کیا کورونا کی ٹیکہ کاری ہر سال ضروری ہو جائے گی؟

سائنس دانوں کی جانب سے اس وبائی مرض کے خلاف مؤثر ویکسی نیشنوں کے پیش کرنے کے بعد حال میں بعض بایانات ویکسین دیے جانے کے منصوبے میں تبدیلوں کا بھی اشارہ دے رہے ہیں

کورونا ویکسین / یو این آئی
کورونا ویکسین / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: دنیا بھر میں کورونا وائرس اور اس کی ویکسی نیشن کے درمیان کشمکش کا سلسلہ جاری ہے۔ سائنس دانوں کی جانب سے اس وبائی مرض کے خلاف مؤثر ویکسی نیشنوں کے پیش کرنے کے بعد حال میں بعض بایانات ویکسین دیے جانے کے منصوبے میں تبدیلوں کا بھی اشارہ دے رہے ہیں۔

امریکی دوا ساز کمپنی "فائزر" نے کورونا وائرس کے خلاف اپنی تیسری ویکسی نیشن کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ خوراک دوسری خوراک کے تقریبا 12 ماہ بعد دی جائے گی۔ فائرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر البرٹ بورلا نے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ "لوگوں کو دوسری خوراک کے 12 ماہ بعد تیسری خوراک کی ضرورت ہو گی"۔

امریکی نیوز نیٹ ورک CNBC کے مطابق اس بات کا بھی امکان ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف لوگوں کی "ہر سال" ویکسی نیشن کی ضرورت ہو۔ البرٹ بورلا نے یہ بیان رواں یکم اپریل کو دیا تھا تاہم یہ گذشتہ روز سامنے آیا۔

اس سے قبل اپریل میں ہی فائزر اور بایو این ٹیک کمپنیوں نے کہا تھا کہ دو خوراکوں پر مشتمل ان کی مشترکہ ویکسین پہلی خوراک کے بعد کورونا کے خلاف 91 فی صد اور دوسری خوراک کے بعد کورونا کے خلاف 95 فی صد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔