سر سید احمد خاں کی زندگی کے چند نمایاں پہلو

.راج موہن گاندھی

قومی آواز
قومی آواز
user

قومی آوازبیورو

سرسیداحمدخاں کو برصغیر میں مسلم علیحدگی پسندی کا بانی قرار دے کر کوئی انھیں اچھا کہتا ہے اور کوئی برا۔ انھیں اسلام کی تجدید اورنئی تعبیر و تشریح پیش کرنے والے کی حیثیت سے کبھی ہدف ملامت بنایاجاتا ہے تو کبھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔تقریباً ایک صدی گزرجانے کے بعد بھی ان کا نام مع القاب و آداب (سرسید) پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔

سیداحمدخاں کے والد میرمتقی نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیارکرلی تھی۔ سیداحمد کی ساخت و پرداخت اور تعلیم و تربیت ان کے ناناخواجہ فرید کے سایۂ عاطفت میں ہوئی۔ سرسید پر ان کے والد سے زیادہ ان کے نانا اور ان کی والدہ عزیز النساء کے اثرات مرتب ہوئے۔ اگرچہ ان کے والدمیرمتقی نے بھی انھیں صوفیانہ روایت سے وابستہ کرنے میں اپنا رول ادا کیا بقول کرسچپن ٹرال یہ وہی صوفیانہ تصورات ہیں جن کی چھاپ ان کے مذہبی افکار پر آخر دم تک قائم رہی۔ خواجہ فرید ایک صاحب امارت انسان تھے۔ ان کی وسیع و عریض حویلی میں ایک دیوان خانہ بھی تھا جس میں وہ اپنے گھر کے بچوں کو درس دیا کرتے تھے۔ملوک چند خواجہ فرید کا ایک دیرنہ ملازم تھا، جسے انھوں نے منیجر کی حیثیت سے ملازم رکھا تھا اور اس سے وہ آخر عمر تک اہم امور میں صلاح و مشورہ کرتے رہتے تھے۔خواجہ فرید کی فراخ دلی اور وسیع المشربی کااندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنی جائیداد منقولہ و غیرمنقولہ میں سے اپنی وصیت کے مطابق ملوک چند کوبھائی کے برابرحصہ دیا۔

ان کی والدہ عزیزالنساء حیرت انگیز امتیازی خصوصیات کی حامل تھیں۔ ایک بار ایک شخص نے سیداحمد کو تکلیف پہنچائی۔ وہ اس سے انتقام لینے پر مصرتھے۔ ان کی والدہ نے ہدایت کی کہ وہ اسے معاف کردیں اور سیداحمدخاں کوبالآخر اسے معاف کرنا پڑا۔ ایک بار بچپن میں سیداحمدخاں نے ایک پرانے بوڑھے نوکر کو ایک تھپڑ ماردیا۔جب ان کی والدہ کو اس واقعہ کا پتا چلا تو انھوں نے کہا کہ یہ لڑکا اس گھر میں رہنے کے لائق نہیں ہے۔اسے فوراً گھر سے باہر نکال دیاجائے۔ جب تک یہ نوکر سے باقاعدہ معافی نہ مانگے اور وہ اسے معاف نہ کردے۔

سر سید احمد خاں کی زنگی پر مبنی ڈاکیو مینٹری فلم...

اپنے والد کے انتقال کے بعد سیداحمدنے ملازمت اختیارکرلی۔ پہلے وہ ریڈر ہوئے پھر منصف یاجونئیر جج۔ انھوں نے نہایت تندہی سے اپنے فرائض منصبی کو انجام دیا اوربرابر لکھتے بھی رہے۔ ان کو ہمیشہ یہ امید رہی کہ لکھتے رہنے سے ان کی آمدنی بڑھتی رہے گی۔

سیداحمدنے ایک کتاب آثار الصنادید کے نام سے دہلی کی یادگار عمارتوں پر لکھی اورپھر آئین اکبری مصنفہ ابوالفضل کی تدوین کی۔ بقول مجیب صاحب جو سیداحمد کی مداحی میں وہ زیادہ نہیں ہیں، یہ دونوں کتابیں اتنی وقیع ہیں جوسیداحمد کو دنیا کے عظیم دانشوروں میں شامل ہونے کامستحق بنادیتی ہیں۔ یہاں چند نکات قابل غور ہیں۔سیداحمد نے عظمت رفتہ کی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے ایران او رعرب کی سرزمین کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے آبا و اجداد کا مسکن رہ چکی تھی۔ انھوں نے دہلی کو اپنا موضوع فکربنایا اور اس کی عظمت رفتہ کے آثار ونقوش کوبقائے دوام عطاکرنے کے اسباب فراہم کئے۔ انھوں نے دہلی کے بادشاہوں کی واقعہ نگاری کرتے وقت اپنی کتاب کی ابتدا میں ہندومہاراجاؤں کویاد کیا ہے۔ امتیازی اور خصوصی مطالعے کے لئے وہ اورنگ زیب کے بجائے اکبر کا انتخاب کرتے ہیں۔

سیداحمدخاں کے معاصر شاعر مرزاغالب نے آئین اکبری پر جو تقریظ لکھی اس میں غالب نے کہا کہ اس وقت قدیم بادشاہوں کے بجائے انگریز زیادہ قابل مطالعہ ہیں۔سیداحمد نے اس تقریظ کوناپسند کیا اوراسے واپس کردیا لیکن ۱۸۵۷ء نے ثابت کردیا کہ غالب کاخیال درست تھا اورسیداحمد کواس خیال سے متفق ہونا پڑا۔

سرسید پر ۱۸۵۷ء کے اثرات:

اس تبدیلی پر دوسرے انداز سے بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سیداحمد نے ماضی کا مطالعہ کیا تھا اور اس سے ترغیب بھی حاصل کی تھی۔ وہ اپنے نانا خواجہ فرید کی طرح یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ انگریز ہندوستان پر مستقل طور سے قابض ہوگئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو قوم کا مستقبل انگریزوں سے مصالحت اورمفاہمت میں ہی مضمر ہے۔ سیداحمد کوقوم سے والہانہ عشق تھا اور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہوگئے۔ انھوں نے 1859ءمیں کہا:

’’یہ میری دلی خواہش اور خدا سے دعا ہے کہ ہماری حکومت اور ہندوستان کے لوگ باہم شیروشکر ہوجائیں۔ حکومت اورملک میں باہمی ربط سے قوم کو بھرپور تعاون ملے گا۔ اس سے 1857ءکے مکروہ اورناخوش گوار واقعات کا کرب بھی دورہوگا۔‘‘

سیداحمد نے برطانوی حکومت اور قوم کے روابط کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ انھوں نے ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں ارباب اقتدار کی غلطیوں کو واشگاف انداز میں نشاندہی کی۔ اکبراعظم کے عہد کے رعایا اورحکومت کے بہترین تعلقات کی یاددلائی۔

تصور قوم:

جہاں تک قوم کا تعلق ہے سیداحمد نے زوردیا کہ قوم کو اپنے ذہن میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انگریزوں کے فکروفن اور ان کے طریقہ کار کا صحیح ڈھنگ سے جائزہ لے سکے۔ انھوں نے کلکتہ میں 1863ء میں مسلمانوں کے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

’’ہرطالب علم اس نتیجے تک پہنچے گا کہ حق کثیرالعباد سے اور یہ کہ دنیا اس کے فرقہ، جماعت اور معاشرے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جہالت ہماری سب سے بڑی دشمن ہے۔ اگر ہندوستان کے باشندوں کو انگلستان کی عظیم طاقت کااندازہ ہوتا تو1857ء کے ناخوش گوار واقعات ہرگز رونما نہ ہوتے۔‘‘

سیداحمدخاں نے صرف ناصح مشفق کا رول اد انہیں کیا بلکہ ایک مصلح کی حیثیت سے انھوں نے عملی اقدامات کیے اور قوم کی ہلاکت و فلاکت کو دور کرنے کے لئے اسباب و وسائل فراہم کئے۔

ان وسائل میں سب سے اہم وسیلہ تعلیم کو قرار دیا۔1857ء میں مرادآباد میں سیداحمد نے ایک اسکول شروع کیا۔ پھر سید احمد کی پوسٹنگ جب غازی پور میں ہوئی تو وہاں ایک اسکول قائم کیا۔ یہ دونوں اسکول ہندو او رمسلمانوں کے مالی تعاون سے قائم ہوئے اورجاری رہے اوران دونوں اسکولوں نے ہر جماعت کے طلبا کو بلاتفریق مذہب و نسل تعلیم سے آراستہ کیا۔ اسی دوران سیداحمد نے انجیل کی ایک اردو تفسیر لکھی جس کا مقصد اسلام او رعیسائیت میں تطبیق تھی۔

1864ء میں سیدصاحب نے ٹرانسلیشن سوسائٹی قائم کی جو آگے چل کر سائنٹفک سوسائٹی کے نام سے مشہور ہوئی جس کے واسطے سے وہ مغربی اقوام کے علم و ادب سے مشرق کے بے شمار لوگوں کو روشناس کرانا چاہتے تھے۔ یہ سوسائٹی سیداحمد کے ساتھ علی گڑھ منتقل ہوگئی۔ جہاں انھیں راجہ جے کشن داس کی صورت میں ایک لائق و فائق ہندو معاون میسر ہوگیا۔ اس دور میں سیداحمد نے ایک ہی نعرہ وضع کیا۔

’’تعلیم حاصل کرو،’’تعلیم حاصل کرو،’’تعلیم حاصل کرو‘‘

یہاں یہ سوال غور طلب ہے، ان کی برطانوی حکومت سے مفاہمت اورجدید تعلیم کی تبلیغ و اشاعت کی کوششیں صرف مسلمانوں کے لئے وقف تھیں یا جملہ ہندوستانیوں کے لئے۔ انھوں نے انگریزی سیکھنی نہ چاہی۔ ان کی اردو میں (جیسا کہ دوسروں کی اردو میں) لفظ قوم سے مراد کبھی مسلمانوں سے ہے اور کبھی ہندو اور مسلمان دونوں سے۔ شاذونادر ہی اس سے مراد اسلام کی عالمی اخوت ہے۔ اگرچہ انھوں نے یہ اسلامی نقطۂ نظر بھی پیش کیا کہ:

’’یہ بات بے معنی ہے کہ ایک ایمان لانے والا کالا ہے یا گورا، ترک ہے یا ترجیک، عرب ہے یا چینی، پنجابی ہے یا ہندوستانی۔‘‘

سیداحمد نے پرجوش طریقے سے خلافت ترکی کی مخالفت کی۔انھوں نے کہا کہ:

’’ترکی خلافت کا ہم سے کوئی تعلق نہیں، ہم ہندوستان کے باشندے اوربرطانوی حکومت کی رعایا ہیں، ہندوستان کی سرزمین سے وابستہ ہیں۔‘‘

ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ:

’’لفظ ہندو کا اطلاق ان تمام لوگوں پرہوتا ہے جو کہ ہندوستان میں بستے ہیں خواہ وہ (عقیدے کے لحاظ سے) مسلمان ہوں یا ہندو۔‘‘

جب ان کے ذہن میں صرف مسلمان ہوتے تھے تو اس وقت ان کے نزدیک قوم سے مراد ہندوستان کی مسلم جماعت ہوتی تھی نہ کہ مشترکہ عقیدہ رکھنے والی پوری امت مسلمہ۔

لارڈ لارینس، وائسرائے ہند نے 1886ء میں جب انھیں گولڈ میڈل عطا کیا تھا تو اس وقت جو توصیف نامہ پڑھاگیا تھا اس میں درج کیا گیا تھا ’’کل اہل ملک کی خدمات کے صلے میں‘‘ نہ کہ مسلم جماعت کی خدمات سے متعلق۔ مرادآباد اور غازی پور کے اسکول مسلم مزاج کی بجائے ہندوستانی رنگ و آہنگ کے عکاس تھے اوریہی حال سائنٹفک سوسائٹی کا بھی تھا کہ وہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہ تھی بلکہ اس سے زیادہ تھی۔ جب 1861ءمیں تین غیرمسلم ہندوستانیوں کو وائسرائے کی لیجسلیٹو کونسل (مجلس قانون ساز) میں شامل کیا گیا تو سیداحمد نے بے کراں مسرت کا اظہار کیا اورخداوند عالم کاشکرادا کیا کہ تینوں نے نہایت ہمت واستقلال اور مستعدی اوردیانت سے اپنے فرائض منصبی کو انجام دیا۔ ان تینوں صاحبان میں سے دوپٹیالہ اوربنارس کے مہاراجہ تھے اورتیسرے سردنکر راؤ تھے ان تینوں کا تعلق اس غیرمسلم جماعت سے تھا، جس کے لئے سیداحمد دلسوزی، خلوص و تپاک اور گرم جوشی کے داخلی احساسات رکھتے تھے۔ ان کے بے پایاں اخلاص کا یہ عملی نمونہ ان کی شخصیت کی اس تصویر کو مسخ نہیں کرسکتا جو ان کی پورے ہندوستان سے مکمل وابستگی کا مظہر ہے اور جس کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں ہے۔

کچھ دوسرے عناصر بھی ایسے ہیں جو اس تصویر کی آب و تاب کو نمایاں کرتے ہیں۔ جب علی گڑھ میں سیداحمد کاتبادلہ ہوا تو انھوں نے1866ء میں یہاں برٹش انڈین ایسوسی ایشن کی تحریک شروع کی۔ یہ وہ ایسوسی ایشن تھی جس کا آغاز کلکتہ میں1851ء میں ہوا تھا اور سیداحمداس سے متاثر ہوئے تھے۔

ایسوسی ایشن کے افتتاح کے موقع پر ایک بار پھر انھوں نے کہا کہ یہ ہندوؤں اورمسلمانوں کا مشترکہ معاملہ ہے۔ اس لئے انھیں برطانوی حکمرانوں کے سامنے اپنی شکایات نہایت صفائی ،دیانت داری اورباعزت طریقے سے رکھنا چاہئے۔ پھرانھوں نے خداوند عالم کی عالم گیر ربوبیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ:

سر سید احمد خاں کی زندگی کے چند نمایاں پہلو

’’وہ یہودیوں،ہندوؤں، عیسائیوں اورمسلمانوں غرض کہ سب کا خدا ہے۔‘‘

ایسوسی ایشن کے سامنے پیش کی گئی عرض داشتوں کا تعلق تعلیمی، معاشی اورغیرفرقہ وارانہ مسائل سے تھا۔ ان عرض داشتوں میں یہ مقصد بھی پیش کیا گیا تھا کہ ایک دیسی زبان کا مسئلہ (مسلم نہیں) یونیورسٹی اترپردیش میں قائم کی جانی چاہئے جہاں آرٹس، سائنس اور دوسرے یورپی ادبیات اردو میں پڑھائے جائیں۔1887ء میں جب کہ وہ حکومت کے ملازم تھے، انھوں نے آگرہ میں منعقد ایک جشن سے واک آوٹ کرنے والوں کی سربراہی کی، کیوں کہ وہاں ہندوستانی مہمانوں کونسبتاً کم درجہ کی جگہوں پربٹھایا گیا تھا۔ ہندوؤں اورمسلمانوں نے اس واک آوٹ میں ان کا مکمل ساتھ دیا۔

ایک موقع ایسا بھی آیا جب ان کی قوم پر وارانہ تصویر دھندلی ہوگئی۔ جب بنارس میں ان کی پوسٹنگ ہوئی تو وہاں انھوں نے کچھ ایسے ہندوصاحبان کو دیکھا جو عدالتوں میں اردو کو ہندی سے بدلنے کے لئے کوشاں تھے۔ سیداحمد کے لئے اس ملک میں اردو مسلم حکومت کی یادگار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کی مشترکہ تہذیب کی زندہ علامت تھی۔ان کے جذبات کافی حد تک مجروح ہوئے اور ان کے قدیم دوست مسٹر شیکسپیئر جو بنارس بہ سلسلہ ملازمت مقیم تھے۔ پہلی بار یہ دیکھا کہ وہ ’صرف مسلمانوں کی فلاح و بہبود‘ کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔ مسٹر شیکسپیئر نے کہا کہ ’’اس سے قبل آپ ہمیشہ ملک کے تمام باشندوں کی فلاح میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘‘سیداحمد نے جواب دیا:

’’اب مجھے یقین ہوگیا کہ یہ دونوں جماعتیں کسی بھی معاملے میں مکمل خلوص قلبی کے ساتھ حصہ نہیں لیں گی۔ ان نام نہاد تعلیم یافتہ لوگوں کی بدولت دونوں جماعتوں کے درمیان تلخی ،مستقبل میں بڑھتی جائے گی۔ جو زندہ رہیں گے وہ اس منظرنامے کو ضرور دیکھیں گے۔‘‘

سیداحمد کو ایک تازہ جھٹکا اس وقت لگاجب سائنٹفک سوسائٹی کے کچھ ہندو اراکین سوسائٹی کی مطبوعات کے سلسلے میں اردوکو ہندی میں بدلنے کی تجویز پیش کی۔ سیداحمد نے دیکھا کہ یہ روش ہندومسلم اتحاد کو ناممکن بنادے گی۔ یکجہتی اور یگانگی کی یہ بنیاد (اردو) ہندوستانی املاک کی بجائے مسلم میراث سمجھی جانے لگی۔ اردو کے بے شمار مقامی لغات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہندوصاحبان نے اس زبان کوغیرملکی اثرات کا مظہر سمجھا۔اس قبیل کے ہندوصاحبان کے خیالات کو ان مسلمانوں سے تقویت ملی، جنھوں نے اردو کو عربی و فارسی الفاظ سے ٹھونس ٹھانس سے بوجھل بنادیاتھا۔

معاصر شاعر حالی نے دونوں جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہلی کی صاف اور سادہ زبان اختیار کریں، جسے دہلی کے ہندو اورمسلمان دونوں بولتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے بھی اس خیال کی تائید کی کہ اگر دونوں جماعتوں کی کوئی مشترکہ زبان ہوسکتی ہے تو وہ ایسی زبان ہوگی جس میں حالی کی ’’مناجات بیوہ‘‘ لکھی گئی ہے۔ اردو اور ہندی ایک زبان او ر دو رسم الخط کی شکل اختیار کرلیتی اگر اس قسم کی (اتحاد کی) باتوں کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ کی جاتی۔

سیداحمد اردو کے اخراج کے آثار کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوگئے،لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ تعاون اور اتحاد کے عقیدے کی بحالی کے لئے کوشاں رہے۔1969ء میں انھوں نے اپنے پہلے سفربرطانیہ کے دوران ’’ہندوستان کے مردوں اورعورتوں کے بارے میں لکھا کہ وہ حقیقتاً ایک ہیں۔‘‘

سیداحمد نے انگلستان میں 17 مہینے قیام کیا، وہاں انھوں نے ملکہ وکٹوریہ کو دیکھا، کارلائل سے ملاقات کی اورچارلس ڈکنس سے بھی آخری بار رابطہ قائم کیا۔ ڈیوک آف ارگل سے انہیں اسٹار آف انڈیا (ستارۂ ہند) کا خطاب ملا۔ انھوں نے وہاں رہ کر یہ نتیجہ نکالا کہ انگلستان کی تہذیبی برتری صرف اس لئے رہے کہ وہاں جملہ علوم و فنون ملکی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ہندوستانی دوستوں سے کہا کہ ہندوستان کی ترقی بھی یہاں کی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنانے میں مضمر ہے۔ یہ بات کوہِ ہمالیہ پر بڑے بڑے حروف میں لکھ دی جائے۔

  • بشکریہ : راحت ابرار، سابق پی آر او اے ایم یو
اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔
Published: 17 Oct 2017, 9:00 AM
next