بیتے دنوں کی بات: چھڑکاؤ کا دور بھی کیا دور تھا!... سید خرم رضا
جیسے ہی مئی اور جون کی جھلسا دینے والی گرمی شروع ہوتی، گھروں کی چھتیں رات کی محفلوں کا مرکز بن جاتیں۔ دن ڈھلتے ہی ایک خاص سرگرمی شروع ہو جاتی جسے ہم ’چھڑکاؤ‘ کے نام سے جانتے تھے۔

یہ وہ زمانہ ہے جب ایئر کنڈیشنر ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور رہائش کا تصور بھی آہستہ آہستہ فلیٹس، اپارٹمنٹس اور بند کمروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے یہاں تک کہ یہ چلن دیہاتوں تک پہنچ گیا ہے۔ گرمی سے بچنے کے لیے ایک بٹن دبانا کافی سمجھا جاتا ہے، اور اب اس سے آگے کی بات ہے کہ بٹن کی جگہ سینسر ہیں اور صرف کہہ دینا ہی کافی ہے۔ سبھی کھڑکیاں بند رکھ کر ٹھنڈی ہوا لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ مگر چند دہائیاں پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو ایک بالکل مختلف منظرنامہ سامنے آتا ہے، جہاں نہ ایئر کنڈیشنر تھے، نہ فلیٹس کی تہہ در تہہ عمارتیں، بلکہ کھلے آسمان تلے چھتیں تھیں، جن پر زندگی کی سادگی اور اپنائیت بسی ہوئی تھی۔
وہ زمانہ تھا جب زیادہ تر لوگوں کے اپنے ذاتی گھر ہوتے تھے، جن کی چھتیں گرمیوں میں سونے کے لیے سب سے موزوں سمجھی جاتی تھیں۔ لوگ بھی جلدی سو جاتے تھے کیونکہ لائٹ بھی نہیں ہوتی تھی اور صبح کے کام کرنے کی ذمہ داری بھی۔ جیسے ہی مئی اور جون کی جھلسا دینے والی گرمی شروع ہوتی، گھروں کی چھتیں رات کی محفلوں کا مرکز بن جاتیں۔ دن ڈھلتے ہی ایک خاص سرگرمی شروع ہو جاتی جسے ہم ’چھڑکاؤ‘ کے نام سے جانتے تھے۔ امیر طبقے میں یہ کام نوکروں کے ذمے ہوتا، جبکہ متوسط طبقے میں یہ ذمہ داری بچوں کو سونپ دی جاتی۔ دوپہر کے بعد یا شام کی شروعات سے ہی پانی کے ڈرم، بالٹیاں اور لوٹے چھت پر آ جاتے اور ٹھنڈک پیدا کرنے کا عمل شروع ہو جاتا۔
چھڑکاؤ محض پانی ڈالنے کا عمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک پورا تہذیبی اور سماجی تجربہ تھا۔ چھت پر پانی ڈالنے سے پہلے زمین کو جھاڑو سے صاف کیا جاتا، پھر آہستہ آہستہ پانی ڈالا جاتا تاکہ مٹی اور اینٹیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ سورج کی تپش سے تپتی ہوئی چھت جب پانی کے چھینٹوں سے ٹھنڈی ہوتی تو بھاپ سی اٹھتی، اور یوں لگتا جیسے گرمی نے ہار مان لی ہو۔ اس کے بعد ایک خوشگوار ٹھنڈک چھت پر پھیل جاتی جو رات بھر سکون کا باعث بنتی۔
بچوں کے لیے چھڑکاؤ ایک فرض سے زیادہ خوشی کا موقع ہوتا تھا۔ گھروں میں باقاعدہ ڈیوٹیاں لگتی تھیں کہ آج کس بچے کی باری ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بچے اس ڈیوٹی سے بچنے کے بجائے اس کے منتظر رہتے تھے۔ جس دن کسی بچے کا نام آتا، اس کی خوشی دیکھنے لائق ہوتی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ چھڑکاؤ کے دوران انہیں پانی میں کھیلنے کی آزادی مل جاتی تھی۔ کوئی بالٹی سے پانی اچھالتا، کوئی لوٹے سے چھینٹے مارتا، اور کوئی نلکے کے نیچے ہاتھ رکھ کر ٹھنڈک محسوس کرتا۔ والدین یا بڑوں کی ہلکی سی ڈانٹ کے باوجود یہ کھیل جاری رہتا، کیونکہ سب جانتے تھے کہ گرمی میں بچوں کے لیے اس سے بہتر تفریح اور کیا ہو سکتی ہے۔
چھت پر سونے کا اپنا ایک الگ ہی مزہ تھا۔ چارپائیاں یا دری بچھائی جاتیں، مچھر دانی لگائی جاتی اور تکیے قطار سے رکھ دیے جاتے۔ آسمان پر چمکتے ستارے، ہلکی ہلکی چلتی ہوا اور دور کہیں سے آتی ریڈیو یا کسی ہمسائے کی باتوں کی آواز، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے جو آج کے بند کمروں میں ممکن نہیں۔ لوگ آپس میں باتیں کرتے، دن بھر کے قصے سناتے اور بچے نیند آنے تک سوالات پر سوالات کرتے رہتے۔
اس زمانے میں ایک دوسرے کے اوپر رہائش بنانے کا تصور عام نہیں تھا۔ ہر گھر کی اپنی چھت ہوتی تھی اور چھتیں ایک دوسرے سے جڑی ہونے کے باوجود نجی زندگی کا احترام قائم رہتا تھا۔ اب تو جن کے پاس چھت کی نعمت بھی ہوتی ہے وہ بھی کبھی چھت کا رخ نہیں کرتے کیونکہ ایئر کنڈیشنر کے مزے کوئی چھوڑنا نہیں چاہتا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس دور میں کمروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کوئی جدید سہولت موجود نہیں تھی۔ نہ ایئر کنڈیشنر، نہ کولر، اور نہ ہی بجلی کی فراوانی۔ جو کچھ بھی تھا، انسان کو خود کرنا پڑتا تھا۔ پانی کا چھڑکاؤ، کھڑکیاں کھول کر ہوا کا راستہ بنانا، دن میں پردے گرا کر دھوپ روکنا۔۔۔ یہ سب فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے طریقے تھے، جو نہ صرف ماحول دوست تھے بلکہ انسان کو محنت اور صبر کا سبق بھی دیتے تھے۔
آج جب ہم ایئر کنڈیشنر میں سوتے ہیں، تو شاید ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ ہم نے کتنی سادہ خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چھڑکاؤ کی وہ خوشبو، پانی کی ٹھنڈک، بچوں کی کلکاریاں اور چھت پر سونے کا سکون۔۔۔ اور یہ سب اب یادوں کا حصہ بن چکا ہے۔ جدید سہولتوں نے ہمیں آرام تو دیا ہے، مگر اس کے ساتھ وہ اجتماعی تجربہ، وہ خاندانی قربت اور وہ فطرت سے جڑا ہوا طرزِ زندگی کہیں کھو گیا ہے۔
یہ بیتے دنوں کی بات ہے جب ہم چھڑکاؤ کے مزے لیا کرتے تھے۔ اب کسی کو موبائل وغیرہ سے فرصت ہی نہیں۔ کیا ہم ترقی کے سفر میں کچھ قیمتی چیزیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں؟ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم سہولتوں کے ساتھ ساتھ اس سادگی اور اپنائیت کو بھی یاد رکھیں، جو کبھی ہماری چھتوں پر پانی کے چھڑکاؤ کے ساتھ زندہ تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔