روہنگیا مسلم: آخر مسلم ممالک کے ضمیر کیوں سو رہے ہیں!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آفتاب احمد منیری

برما کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار جسے دیکھ کر پہاڑ بھی لرز اٹھے، جہاں ہر صبح خوشی و مسرت کے بجائے غم کی نئی داستان لیے ہوئے طلوع ہوتی ہے، زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود روہنگیا کے مسلمین کے اوپر تنگ ہوتی جا رہی ہے، بودھ مذہب کے پیرکار جنھیں دنیا امن و آشتی کا علمبردار تصور کرتی ہے، وہ مسلم دشمنی میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ ان کے سیاہ کارناموں کے آگے شیطان بھی شرمسار ہو جائے۔ ہر دن بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے، ان کی عزتیں پامال ہو رہی ہیں اور فضائے بسیط میں مکمل سکوت طاری ہے۔ اقوامِ متحدہ سے لے کر اقوام عرب تک سب نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔

اس فسانۂ غم کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ ساری دنیا سے ٹھکرائے ہوئے برمی مسلمان جب بنگلہ دیش جیسے کسی مسلم ملک کا رخ کرتے ہیں تو بنگلہ دیش آرمی میانمار کی فوج کے ساتھ جوائنٹ آپریشن چلا کر انھیں واپس ہونے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہاں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا آج عرب سمیت تمام اسلامی مملکتیں اتنی بے بس اور لاچار ہو چکی ہیں کہ وہ برما جیسے چھوٹے سے ملک کی اس مجرمانہ حرکت کا نوٹس نہیں لے پا رہی ہیں، یا ان کے دل ہی پتھر ہو چکے ہیں۔ جہاں تک عرب ملکوں کی جواب دہی طے کرنے کا سوال ہے، تو یہ بات ہر اہل دل کو خون کے آنسو رُلاتی ہے کہ جو عرب اتنے غیرت مند اور انسانی قدروں کے پاسدار تھے کہ ایک مظلوم عورت کی ددارسی کی خاطر عرب سے ہند آ کر سندھ کے راجہ داہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور اس عورت کے ساتھ عدل کا معاملہ کرتے ہوئے انسانیت کو سربلندی عطا کی تھی، مظلوموں کی آواز پر لبیک کہنا جن کا قومی و دینی شعار تھا، جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مقدس تعلیم کے سچے پیروکار تھے کہ ’’ظالم اور مظلوم ہر ایک کی مدد کرو، ظالم کو ظلم سے روک کر اس کی مدد کرو‘‘ آج ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے فریضے کو فراموش کر اغیار کی غلامی میں زندگی جینے پر راضی ہو چکے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یہ بات تسلیم ہے کہ آج دنیا میں ہم سیاسی اعتبار سے اتنے بااختیار نہیں کہ فوجی کارروائی کے ذریعہ میانمار کی حکومت سے بازپرس کر لیں، لیکن کیا ہم اس اقدام سے بھی قاصر تھے کہ معاشی اور سفارتی پابندیوں کے ذریعہ مسلمانوں کی قاتل میانمار حکومت کو اس شیطنت سے باز رہنے پر مجبور کر سکیں؟

جو خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں ان کی رو سے ابھی تک مالدیپ کو چھوڑ کر کسی بھی مسلم ملک نے اس طرح کی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کی تمام انصاف پسند تنظیموں نے میانمار حکومت کو لاکھوں مظلوم مسلمانوں کی تباہی و ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے، سعودی عرب جیسے بااثر مسلم ممالک محض اقوام متحدہ میں مذمتی قرارداد پاس کرانے نیز روہنگیا مسلمانوں کی مالی امداد تک خود کو محدود رکھ کر اپنے ملی فرائض سے سبکدوش نظر آتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اس مسئلہ کا سب سے پائیدار حل یہی ہے کہ سعودی عرب اور ترکی جیسے بااثر مسلم ممالک اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے میانمار حکومت کو مجبور کریں کہ وہ ہزارہا سالوں سے وہاں رہتے آ رہے روہنگیائی مسلمانوں کو وہ تمام اختیارات دے جو کہ ان کا پیدائشی حق ہے۔ علاوہ ازیں جس حیوانیت کے ساتھ مظلوم مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے ان کے ذمہ داران کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ اگر اخلاقی و ایمانی جرأت کے ساتھ مسلم حکمرانوں نے میانمار حکومت کا مواخذہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تو یقیناً روہنگیا کے مظلوم مسلمین کی مظلومیت کے دن ختم ہوں گے۔ اور وہ آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے۔ لیکن کیا اپنے کو ’اسلامی ملک‘ کہنے والے یہ ممالک روہنگیوں کی وہ مدد کر سکیں گے جو ان کو اس وقت درکار ہے!

  • (مصنف جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی میں ریسرچ اسکالر ہیں)