گاندھی نے کس طرح دہلی کو فرقہ وارانہ جنون سے بچایا!

100 سے زائد نمائندے، جن میں ہندو مہاسبھا، آر ایس ایس، جماعت علماء اور دیگر تنظیموں کے لوگ شامل تھے، 18 جنوری 1948 کی صبح گاندھی جی سے ملے اور امن کے لیے گاندھی جی نے جو شرطیں رکھی تھیں اسے قبول کیا۔

مہاتما گاندھی تقریباً 79 سال کے تھے جب ان کا قتل کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے 70 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ گاندھی کی عمر کے یہ 149 سال نہ صرف ہندوستانی زندگی میں بلکہ پوری دنیا کے نقشے میں ایک نتیجہ خیز اور گہری چھاپ کی طرح موجود ہیں۔

تقسیم کے درد سے پیدا فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری 144 دن انھوں نے دہلی میں گزارے تھے۔ ان دنوں بڑلا ہاؤس (بھون) ان کی رہائش گاہ تھی، جہاں ان کا قتل کیا گیا۔ آج وہ جگہ گاندھی اسمرتی، 5، تیس جنوری لین ہے۔ 15 اگست 1973 سے وہ جگہ عام لوگوں کی زیارت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گاندھی کا قتل آزاد ہندوستان کی سیکولر سوچ پر فرقہ وارانہ سوچ کا ایک حملہ تھا۔

1947-48 کی دہلی کو فرقہ وارانہ تشدد نے ایک چیخ میں تبدیل کر دیا تھا۔ یقینی طور پر ان حالات کے پیچھے غیر انسانی عمل اور ظالمانہ جرائم کا ایک پورا سلسلہ تھا جسے سن کر وہ یہاں پہنچے تھے۔ 9 ستمبر 1947 کو اپنی دہلی آمد سے لے کر 30 جنوری 1948 کو اپنے انتقال تک انھوں نے مکمل وقت اس شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں گزارا۔ انھیں معلوم تھا کہ ’اکثریتی شدت پسندی‘ ہمیشہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے، شاید اسی لیے اس حالات میں بھی جب کہ مسلمانوں کے لیے دہلی میں رہنا مشکل اور غیر محفوظ ہو گیا تھا، وہ مسلمانوں کے لیے انصاف چاہتے تھے اور ان کے حق میں بات کر رہے تھے۔

دہلی کے مسلمانوں نے اسے ’سوکھے دھان میں پانی‘ کی طرح محسوس کیا۔ ’دہلی اب بچ جائے گا‘، ’مسلمان اب بچ جائیں گے‘ جیسی باتیں پرانے شہر میں لوگ ایک دوسرے سے کہتے ہوئے سنے جانے لگے اور یہ سچ بھی ثابت ہوا۔ گاندھی کے دہلی پہنچنے کے بعد سے فسادات کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ 13 ستمبر کو وہ پرانا قلعہ واقع پناہ گزیں کیمپ پہنچے جہاں مسلمان بدتر حالت میں زندگی گزار رہے تھے اور اچانک حکومت حرکت میں آ گئی۔ مسلمانوں کے ساتھ ’اپنے‘ شہریوں جیسا سلوک کیا جانے لگا اور انھیں تمام سہولیات اور تحفظ فراہم کرائی گئیں۔ اکتوبر 1947 میں ایک دعائیہ جلسہ میں گاندھی جی نے کہا ’’دہلی کی ایک خاص تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو مٹانے کی کوشش کرنا بھی ایک پاگل پن ہوگا۔‘‘ دہلی پر لکھتے ہوئے مصنفین نے اس تاریخ کی ’خاصیت‘ پر دھیان دینا شاید اتنا ضروری نہیں سمجھا ہے۔

پھر بھی دہلی میں پرتشدد واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ 20 دسمبر 1947 کو گاندھی نے تقریباً ناراض ہوتے ہوئے لکھا ’’اگر یہ ہماری خواہش ہے کہ مسلمان ہندوستان چھوڑ دیں تو یہ ہمیں صاف صاف کہنا چاہیے یا حکومت کو یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا رہنا محفوظ نہیں ہے۔‘‘ حالات ایسے ہی تھے اور گاندھی نے اپنا سب سے کامیاب طریقہ اختیار کیا۔

13 جنوری 1948 کو انھوں نے تامرگ بھوک ہڑتال شروع کر دیا۔ نہرو ’دی اسٹیٹس مین‘ کے سابق مدیر آرتھر مور اور ہزاروں دیگر لوگ گاندھی کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے جس میں ہندوؤں اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اور ان میں سے کئی تو پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزین تھے۔ 12 جنوری کو مہاتما گاندھی کے دعائیہ جلسہ میں ایک تحریری تقریر پڑھ کر سنائی گئی کیونکہ گاندھی نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔

’’کوئی بھی انسان جو پاک ہے، اپنی جان سے زیادہ قیمتی چیز قربان نہیں کر سکتا۔ میں امید کرتا ہوں کہ مجھ میں بھوک ہڑتال کرنے لائق پاکیزگی ہو۔ بھوک ہڑتال کل صبح (منگل) پہلے کھانے کے بعد شروع ہوگا۔ بھوک ہڑتال کا عرصہ غیر معینہ ہے۔ نمک یا کھٹے لیموں کے ساتھ یا ان چیزوں کے بغیر پانی پینے کی چھوٹ میں رکھوں گا۔ میرا بھوک ہڑتال اس وقت ختم ہوگا جب مجھے یقین ہو جائے گا کہ سب قوموں کے دل مل گئے ہیں اور وہ باہر کے دباؤ کے سبب نہیں، بلکہ اپنا مذہب سمجھنے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔‘‘

اس بھوک ہڑتال کا اثر حیرت انگیز تھا۔ دہلی میں جگہ جگہ گاندھی کی حمایت میں لوگ جمع ہونے لگے۔ 15 جنوری 1948 کو ہوئے ایک جلسہ عام میں قرول باغ کے باشندوں نے گاندھی جی کو یقین دلایا کہ وہ ان کے اصولوں میں یقین رکھتے ہیں اور انھوں نے ایک امن بریگیڈ بنا کر گھر گھر جا کر مہم چلائی۔ مزدوروں کے ایک جلسہ میں، جہاں ریلوے، پریس وغیرہ کے نمائندہ موجود تھے، یہ عزم کیا گیا کہ مختلف طبقوں کے درمیان اچھے تعلقات استوار کرنے کے کام میں وہ فوراً لگ جائیں گے۔ اس جلسہ سے ہمایوں کبیر نے بھی خطاب کیا تھا۔ پرنسپل این وی تھڈانی کی صدارت میں دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا کی ایک میٹنگ ہوئی اور تجویز پاس کی گئی کہ شہر میں فرقہ وارانہ خیر سگالی قائم کرنے کے لیے وہ اپنا تعاون دیں گے۔ نہرو پارک میں ہوئی میٹنگ میں شہریوں سے ڈسپلن میں رہنے کی اپیل کی گئی۔

بڑلا ہاؤس میں ہی 17 جنوری کو نہرو نے اپنی ایک تقریر میں کہا ’’جب سے مجھے مہاتما گاندھی کے بھوک ہڑتال سے متعلق جانکاری ملی ہے نہ میں نے انھیں بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے کہا ہے اور نہ اس پر دوبارہ غور کرنے کے لیے، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہ عوام پر ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک طرح سے نبھائیں اور صرف ایسا کر کے ہی ان کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے رضامند کیا جا سکتا ہے۔‘‘

مختلف تنظیموں کے 100 سے زائد نمائندے، جن میں ہندو مہاسبھا، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، جماعت علماء اور دیگر کئی تنظیموں کے لوگ شامل تھے، 18 جنوری 1948 کی صبح 11.30 بجے گاندھی جی سے ملے اور امن کے لیے گاندھی جی نے جو شرطیں رکھی تھیں اسے قبول کیا اور ’شانتی شپتھ‘ پیش کیا۔ اس کے بعد گاندھی جی نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دن ایک امن کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ہندو، سکھ، مسلمان اور دیگر مذاہب و تنظیموں کے 130 نمائندے شامل تھے۔ ڈاکٹر راجندر پرساد جو اس امن کمیٹی کے کنوینر تھے، نے گاندھی جی کو یقین دہانی کرائی کہ اقلیتوں کے خلاف کسی طرح کی تفریق نہیں کی جائے گی، معاشی بھی نہیں۔ دہلی کی مسجدیں مسلمانوں کو واپس کر دی جائیں گی اور پاکستان چلے گئے مسلمان اگر واپس آنا چاہیں تو انھیں پوری سہوت فراہم کی جائے گی۔ خواجہ قطب الدین کی درگاہ میں عرس کا میلہ بھی ہر سال کی طرح لگے گا اور مسلمانوں کے مذہبی تہواروں میں کسی بھی قسم کا خلل نہیں پیدا ہونے دیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ اتحاد قائم کرنے کےخواہاں گاندھی جی کا یہ آخری بھوک ہڑتال تھا جو پانچ دنوں تک چلا۔ اس بھوک ہڑتال کی وجہ سے مسلمان اپنے گھروں کی طرف لوٹنے لگے تھے۔

گاندھی جی کے قتل کا منصوبہ بھی اسی درمیان میں تیار ہو رہا تھا۔ 20 جنوری 1948 کو بڑلا ہاؤس میں دعائیہ جلسہ کے دوران گاندھی جی کے قتل کی ناکام کوشش کی گئی اور دس دن بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔ کامیاب اور ناکامیاب دونوں کوششیں ہندو شدت پسندوں کے ذریعہ کی گئیں۔ لیکن ان کے قتل سے وہ ہو گیا جو ان کے بھوک ہڑتال سے بھی نہیں ہو پایا تھا۔ مسلمانوں کے لیے ’دنیا ہی بدل گئی‘۔ ہندو-مسلم تشدد پوری طرح ختم ہو گیا تھا۔ لوگوں کو خوف تھا کہ ملک میں سیکولر عناصر کمزور ہو جائیں گے لیکن ہوا اس کا برعکس۔ حکومت کو مجبور ہو کر فرقہ پرست طاقتوں اور تنظیموں کے خلاف سخت رخ اختیار کرنا پڑا۔

مصنّفین نے گاندھی کی کئی سیاسی سرگرمیوں کے لیے ان کی تنقید کی ہے۔ لیکن فرقہ پرستی کے مسئلے پر گاندھی بمشکل ہی کسی سمجھوتے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ اس ملک کی آب و ہوا میں فرقہ پرستانہ خوف کا ایک ایسا رنگ گھلا ہوا ہے جو وقتاً فوقتاً پھیل جاتا ہے۔ مشہور و معروف ہندی شاعر شمشیر بہادر سنگھ نے کبھی ’نرالا‘ کے لیےلکھا تھا

’’بھول کر جب راہ... جب جب راہ... بھٹکا میں

تمہی جھلکے، ہے مہا کوی‘‘

فرقہ پرستی کے خلاف گاندھی کی کوششوں سے متعلق اس بیش قیمتی مثال کو اکثر نظرانداز کرتا ہوا ملک بہت مایوس کرتا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول