دو چہروں والا انسان، سماج کے لئے خطرناک

آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کے دو چہرے ہوں، جو کبھی ایک گروہ کے پاس جائے تو ایک چہرہ لے کر جائے اور دوسرے گروہ کے پاس جائے تو دوسرا چہرہ لے کر جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

زیب النساء

اگر راستہ چلتے ہوئے ایسا انسان نظر آئے جو واقعی دو چہرہ رکھتا ہو تو دل و دماغ پر کیا اثر ہوگا اور اس پر اگر نظر پڑ گئی تو نہ جانے کیا کیا احساسات دل و دماغ میں پیدا ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تو بہترین شکل و صورت میں تخلیق کیا ہے، اور جب اس کی گردن پر دو چہرے نظر آئیں تو اسے دیکھ کر کیا کیفیت ہوسکتی ہے اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کیا ایسا ہے؟ جی ہاں! ایسا ہے۔ حقیقتاً انسان دو چہروں کا ہوتا ہے، اس کا ایک چہرہ تو وہ ہوتا ہے جو سامنے ہوتا ہے اور دوسرا چہرہ وہ ہوتا ہے جو سامنے نہیں ہوتا، وہ چھپا ہوتا ہے۔ بظاہر ایک انسان اپنے چہرہ سے متقی نظر آسکتا ہے اور نیک و صالح دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اپنے چھپے ہوئے چہرے سے وہ ایک شیطان بھی دکھائی دے سکتا ہے۔

ایک آدمی اپنے سادہ چہرے سے بہت نیک اور مسکین نظر آسکتا ہے اور سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اس کا دوسرا چہرہ ایک دھوکہ دینے والے کا اور تکلیف پہنچانے والے کا ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے دو چہرے والے انسان کبھی اچھا انسان نہیں کہا جاسکتا ہے، کیونکہ وہ ایک چہرہ سے کسی کے سامنے دوستی کا دم بھرتا ہے اور دوسرے چہرے سے اس کی دشمنی کا عزم ظاہر کرتا ہے اور اس کے دشمنوں سے جا ملتا ہے۔ ایسا انسان قوم کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے اور گھر اور خاندان کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے اور ملک کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔

اسی کو شاید شاعر نے اس طرح کہا:

دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا

سراپا موم ہو یا سنگ ہو جا

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے انسان کے بارے میں جس کے دو چہرے ہوں مذہب کیا کہتا ہے۔ تو آسمانی مذاہب میں دو چہرے والے انسان کو کبھی بھی اچھا اور فائدہ پہنچانے والا نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ اس کو نقصان اور ضرر پہنچانے والا فرد قرار دیا گیا، کیونکہ وہ ایک طرف اپنے آپ کو بھی دھوکہ دے رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف سماج کو بھی دھوکہ دے رہا ہوتا ہے۔ ان دو چہرے والے آدمی کی عجیب و غریب شکل بتائی گئی ہے۔

آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کے دو چہرے ہوں، جو کبھی ایک گروہ کے پاس جائے تو ایک چہرہ لے کر جائے اور دوسرے گروہ کے پاس جائے تو دوسرا چہرہ لے کر جائے۔ یہ سماج کی ایک ایسی تصویر کھینچی گئی ہے کہ اگر سماج میں ایسا فرد ہو تو اس سے سماج کو کتنا نقصان پہنچے گا اور گھر اور خاندان کو کتنا نقصان پہنچے گا جس کے دو چہرے ہوں، جو کبھی ادھر ہو اور کبھی اُدھر۔ موجودہ اصطلاح میں جسے ڈبل کراس ایجنٹ کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے ملک کے لیے بھی جاسوسی کرتا ہے اور دوسرے ملک کے لیے بھی جاسوسی کرتا ہے۔ اسی لیے وہ ڈبل کراس کہلاتا ہے۔

مذہب اور اخلاق دونوں ہی دو رنگی کو پسند نہیں کرتے بلکہ وہ انسان کو سیدھی راہ پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ دو چہرے والا فرد شیطانی طاقتوں کا اسیر اور ان کا غلام ہوتا ہے۔ شاید اسی کو منافق بھی کہتے ہیں جو نہ ادھر ہے اور نہ ادھر، نہ اسلام میں ہے اور نہ کفر میں۔

next