: 1857 کا مشعل بردار ’جنرل محمد بخت خاں‘...یوم شہادت کے موقع پر خصوصی پیشکش

عظیم مرد مجاہد بخت خاں جب تک دہلی میں رہے شاہی حکومت پر کبھی بار محسوس نہیں ہوئے، ان کی جنگی حکمت عملی اور فہم و فراست کا ہی کمال تھا کہ وہ اور نہ ان کی فوج کبھی انگریزی نرغے میں پھنسی

جنرل محمد بخت خاں
جنرل محمد بخت خاں
user

شاہد صدیقی علیگ

1857 کے جواں مرد اور جانباز انقلابیوں کی لامتناہی فہرست میں ایک اہم نام محمد بخت خاں کا بھی ہے جنہوں نے عزم و استقلال اورمسلسل جدوجہد سے تحریکِ آزادی کو نئی توانائی بخشی اور نامساعد حالات کا پوری دلیری سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر 11 مئی تا 19 ستمبر 1857 دلّی انقلابی حکومت کے زیر نگیں رہی تو اس کا سہرا بخت خاں کے سر جاتا ہے، جنہوں نے انگریزوں کو دھول چٹانے کے ساتھ ساتھ ان کے بغلی بچوں کو بھی ان کے افعال کی سزا دی۔

بخت خاں کا اصل نام محمد بختاور خاں خلف عبد اللہ خاں تھا۔ بخت خاں نے مروجہ تعلیم کے ساتھ فنون حرب و ضرب پر بھی قدرت حاصل کی تھی۔ انہوں نے سیل کے زیر کمان افغانستان کے شہر جلال آباد جنگ میں حصہ لیا تھا اور وہیں سے صوبہ دار مقرر ہو کر نمیچ چھاؤنی میں تعینات ہو کر آئے۔ بخت خاں حضرت مولوی سرفراز علی سے بیعت کرنے کے بعد حریت پسندی کی طرف راغب ہو گئے۔


بریلی میں طے شدہ 31 مئی 1857 کو ہی طبل انقلاب بجا اور روہیل کھنڈ پر مجاہدین نے اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ خان بہادر خاں نے مغل صوبہ دار کی حیثیت سے فرض منصب سنبھالا۔ بریلی میں انگریزوں کو دن میں تارے دکھانے کے بعد بخت خاں نے دلّی کی جانب رخ کیا۔ دگرگوں اور لاقانیت کی صورتحال میں ان کی آمد کسی فرشتہ سے کم نہ تھی۔ آخری تاجدار ہند بہادر شاہ ظفر نے بخت خاں سے کہا کہ ’تم بڑے بہادر ہو۔‘ تو جنرل نے عرض کیا میں اس عزت کا اس وقت مستحق ہوں گا کہ جب انگریزوں کو دہلی، میرٹھ اور آگرہ سے بھگا دوں گا۔

بخت خاں کو جنرل کا خطاب دے کر تمام فوج کا کمانڈر ان چیف مقرر کر دیا گیا اور انہیں 4 جولائی کو معز الدولہ فرزند اور 26 جولائی کو گورنر کے القاب سے نوازا گیا۔ بخت خان نے فورا ً شہر کوتوال کو مطلع کر دیا کہ اگر شہر میں آئندہ لوٹ مار ہوگی تو کوتوال کو پھانسی دی جائے گی اور اس نے ڈھنڈورا پٹوا دیا کہ سارے دکاندار اپنے پاس ہتھیار رکھیں اور گھر میں کوئی مرد بغیر ہتھیاروں کے نہ رہے اور جس کسی کے پاس ہتھیار نہ ہوں تو وہ ہم سے ہتھیاروں کی درخواست کرے, ہم اس کو ہتھیار مفت دے دیں گے. جو سپاہی لوٹتا ہوا گرفتار ہوگا اس کے ہتھیار لے لیے جائیں گے۔ ان کے دانشمندانہ فیصلہ سے ظل الہٰی بہت متاثر ہوئے۔ بخت خاں نے دلی میں علماء کرام کو فتویٰ شائع کرنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے پانچ بیگھہ زمین معافی دائمی حقوق ملکیت کے ساتھ ہر سپاہی کے کنبے کو عطا کرنے کی پیش کش کی تھی جو انگریزوں کے ساتھ لڑنے میں اپنی جان دے گا۔


دوران انقلاب عید الاضحی آ گئی تو انگریز اس کی آڑ میں ہندو مسلم تفریق پیدا کرنا چاہتے تھے, مگر بخت خاں نے عالم پناہ کے حکم سے 9 جولائی کو ڈھنڈورا پٹوایا کہ جو گائے ذبح کرے گا وہ توپ کے منھ سے اڑایا جائے گا۔ اس منادی سے انگریزوں کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔ جنرل بخت خاں کی رہنمائی کا شہرہ سن کر ہندوی سورما جوق در جوق دلی آنے لگے۔ جن میں ڈاکٹر وزیر خاں اور مولوی فیض احمد بدایونی بھی شامل تھے۔ انہوں نے فرنگیوں پر حملہ آور ہونے سے قبل فوج کی صفوں کو درست کرنے کے لیے لڑائی سے گریز کیا مگر ان کی بے لوث سرگرمیوں کو حکومتی ارباب اختیار انپے پیروں کی زنجیریں تصور کرنے لگے جنھوں نے اپنی نادانیوں کی بدولت بخت خاں کو نیچا دکھانے میں اپنی قوت کو ضائع کر کے خود ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری۔

ایک بارتو شہزادے مرزا مغل نے بخت خاں کی جان کے خلاف بھی سازش کی اور کچھ مخصوص سپاہیوں سے طے کیا کہ وہ راستہ میں بیٹھ جائیں اور ان کو قتل کر دیں مگر وہ اپنے ناپاک منصوبہ میں کامیاب نہ ہو سکا۔ بادشاہ سلامت بھی ایک دوسرے کی ٹوپی اچھالنے سے سخت نالاں تھے۔

بخت خاں نے یکے بعد دیگرے مورچوں پر انگریزوں کو عبرت ناک شکست دی، 3 جولائی میجر کوک کے دستہ کو چاروں ثانے چت کر دیا تھا تو 9 جولائی کو تیس ہزاری کو انگریزوں سے چھین لیا۔ جس کے بعد بخت خاں کا انگریزوں کے دلوں پہ خوف غالب ہو گیا تھا۔ مزید برآں31 جولائی کو انگریزوں کے چھکّے چھڑا دئے۔ جس کے بعد انگریزوں نے اپنے کارندوں سے 7 اگست کو بیگم ثمرو کی کوٹھی میں موجود بارود خانہ کو نذر آتش کرایا۔ 7 ستمبر کو بخت خان آخری بار دربار میں آئے اور 8 ستمبر کو قدسیہ باغ مورچہ سنبھال لیا۔ 13 ستمبر کو جنرل بخت خاں کا گولہ بارود ختم ہو چکا تھا اور وہ کمان توپ خانہ سے بارود فراہم کرنے کے لیے گزارش کر رہے تھے۔ ان کی توپ کے بند رہنے سے انگریزی توپچیوں نے کشمیری دروازے کی فصیل پر ایک بڑا شگاف ڈال دیا اور وہی دلّی کو روندنے کے لیے راہ بنی۔


بخت خاں نے بہادر شاہ ظفر کو تمام زمینی حقائق اور دلائل سے روشناس کرا کر بارہا اپنے ساتھ چلنے کی التجا کی مگر بادشاہ مرزا الہٰی بخش کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے تھے، رضامند نہ ہوئے۔ لہٰذا بخت خاں بادشاہ کو ان کے حال پہ چھوڑ کر اپنی فوج کے ساتھ مشرقی دروازے سے دریا کی جانب اتر گئے اور بدایوں ہوتے ہوئے 23 اکتوبر 1857 کو فرخ آباد پہنچے۔ جہاں نواب تفضل حسین خاں کے ساتھ خدا گنج معرکہ آرائی میں حصہ لے کر اودھ پہنچے۔ بعد ازیں جب محمدی میں عبوری حکومت قائم ہوئی تو بخت خان کو وزیر دفاع اور سپہ سالار اعظم کے عہدے پر مقرر کیا گیا۔ لیکن مولوی احمد اللہ شاہ عرف ڈنکا شاہ کی شہادت کے بعد تمام مجاہدین بکھر گئے۔ بہرکیف نئی تحقیق کی روشنی میں بخت خاں 13 مئی 1859 کو بمقام ضلع بونیر (پاکستان) انگریزوں سے لوہا لیتے ہوئے شہید ہو گئے۔

قابل ذکر امر ہے کہ عظیم مرد مجاہد بخت خاں جب تک دہلی میں رہے شاہی حکومت پر کبھی بار محسوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنی منظم فوج کو چھ مہینے کی پیشگی تنخواہ دے دی تھی۔ بخت خاں کی جنگی حکمت عملی اور فہم و فراست کا ہی کمال تھا کہ وہ اور نہ ان کی فوج کبھی انگریزی نرغے میں پھنسی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔