عرس حضرت نظام الدین اولیاؒ... امن، محبت اور روحانیت کا غماز

رات کے وقت جگمگاتے ہوئے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ کا نظارہ

سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاؒ کا 714واں عرس مبارک 8 جنوری کو اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر ’قومی آواز‘ کے فوٹوایڈیٹر پرمود پشکرنا نے کئی دلکش اور روح پرور تصویریں کھینچیں۔

 
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا
تصویر پرمود پشکرنا

’’حضرت نظام الدین اولیا کے عرس میں حاضری میرے لیے دل کو سکون پہنچانے والا اور روحانیت سے بھر دینے والا ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسی تقریب تھی جہاں صرف پیار اور محبت کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا تھا، نہ مذہب کی کوئی دیوار تھی اور نہ ہی فرقہ بندی کی زنجیر۔ افغانستان، بنگلہ دیش، سوڈان جیسے ممالک سے حضرت نظام الدین کی درگاہ میں حاضری کے لیے آنے والے زائرین بھی اس طرح عقیدت کا مظاہرہ کر رہے تھے جیسے ان سب کو محبوبِ الٰہی کی درگاہ پہنچ کرچین و قرار نصیب ہو گیا ہو۔‘‘ یہ باتیں سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے 714ویں عرس میں زائرین کی حیثیت سے شامل ہوئی ارم خان نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں۔ درگاہ حضرت نظام الدین میں یہ عرس 4 جنوری سے شروع ہوا تھا جو 8 جنوری کوتزک و احتشام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

پانچ دن تک چلنے والے اس عرس میں صبح سے شام تک رونق افروز نظارہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔ صبح میں درگاہ کے صحن میں بڑے قل کی رسم ادائیگی اور اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت روح پرور ماحول قائم کرنے والا تھا۔ بلا تفریق مذہب و ملت جس طرح لوگ اپنائیت اور خلوص و محبت کا مظاہرہ آپس میں کر رہے تھے وہ قابل دید تھا۔ ارم خان اپنی گفتگو میں کہتی ہیں کہ ’’لوگوں کی زبردست بھیڑ ہونے کے باوجود کسی طرح کی افرا تفری میں نے نہیں دیکھی، سب کچھ بہت خوشگوار انداز میں ہو رہا تھا۔ لوگ چادریں چڑھا رہے تھے اور گلہائے عقیدت پیش کر رہے تھے۔‘‘ درگاہ کے انتظام و انصرام سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’’درگاہ کے چیف انچارج سید افسر علی نظامی نے بہت خوب بندوبست کر رکھا تھا اور مسلم و غیر مسلم سبھی کی ضروریات کا خاص خیال رکھا گیا۔ لنگر وغیرہ کا انتظام بھی اس طرح تھا کہ کسی طرح کی بدنظمی نہیں ہوئی۔‘‘

درگاہ کے چیف انچارج افسر علی نظامی و دیگر دعا کرتے ہوئے

درگاہ کے چیف انچارج افسر علی نظامی و دیگر دعا کرتے ہوئے

عرس کے موقع پر قوالی کا اہتمام ایک خاص کشش کا باعث ہوتا ہے جو شام میں شروع ہونے کے بعد دیر رات تک چلتا ہے۔ اس مرتبہ بھی قوالی کا پروگرام درگاہ میں کئی جگہوں پر ہوا۔ خاص طور سے نظام الدین اولیاؒ اور امیر خسروؒ کے مزار پر مشہور قوالوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ صوفی قوالی اور روحانی کلام کے لیے پوری دنیا میں مقبول ہمسر حیات نظامی نے بھی سلطان الاولیاء کے عرس پر قوالی پیش کر موجود زائرین کو مسحور کر دیا۔

’قومی آواز‘ نے جب عرس کے انتظام و انصرام سے متعلق تفصیلی جانکاری حاصل کرنے کے لیے درگاہ حضرت نظام الدین اولیاؒ سے منسلک ایک اہم شخصیت سید سہیل نظامی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے بتایا کہ ’’سب کچھ خود بخود بہ آسانی ہو جاتا ہے۔ سلطان المشائخ نے اس بات کا اشارہ بہت پہلے ہی دے دیا تھا کہ سبھی انتظامات زائرین کے ذریعہ ہی ہو جائیں گے اور ابھی تک ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔‘‘ سہیل نظامی کہتے ہیں کہ ’’یہاں حاضری دینے والے زائرین جو نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں اور جس محبت و خلوص کا مظاہرہ کرتے ہیں، سارے انتظامات بحسن و خوبی خود ہی انجام پا جاتے ہیں۔‘‘

لنگر کا انتظام و انصرام کی ذمہ داری سنبھالنے والے سید خسرو نظامی (دائیں جانب کرسی پر بیٹھے ہوئے) اور لنگر کھاتے ہوئے درگاہ میں موجود زائرین

لنگر کا انتظام و انصرام کی ذمہ داری سنبھالنے والے سید خسرو نظامی (دائیں جانب کرسی پر بیٹھے ہوئے) اور لنگر کھاتے ہوئے درگاہ میں موجود زائرین

بہر حال، ہر بار کی طرح اس بار بھی حضرت نظام الدین اولیاء کے عرس میں سید خسرو نظامی کا کردار بہت اہم ثابت ہوا۔ حضرت نظام الدین اولیاء کی بہن کے خاندان سے تعلق رکھنے والے سید خسرو نظامی لنگر کے انچارج رہتے آئے ہیں اور اس مرتبہ بھی ان کی رہنمائی میں ہی لوگوں کے درمیان اس کی تقسیم ہوئی۔ سید سہیل نظامی نے ان سے متعلق بتایا کہ ’’دنیا کے گوشے گوشے سے آئے لوگوں کا خاص خیال رکھنے اور ان کے کھانے پینے کے انتظامات کی ذمہ داری سید خسرو نظامی نے بہت اچھے انداز سے نبھائی۔ علاء الدین خلجی مسجد میں ان کے ذریعہ جس حسن انتظام کے ساتھ لنگر کی تقسیم کی گئی اس سے زائرین کو کسی طرح کی پریشانی کا احساس نہیں ہوا۔‘‘

اس بار نظام الدین اولیاؒ کے عرس میں صومالیہ، یوگانڈا، تیونیشیا، افغانستان، سوڈان جیسے ممالک سے عقیدتمندوں کی حاضری ضرور ہوئی لیکن اس بات کی کمی لوگوں نے محسوس کی کہ پاکستانی عقیدتمند کچھ سرکاری اسباب کی بنا پر عرس میں شامل نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود عرس کے موقع پر ملک اور عالم اسلام میں اخوت و بھائی چارگی کا ماحول قائم ہونے اور تشدد و شورش پسندی کے خاتمہ کے لیے اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔

سید افسر علی نظامی کے ساتھ عرس میں شریک ارم خان

سید افسر علی نظامی کے ساتھ عرس میں شریک ارم خان

جہاں تک اس مرتبہ عرس کے موقع پر ذی وقار ہستیوں کی حاضری کا معاملہ ہے، دہلی کے لیفٹیننٹ انل بیجل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد، صدر جمہوریہ ہند کے ڈپٹی پریس سکریٹری نتیش رستوگی، معروف شاعر گلزار دہلوی وغیرہ نے سلطان المشائخ کے آستانے پر حاضری دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر جمہوریۂ ہند رام ناتھ کووند کی حاضری تو نہیں ہوئی لیکن انھوں نے اپنے پیغامات بھیجے جس کو زائرین کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا۔ ان دونوں نے عرس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے خواجہ نظام الدین اولیاء کی خدمات کا اعتراف کیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی و گنگا-جمنی تہذیب کو عام کرنے کے لیے کیے گئے ان کے کاموں کی تعریف کی۔

درگاہ پر موجود زائرین

درگاہ پر موجود زائرین

واضح رہے کہ سلطان المشائخ، سلطان الاولیاء، محبوبِ الٰہی، نظام الاولیاء اور زری زر بخش جیسے القاب سے پکارے جانے والے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے والد ماجد کا نامِ گرامی حضرت سید احمد بخاری علیہ الرحمۃ اور والدہ کا نام حضرت بی بی زلیخا ہے۔ مشہور ہے کہ ابو بکر نامی ایک قوال ملتان سے دہلی پہنچا جس کی زبانی حضرت خواجہ فرید الدین چشتی گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے حالات و کمالات سن کر دل میں ان سے محبت کا ایسا شدید غائبانہ جذبہ بیدار ہوا کہ زیارت کے لیے بے قرار ہو گئے۔ ان سے ملنے حضرت نظام الدین اجودھن پہنچے اور پھر بابا صاحب کے مرید بن گئے۔ چند ماہ اپنے مرشد برحق کی خدمت میں رہ کر ان کی خصوصی توجہ اور محبت حاصل کی، پھر خرقۂ خلافت کی نعمت سے سرفراز ہو کر دہلی واپس تشریف لائے اور شب و روز یادِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔

تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء مادی دنیا کی تمام خواہشات کو ترک کر ہمیشہ روزہ اور عبادت و ریاضت میں مصروف رہنے لگے۔ دھیرے دھیرے دہلی اور اس سے باہر بھی سلطان الاولیاء کی عظمت و بزرگی کا ڈنکا بجنے لگا۔ خواجہ نظام الدین اولیا کے پاس عقیدتمندوں کا آنا جانا اتنا بڑھ گیا کہ عبادت میں خلل پڑنے لگا اور گھبرا کر ایک دن موضع حوض رانی کے قریب باغ میں جا کر یادِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ انھوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ کسی ایسی جگہ کا پتہ بتا دے جہاں تو اپنی رضا سے رکھنا چاہتا ہے۔ کچھ کتابوں میں تذکرہ ہے کہ دعا مانگنے کے بعد غیب سے آواز آئی ’’غیاث پوری تیری جگہ ہے۔‘‘ (واللہ اعلم) آج آپ بستی حضرت نظام الدین اولیاء کا جو شاندار علاقہ دیکھ رہے ہیں یہ وہی غیاث پوری ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غیب سے سلطان الاولیاء کو یہاں بسنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول