خواتین کو ’مثالی بہو‘ بنانے کا کورس، قدامت پسندی کی راہ پر بی ایچ یو

مالویہ جب 1930 میں آرتھر روڈ جیل سے نکلے تو 50 ہزار خواتین کے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کو بے خوف اور خود کی حفاظت کرنے میں اہل ہونا چاہئے۔

بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے بانی مدن موہن مالویہ نے 1929 کی تقریب تقسیم اسناد کے دوران اپنے خطاب میں ہندوستانی خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر زور دیا۔ اسی دوران انہوں نے اپنے قریبی دوست، معاون اور بی ایچ یو کے لئے ان کے ساتھ فنڈ اکٹھا کرنے والے میرے پرنانا اور میری ماں شیوانی کے دادا کو اس بات کے لئے تیار کیا کہ وہ اپنے تین پوتے-پوتیوں، دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو رابندر ناتھ ٹیگور کے شانتی نکیتن میں پڑھنے کے لئے بھیجیں، تاکہ وہ آزادانہ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اپنے پوتے، پوتیوں کو اتراکھنڈ سے بہت دور بولپور میں بھیجا اور اپنی وصیت میں پوتیوں کوبھی بھائیوں کے ساتھ وراثت میں حصہ دیا۔ میری نانی ہمیں بتاتی ہیں کہ جب مالویہ جی 1930 میں آرتھر روڈ جیل سے باہر نکلے تو انہوں نے 50 ہزار خواتین کے ایک جلسہ سے خطاب کیا اور کہا کہ انہیں بے خوف اور خود کی حفاظت کرنے میں اہل ہونا چاہئے۔ انہوں نے ہمارے نانا کو بتایا کہ گھر میں بھلے ہی آپ کا دھرم برہمن ہو لیکن ملک میں صرف آزادی کا مذہب ہونا چاہئے اور کائنات میں انسانیت کا مذہب ہونا چاہئے۔

یہ تو ہوئی اس زمانہ کی بات، لیکن اب کیا ہو رہا ہے ذرا غور کریں، 3 ستمبر 2018 کو مالویہ جی اور میرے پرنانا کے خواب بی ایچ یو نے تین مہینے قبل ایک تربیتی کورس شروع کیا ہے جو آزادی، مساوات اور بھائی چارے کی ان اقدار کے خلاف ہے جن کی بنیاد پر آباؤاجداد نے اس ادارے کو ڈھالنا چاہا تھا۔

یونیورسٹی کے آئی ٹی آئی شعبہ کے ونیتا انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی طرف سے شروع کئے گئے اس ڈپلوما کورس میں جواں سال خواتین کو مخالف حالات کے مطابق خود کو ڈھال لینے والی بہو بننے کے ہنر سکھائے جائیں گے، تاکہ وہ ازدواجی ذمہ داریوں اور اپنے سماجی فرائض کو بحسن و خوبی انجام دے سکیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ینگ اسکلڈ انڈیا کے سی ای او نیرج شریواستو نے کہا کہ اس کورس کا مقصد سماج کے اس مشکل دور میں ایک خاص ضرورت پر توجہ دینا ہے۔

قارئین کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بنارس وزیر اعظم کا پارلیمانی حلقہ انتخاب ہے جنہوں نے ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ کی تحریک کو زور شور سے چلایا۔ بلا شبہ مثالی بہو بنانے کے مجوزہ کورس کو ان کی رضامندی حاصل ہے۔

ایک سال قبل ستمبر میں اسی یونیورسٹی کی نوعمر طالبات نے وی سی کی رہائش گاہ پر ایک تاریخی دھرنا دیا تھا۔ یہ احتجاج ان طالبات کے ساتھ ہونے والی روزانہ کی چھیڑخانی کے خلاف تھا۔ کیمپس کے اندر اور باہر پرانے اصولوں کے تحت ان کے آنے جانے کو لے کر کئی طرح کی پابندیاں تھیں اور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کئی باہری عناصر ان سے اکثر چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔

ایک ٹوئٹ میں ڈاکٹر وویک تیواری نے لکھا کہ ان کے دادا اس کورس کو دیکھ کر یقینی طور پر برہم ہوجاتے۔ وویک کے دادا ان کچھ لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 100 سال پہلے اس ادارے کی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کرنے میں تعاون کیا تھا۔

40 ہزار طلباء والی بی ایچ یو ایشیا کی ان بڑی یونیورسٹیوں میں شامل ہیں جہاں اتنے بڑے پیمانے پر رہائش کی سہولت موجود ہے۔ لیکن گزشتہ 4 سالوں سے یہ بحران کا شکار ہے۔ ایسا اس لئے ہوا کیوں کہ دائیں بازو کے مفکروں نے اسے غیر سیکولر، تنگ نظر یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لئے لگاتار دباؤ بنایا۔

میگسیسے اوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے کیمپس میں آر ایس ایس کی شاکھا کی مخالفت کرنے کی وجہ سے نکال دیئے گئے۔ اس کے فوری بعد طالبات پر پابندی کا معاملہ اٹھا، ان سے زبردستی دستخط لئے گئے کہ وہ احتجاج و مظاہرہ نہیں کریں گی اور نہ ہی کیمپس کے باہر سماجی و ثقافتی سرگرمیوں میں شریک ہوں گی۔ وہ گوشت نہیں کھائیں گی (طلبہ کھا سکتے ہیں) اور نہ ہی ایسے چھوٹے کپڑے یا اسکرٹ وغیرہ پہنیں گی جنہیں ہندوستانی تہذیب کے خلاف مانا جاتا ہے۔ طالبات کے سائبر لائبریری کے مطالبہ کو اس لئے ٹھکرا دیا گیا کیوں کہ خدشہ تھا کہ اس میں لڑکیاں فحش فلمیں (پورن موویز) دیکھیں گی۔

ایک ایسا ادارہ جس نے استحصال آمیز رسم و رواج اور صنفی تعصب کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی وہ آج ’میری بیٹی، میرا ابھیان‘ کے نام پر قدامت پسندی کی طرف گامزن نظر آ رہا ہے۔

مالویہ جی نے اپنے طلباء سے ہمیشہ کہا تھا کہ علم ہمیں آزاد کرتا ہے (سا ودیا، یا ومکتیے) آج وہ ہوتے تو ان طالبات سے کیا کہتے جو صرف اپنے شوہر کے گھر جانے اور مثالی بہو بننے کے لئے ونیتا انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن سے یہ کورس کریں گی؟۔

سب سے زیادہ مقبول