کیرالہ سے ایکسکلوزیو... مرکز کے رویہ سے سیلاب متاثرین برہم

حیرانی کی بات ہے کہ مرکزی حکومت ایک مجسمہ پر 3000 کروڑ خرچ کر رہی ہے جب کہ کیرالہ میں سیلاب کی تباہی کے بعد پہلے محض 100 کروڑ اور پھر 500 کروڑ کی راحت کا اعلان کیا گیا۔

صرف یہ کہہ دینا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، کافی نہیں ہوگا۔ یہ سچ ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور کیرالہ میں اس سچ سے سبھی واقف بھی ہیں، لیکن شاید باقی ہندوستان کو کوئی اندازہ ہی نہیں کہ اس ساحلی ریاست میں تباہی کا منظر کتنا خوفناک ہے۔

8اگست کو سیلاب کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ کوچی ائیر پورٹ کچھ گھنٹے کے لیے بند کرنا پڑا تھا۔ کیرالہ میں یوں تو ہمیشہ اچھی خاصی بارش ہوتی ہے اور حالات قابو میں کر لیے جاتے ہیں، یا کم از کم ہم ایسا ہی سمجھتے رہے ہیں۔ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح یہاں بارش کے دنوں میں زندگی ٹھہر نہیں جاتی۔ صرف ایک چھتری لے کر ہم روز مرہ کے کام نمٹا دیتے ہیں۔ ہاں کچھ دقتیں ہوتی ہی ہیں۔ کوچی ائیر پورٹ جب کچھ گھنٹے بعد کھول دیا گیا تو لگا کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ راحت جہاں سے بھی ملنی ہے مل جائے گی، سیلاب متاثرہ لوگوں کے لیے کیمپ لگائے جائیں گے، قدرت اپنی ناراضگی کچھ کم کر لے گی۔ ہر بار ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس بار قدرت زیادہ ناراض تھی، بہت ناراض۔

انہونی نے دروازوں پر دستک دینا شروع کر دیا۔ 15 اگست کی صبح تو پمپا ندی کے نزدیکی مکانوں میں پانی داخل ہونے لگا۔ صبح میں 4 بجتے بجتے پانی گھروں میں گھس چکا تھا۔ پھر بھی سب یہی سوچ رہے تھے کہ کچھ دیر کی بات ہے پھر پانی خود بہ خود گھٹ جائے گا۔ اس سے پہلے پمپ پمپا میں سیلاب کبھی نہیں آیا تھا۔ جنوبی ساحل پر بسے الاپوزا میں تو سیلاب آنے کی پرانی تاریخ ہے، لیکن کیرالہ کے جنوبی حصے ہمیشہ سیلاب سے محفوظ رہے ہیں۔ پلاڈ، کوژی چیری، رَنی، ایڈکّی اور منّار نہ یا میدانی و اونچائی والے علاقوں میں کبھی سیلاب آیا ہی نہیں۔

بارش 14 اگست کی شب میں شروع ہوئی تھی۔ یہ ویسی نہیں تھی جیسی ہم دہلی یا ملک کے دوسرے حصوں میں دیکھتے ہیں۔ اگر مبالغہ نہ ہو تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے بالٹیاں بھر بھر کر جیسے کوئی اوپر سے پانی پھینک رہا تھا۔ اگلے 48 گھنٹے تک ایسی ہی زبردست بارش ہوتی رہی۔

15 اگست کو تو پہاڑی علاقے رَنی جانے والے راستے سیلاب سے متاثر ہو چکے تھے۔ کئی جگہ سے زمین کھسکنے کی خبریں آنے لگیں۔ چھوٹی چھوٹی نہریں و ندیاں طغیانی بھر کر باہر بہنے لگیں۔ اس وقت بھی ایسا نہیں لگا کہ پانی گھروں میں گھس جائے گا۔ کیا بچے، کیا بڑے، سبھی پانی کے اس کھیل کو دیکھنے امنڈ پڑے۔ کسی نے اس سے پہلے پانی کا ایسا بہاؤ نہیں دیکھا تھا جس سے کہ انھیں احساس ہوتا کہ یہ بہاؤ اپنے ساتھ کن خوفناک مناظر کو لے کر آ رہا ہے۔ پانی بڑھتا گیا، گھروں میں آ گیا، سڑکیں و راستے بند ہو گئے۔ لوگوں نے اپنا ساز و سامان اوپری منزلوں پر شفٹ کر دیا۔ انھیں اب بھی لگتا تھا کہ جلد ہی پانی گھٹے گا، حالانکہ 24 گھنٹے سے لگاتار بارش ہو رہی تھی۔

16 اگست ہوتے ہوتے کیرالہ کے دوسرے حصوں سے تباہی کی خبریں آنے لگیں۔ الوا تقریباً ڈوب چکا تھا۔ عام طور پر معمولی بارش کا گواہ بننے والا تھرووننت پورم سیلاب کی زد میں آ چکا تھا۔ کیرالہ کا سب سے گرم اور گندا علاقہ پلکّڈ پوری طرح ڈوبا ہوا تھا۔ کنّور اور ملپّورم کی ریاست کے بقیہ حصوں سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ یہاں کئی علاقوں میں زمین دھنسے اور لوگوں کی جانیں تلف ہوئیں۔ کنّور سے آنے والی زمین دھنسنے کی تصویروں نے سب کا دل دہلا دیا۔ کوژی کوڈ بھی گہرے پانی میں نظر آنے لگا۔ اِڈُکّی، منّار اور اٹاپاڈی جیسے پہاڑی علاقے بھی کٹ گئے اور بالکل الگ تھلگ پڑ گئے۔ لینڈ سلائیڈ نے سڑکوں کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا اور وہاں پہنچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔

تمل ناڈو کے ملاپیریار پشتہ سے پانی نہیں چھوڑا جا رہا تھا اس لیے پیریار بھی سیلاب کی زد میں آ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کوچی ائیر پورٹ اور الوا پوری بری طرح ڈوبے نظر آنے لگے۔ کبھی کبھی بند ہونے والا کوچی ائیر پورٹ اب 26 اگست تک بند رہے گا۔ اب ان کے منھ بھی بند ہو گئے تھے جو مانتے تھے کہ ایسا تو ہوتا ہی ہے۔

اس درمیان خبر آئی کہ کوچی کے نزدیک مواٹوپوجا بھی سیلاب کی زد میں آ گیا۔ خبر یہ بھی آئی کہ میناچل ندی کے کنارے بسا ’پالا‘ پانی میں ڈوب گیا ہے اور یہاں کے مشہور رکن اسمبلی کے ایم منی کی کوئی خبر نہیں ہے۔ تقریباً سبھی لیڈران سیلاب میں پھنسے لوگوں کی ہر ممکن مدد کر رہے تھے اور انھیں راحتی اشیاء بھجوا رہے تھے۔ یہاں سیاسی فائدے کی بات ہی نہیں تھی، لیکن کچھ معاملے استثنا ضرور تھے۔ سب سے پہلے ایشو اٹھایا وی ایس اچیوتانندن اور کانگریس لیڈر رمیش چنیتھالا نے۔ دونوں نے ریاستی حکومت کے ناکارے پن کی بات کی۔

جلد ہی یہ خبر بھی آئی کہ الاپوزا ضلع کا چینگانور اور وینیکولم، کوژین چیری، پلّاڈ اور نیلّاڈ پمپا ندی کے پانی میں گھِر چکے ہیں۔ فروری-مارچ میں تو پمپا ندی خشک رہتی ہے، اس حد تک کہ یہاں تو پروگرام بھی ہوتے ہیں۔ اور اب وہی ندی سیلاب کی ہولناکی لیے اپنے ساحلی پشتوں کو توڑ چکی تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب لوگوں کو لگا کہ بارش رکے گی نہیں اور اگر انھوں نے گھر نہیں چھوڑا تو سب غرق ہو جائیں گے۔

میرے زیادہ تر رشتہ داروں کے گھر سیلاب کی زد میں آ چکے تھے۔ کچھ نے سمجھداری دکھائی اور وقت رہتے گھروں سے نکل گئے۔ لیکن کافی لوگ اس وقت تک انتظار کرتے رہے جب تک کہ پانی ان کے سینوں تک نہیں پہنچ گیا۔ گاڑیاں، جانور اس وقت تک کسی کام کے نہیں رہ گئے تھے۔ جانور یا تو مر گئے تھے یا بہہ گئے تھے۔ گاڑیاں بھی اپنی جگہ چھوڑ کر تیر رہی تھیں۔

ہاں، کچھ مقامات ایسے تھے جو سیلاب سے بچے ہوئے تھے۔ لیکن وہ صرف زمینیں تھیں۔ کئی اسکول و کالجوں میں طلبا پھنسے ہوئے تھے اور مریض اسپتالوں میں پھنسے تھے۔ کھانے کے سامان ختم ہونے لگے تھے، بجلی بھی جا چکی تھی اور پانی... وہ تو صرف بہہ رہا تھا، خوفزدہ کر رہا تھا۔ اسپتالوں میں وینٹلیٹر بند کرنا پڑا تھا۔ سبھی موبائل نیٹورک ناکام ہو چکے تھے۔ ہاں، بی ایس این ایل ضرور کام کر رہا تھا۔ لیکن لوگوں کےفون لگ نہیں رہے تھے۔ جب لوگ اپنے والدین، بھائی بہنوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کی خیر خبر نہیں لے پائے تو گھبراہٹ مزید بڑھنے لگی۔ کچھ نیوز چینل ایمرجنسی فون نمبر ضرور دکھا رہے تھے جس سے لوگوں کو کچھ راحت مل رہی تھی۔

16 اگست کی شام بھی زبردست بارش ہوئی۔ بارش کی گڑگڑاہٹ کے درمیان ہم سونے چلے گئے۔ لیکن 17 اگست کی صبح کچھ خوشگوار نظر آئی۔ بارش رک چکی تھی۔ اِڈُکّی پشتہ کے ساتھ ہی کیرالہ کے کچھ دیگر حصوں میں بارش رکنے کی خبریں ملیں۔ پتھنم تھٹّا اب بھی پانی سے گھرا ہوا تھا، لیکن کچھ راحت ضرور دیکھنے کو مل رہی تھی۔

لیکن، یہ احساس اب دل میں گھر کرنے لگا تھا کہ بجلی، پانی، موبائل نیٹورک سب بند ہے۔ کیرالہ کے بقیہ حصوں میں کیا حالات ہیں، پتہ کیسے چلے گا۔ وہ دکانیں بھی خالی ہو چکی تھیں جن پر وقتاً فوقتاً ہی خریداری ہوتی تھی۔ میڈیکل اسٹور بھی بند تھے۔ راحت کیمپوں میں لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ لیکن کہیں پانی نہیں تھا۔ ہاں، کھانا سب کو مل رہا تھا لیکن بیت الخلاء کا صحیح انتظام نہیں تھا۔

اس سب کے درمیان فوجی طاقتوں کی مدد سے سرکاری امداد پہنچائی جا رہی تھی۔ کیرالہ میں گزشتہ تقریباً دو مہینے سے لگاتار بارش ہو رہی ہے۔ اس سال یہاں 257 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ لیکن 9 اگست اور 15 اگست کی بارش تو ایسی ہوئی جیسے آسمان ہی ٹوٹ پڑا تھا۔ ان دو دنوں میں 352 ملی میٹر بارش ہوئی جب کہ عام طور پر ان تاریخوں میں تقریباً 98 ملی میٹر کی ہی بارش ہوتی رہی ہے۔

پھنسے لوگوں کو نکالنے، راحت پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر، میکینائزڈ بوٹ وغیرہ لگائے گئے۔ ماہی گیروں نے بھی مدد کی۔ پولس والے اور سرکاری افسر و ملازم بغیر رکے مدد میں مصروف رہے۔ پھر بھی سب جگہ راحت اور مدد نہیں پہنچ پا رہی تھی۔ عام لوگ بھی تعاون کر رہے ہیں۔

اس درمیان مرکزی حکومت صرف بیان بازی ہی کرتی نظر آئی۔ اس کی وجہ سے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو عام لوگوں سے مدد کی اپیل کرنی پڑی۔ صرف سمجھنے کے لیے یہ جان لینا ضروری ہے کہ مرکزی حکومت ایک مجسمہ پر 3000 کروڑ خرچ کر رہی ہے جب کہ کیرالہ کے لیے پہلے 100 کروڑ اور پھر 500 کروڑ کی راحت کا اعلان کیا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اتوار تک بارش تھم جائے گی، لیکن اس سے مصیبتیں کم نہیں ہوں گی بلکہ مزید بڑھیں گی۔ بارش رکنے کے بعد بھی الاپوژا سیلاب سے گھرا رہے گا۔ وہاں مہینوں تک کسی راحت کی امید نظر نہیں آتی۔ اس کے ساتھ ہی شروع ہوگا پانی سے ہونے والی بیماریوں کا قہر جن میں ہیضہ، ڈینگو اور چکن گنیا وغیرہ شامل ہیں۔ ان لوگوں کو راحت اور معاوضہ دینا ہوگا جن کا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کیرالہ کے حالات معمول پر آنے میں کم از کم 6 مہینے لگ جائیں گے۔

سب سے زیادہ مقبول