دہلی فساد متاثرین: بس ایک اللہ کا آسرا... ظفر آغا

اگر آپ کو مسلمان کی بے سر و سامانی پر کچھ ترس آئے تو کوئی ذریعہ نکال کر اس کو کچھ راحت ضرور پہنچائیے اور یاد رکھیے کل کو اس ملک کے مسلمان پر کہیں بھی یہ وقت پڑ سکتا ہے

تصویر بشکریہ واشنگٹن پوسٹ / الطاف قادری
تصویر بشکریہ واشنگٹن پوسٹ / الطاف قادری
user

ظفر آغا

دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں کوئی فساد نہیں ہوا تھا بلکہ وہاں خالص ’گجرات ماڈل‘ پر مسلم نسل کشی ہوئی تھی۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے، یہ بات دہلی کے تعلق سے بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے فرمائی ہے۔ اور ان کا یہ بیان حقیقت سے عاری نہیں۔ آپ پچھلے ہفتے کا ’انڈیا ٹوڈے‘ میگزین کا شمارہ اٹھائیے اور آپ کو صاف نظر آ جائے گا کہ دہلی میں ہونے والے فساد کس قدر منظم تھے اور ان کا نشانہ کس حد تک مسلمان تھے۔ میگزین کے اس شمارے میں ایک فوٹو فیچر ہے جس میں ایک تصویر اس علاقے میں کھجوری خاص حملے کے جلے ہوئے مکانوں کا دردناک منظر پیش کرتی ہے۔ اس تصویر میں تین مکان ہیں۔ ان تین مکانوں میں سے ایک بیچ کا مکان ہے جس پر مشہور و معروف ہندو نشان سواستک بنا ہوا ہے۔ یعنی بیچ والا مکان کسی ہندو فرد کا ہے۔ اس مکان سے متصل داہنے اور بائیں دو مکان ہیں جو بالکل جل کر خاک ہو چکے ہیں جب کہ بیچ والا یعنی ہندو نشان والا مکان بالکل محفوظ ہے۔ اس کے معنی صاف ہیں کہ بلوائیوں کو یہ پتہ تھا یا ان کو سمجھا دیا گیا تھا کہ ہندو ملکیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے جب کہ مسلم املاک بچنی نہیں چاہیے۔ یہی طرز کچھ گجرات فسادات کا بھی تھا کہ جہاں ہندو ملکیت کو بچانے کے لیے ان پر پہلے سے نشان لگا دیا گیا تھا تاکہ ان کو نقصان نہ ہونے پائے جب کہ پڑوسی مسلم ملکیت جل کر خاکستر ہو جائے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ ہندو جان و مال کو دہلی میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن 100 میں 90 مارے جانے اور تباہ ہونے والے مسلم ہیں۔

محض اتنا ہی نہیں، دہلی فساد کی سیاست بھی وہی ہے جو گجرات فساد کی تھی۔ یعنی گجرات فساد کی ذمہ داری گودھرا کی آڑ میں مسلمانوں کے سر منڈھ دی گئی تھی اور ان فسادات کی ہندو عوام میں مارکیٹنگ کر نریندر مودی ’ہندو ہردے سمراٹ‘ بن گئے تھے جہاں سے آخر وہ اسی امیج کے سہارے ملک کے وزیر اعظم بھی ہو گئے۔ اسی طرح ٹھیک گجرات ماڈل فسادات کا سہارا لے کر دوسرے گجراتی لیڈر شری امت شاہ اب دہلی میں ہونے والے فساد کی ذمہ داری اب مسلمانوں کے سر منڈھنے والے ہیں اور پھر مودی کی طرح اب وہ خود ’سپر ہندو‘ کی امیج بنا کر خود وہیں پہنچنے کے خواہاں نظر آ رہے ہیں جہاں مودی پہنچ چکے ہیں۔ یہ بات وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان سے واضح ہے جو انھوں نے دہلی فساد کے تعلق سے پچھلے ہفتے پارلیمنٹ میں دیا ہے۔ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں فرمایا کہ دہلی فساد ایک ’سازش‘ تھی اور اس سازش کے رچنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ بی جے پی حکومت جس بات کو سازش کہتی ہے وہ سازش رچنے والے عموماً مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس سازش کا سہرا بھی جلد ہی کسی مسلم گروہ کے سر باندھ دیا جائے گا۔ اور اس سلسلے میں سرفہرست ایک مسلم تنظیم یا پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا ذکر آنا شروع ہو گیا ہے بلکہ اس مضمون کے لکھے جاتے وقت تک پاپولر فرنٹ کے صدر اور سکریٹری دہلی میں گرفتار ہو چکے تھے۔ ان کے بارے میں یہ خبریں تھیں کہ وہ شاہین باغ دہلی میں چل رہے عورتوں کے سی اے اے مخالف دھرنے کے محرک ہیں اور خبروں کے مطابق ان کے پاس اس سلسلے میں غیر ممالک سے بڑا فنڈ بھی آیا تھا۔ اسی پاپولر فرنٹ کا ذکر لکھنؤ اور الٰہ آباد میں ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں بھی آیا تھا۔ اب امت شاہ کے بیان سے یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ پاپولر فرنٹ دہلی فساد میں بھی ملوث ہوگا۔ اور اس طرح ان فساد کی پوری ذمہ داری مسلمانوں کے سر ڈال دی جائے گی۔ پھر جیسے مودی جی نے گجرات میں ’عمل و رد عمل‘ کی تھیوری بیچ کر خود کو ہندو ہیرو بنا لیا تھا، ویسے ہی امت شاہ دہلی فساد کی سازش کرنے والوں کو سبق سکھا کر مودی سے بڑے ہیرو بننے کی کوشش کریں گے اور آج کے حالات میں وہ ’سپر ہندو‘ بن بھی جائیں گے۔

یہ تو تھے ’گجرات ماڈل‘ فساد کے دو عنصر یعنی پہلے چن چن کر مسلم جان و مال کو نقصان پہنچاؤ اور پھر اس پر ہندو سیاست کر خود ہندو ہیرو بن جاؤ۔ لیکن گجرات ماڈل فساد کا تیسرا عنصر یہ تھا کہ حکومت کی جانب سے فساد متاثرین کو کسی قسم کی کوئی امداد نہیں پہنچائی جائے گی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ وہ ہزاروں مسلم افراد جو گجرات میں بے آسرا ہو کر بھاگے تھے، ان کے لیے اس وقت نریندر مودی نے ایک کیمپ بھی نہیں لگایا تھا۔ دہلی فساد متاثرین کا بھی یہی حال ہے۔ نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی اروند کیجریوال کی دہلی حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے نہ تو ابھی تک پناہ کے لیے کوئی کیمپ لگا ہے اور نہ ہی لگے گا، کیونکہ ’سازش‘ تو مسلمانوں کی تھی تو پھر تو سزا بھی ان کو ہی ملنی چاہیے۔ دہلی کے فساد زدہ علاقے میں محض ایک کیمپ لگا ہوا ہے جو دہلی وقف بورڈ کی جانب سے لگا ہے۔ اس کا بھی حال وہی ہے جو عموماً وقف بورڈ کا ہوا کرتا ہے۔ ابھی چند روز قبل دہلی میں زبردست بارش ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں وہ کیمپ تھا وہاں ایک دریا بن گیا۔ فساد متاثرین دہلی کی اس ٹھنڈ میں کھلے آسمان کے نیچے پڑے رہے۔ وہاں نہ تو کھانے پینے کا کوئی معقول انتظام ہے اور نہ ہی کسی قسم کی منظم امداد کا کوئی ذریعہ۔ بس ازراہ ہمدردی ہمارے اور آپ کی طرح افراد جو بھی سامان مہیا کر سکتے ہیں وہ لے کر وہاں پہنچ رہے ہیں اور متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔ یہاں یہ عرض کر دوں کہ اس مدد کو مہیا کروانے میں ہندو عورت-مرد اور سکھ مسلمانوں کے ساتھ مل کر پیش پیش ہیں۔ الغرض گجرات ماڈل کے تحت دہلی فساد متاثرین کو نہ تو حکومت کی جانب سے کوئی امداد پہنچی ہے اور نہ ہی پہنچے گی۔ کیونکہ ہندوتوا سیاست میں مسلمان دوسرے درجے کا شہری ہے اور اس کو حکومت وقت سے کوئی مدد نہیں ملنی چاہیے۔ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں وہی سیاست منظر عام پر ہے۔

گجرات ماڈل فساد کا چوتھا عنصر یہ تھا کہ پولس نے اس سلسلے میں جن کو گرفتار کیا وہ بھی 99 فیصد مسلمان ہی تھے۔ ہماری خبروں کے مطابق ابھی تک دہلی میں جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں وہ بھی 99 فیصد مسلمان ہی ہیں۔ اور وزیر داخلہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں محض دہلی ہی نہیں بلکہ پڑوس میں اتر پردیش سے بھی اس سلسلے میں بڑی گرفتاریاں ہوں گے اور ان کی کثیر تعداد بھی مسلمانوں کی ہوگی۔ کیونکہ دہلی فساد میں نمایاں رول ادا کرنے والے کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج ہونا تو درکنار بلکہ ان کو دہلی پولس کی جانب سے خصوصی سیکورٹی مہیا کروا دی گئی ہے۔

الغرض دہلی میں گجرات ماڈل کی ہی نسل کشی ہوئی اور اب یہاں بھی گجرات ماڈل کی ہی سیاست ہو رہی ہے۔ شمال مشرقی دہلی کا بیچارا مسلمان بے یار و مددگار کھلے آسمان کے نیچے کسی ریلیف کی تمنا لیے اللہ سے امداد کی دعائیں مانگ رہا ہے اور وہ بھی اس کو ڈھنگ سے میسر نہیں۔ بس یوں سمجھیے اپنا گھر بار لٹوانے اور جلوانے کے بعد اب اس کے لیے اوپر اللہ ہے اور نیچے امت شاہ اور اروند کیجریوال کی بے حسی۔ اس کو کہیں سے کوئی مدد ملنے والی نہیں۔ اگر آپ کو اس کی بے سر و سامانی پر کچھ ترس آئے تو کوئی ذریعہ نکال کر اس کو کچھ راحت ضرور پہنچائیے۔ اور یاد رکھیے کل کو اس ملک کے مسلمان پر کہیں بھی یہ وقت پڑ سکتا ہے۔

Published: 15 Mar 2020, 9:01 AM