پریشان حال کسان غیرملکی سبزیوں سے حاصل کر رہے فائدہ

سینٹر ل سب ٹروپیکل آف ہرٹیکلچر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر شیلندر راجن کے مطابق روایتی سبزیاں کھا کر اوب چکے لوگوں میں غیر ملکی سبزیاں ،مثلاً- بروکولی، سرخ پتہ گوبھی، پوكچائی اور لٹس کو لے کر خاصی کشش ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: اس سال طویل عرصے تک مانسون کے فعال ہونے کے باوجود اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے بیرونی علاقوں کے کسان تغذیاتی اجزاء اور میڈیسنل خصوصیات سے بھرپور غیر ملکی سبزیوں کی فصل وقت سے پہلے تیار کر کے کر زبردست فائدہ حاصل کر رہے ہیں ۔

سینٹر ل سب ٹروپیکل آف ہرٹیکلچر انسٹی ٹیوٹ، لکھنؤ کے ڈائریکٹر شیلندر راجن کے مطابق روایتی سبزیاں مہینوں کھا کر اوب چکے لوگوں میں غیر ملکی سبزیاں ،مثلاً- بروکولی، سرخ پتہ گوبھی، پوكچائی اور لٹس کو لے کر خاصی کشش ہے اور اس کی دستیابی سے اس کا ذائقہ بھی بدل جاتا ہے۔ عام طور پر کسانوں کو ستمبر میں نرسریوں میں ایسی سبزیوں کے پودے تیار کرنے اور اسے کھیتوں میں لگانے کا وقت مل جاتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے سائنسداں اشوک کمار اور ایس آر کے سنگھ نے نرسری میں جلدی پودے اگانے کی تکنیک کا کسانوں کو تربیت دی ہے۔ کسانوں کو بہت کم قیمت کے سرنگ(ٹنل) میں نرسری بناکر پودوں کو اگانے اور نرم پودوں کو بچانے کی ٹیکنالوجی کی تربیت دی ہے۔ کچھ دیہات میں اس ٹیکنالوجی کو کمرشیلائز بھی ہوا ہے۔ اس کے تحت بانس اور پلاسٹک فلم سے سرنگ بنائی جاتی ہے۔ برسات کے دوران کھلے کھیت میں کلی تیار کرنا بہت مشکل امرہے۔

بہت سے کسانوں نے بروکولی، سرخ پتہ گوبھی، پوكچائی اور لٹس کی کاروباری کھیتی شروع کر دی ہے اور وہ ان نئی سبزیوں کی مارکیٹ بنانے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ اس علاقے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا غلبہ ہے جس کی وجہ سے ان سبزیوں کے بیج بہت مہنگے ہیں۔

عام طور پر غیر ملکی سبزیاں اکتوبر میں فراہم کی جا سکتی ہیں لیکن اس بار بھاری بارش اور مانسون کے طویل عرصے تک فعال رہنے کی وجہ سے کسان سبزیوں کے پودے وقت پر نہیں لگا سکے۔ بعض معاملوں میں کسان نرسریوں میں کلی بھی نہیں لگا سکے۔ کچھ جگہوں پر کسان کھلی جگہوں میں نرسری بناتے ہیں جو وہ بار بار ہونے والی بارش کی وجہ ایسا نہیں کر سکے لیکن جدید تکنیک کا استعمال کرنے والے کسان پلانٹ تیار کرنے کے ساتھ ہی اسے جلدہی کھیتوں میں لگانے میں کامیاب رہے۔

موسم گرما کے دوران جلد سبزی اگانے کے لئے اس کی ساخت میں معمولی تبدیلی کی جاتی ہے۔ کڑاکے کی سردی کے دوران شمالی ہندوستان میں بیج میں پو نکلنا کافی مشکل ہوتا ہے، جب درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے اور موسم سازگار ہوتا ہے تبھی بیج میں پو پھٹنا شروع ہوتا ہے۔کم قیمت والے ٹنل کوفارمرزفسٹ اور شیڈول کاسٹ سب پلان کے منصوبے کے تحت گاؤں/دیہاتوں میں فروغ دیا جا رہا ہے۔

کسان اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ وقت سے پہلے مارکیٹ میں سبزیوں کے آنے سے ان کی بہتر قیمت حاصل کر سکتے ہیں۔ بعد میں زیادہ مقدار میں یہ سبزیاں مارکیٹ میں آ جاتی ہیں جس کی وجہ سے مسابقت بڑھ جاتی ہے اور ان سے پہلے کے مقابلے میں اچھی قیمت نہیں مل پاتی ہے۔ برسوں سے سبزیوں کی کاشت کرنے والے کسانوں کو جلدی پوداتیار کرنے کی معلومات بھی دیجاتی ہے۔ محدود وسائل میں زیادہ آمدنی کی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی کسانوں میں مقبول ہو ر ہے ہیں۔تغذیہ اور میڈیسنل خصوصیات کی وجہ سے مستقبل میں مارکیٹ میں اس کی اچھی مانگ ہونے کا امکان ہے۔