سردیوں میں سانپ کیوں غائب ہوجاتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران سانپوں کے لاپتہ ہونے کی وجہ کم درجہ حرارت ہے۔ کیونکہ سانپوں کا خون سرد ہوتا ہے جو سردی کو برداشت نہیں کرسکتے اور ان کی موت کا سبب بن سکتے ہیں

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سانپ گرمیوں میں زمین سے باہر نکل آتے ہیں اور سردیوں میں غائب ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر سعودی عرب جیسے صحرائی علاقے میں بھی سردیوں میں سانپ غائب ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران سانپوں کے لاپتہ ہونے کی وجہ کم درجہ حرارت ہے۔ کیونکہ سانپوں کا خون سرد ہوتا ہے جو سردی کو برداشت نہیں کرسکتے اور ان کی موت کا سبب بن سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں سانپوں کا مطالعہ کرنے والے نایف المالکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب کے صرف معتدل علاقوں میں سانپ دن کے اوائل میں اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے بلوں کے قریب دیکھے جا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی سردی اور بارشوں میں اضافہ کے ساتھ سعودی عرب اور مربعانیہ کے دنوں میں سانپ زیادہ تر غائب ہو جاتے ہیں کیونکہ مسلسل بارش اور طوفانی بہاؤ بلوں اور سانپوں کی رہائش گاہوں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔


ڈسنے کی وارننگ

نائف المالکی نے خبردار کیا کہ بارشوں اور طوفانوں کی وجہ سے جو سانپوں اور بچھووں کو ان کے بلوں سے نکال کر غیر متوقع جگہوں پر دھکیلتے ہیں، ان کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے آبادی کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ .

المالکی نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں سانپوں کی تقریباً 56 اقسام پائی جاتی ہیں اور یہ معتدل گرم اور سرد علاقوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔یہ مغرب سے لے کر انتہائی جنوبی علاقے تک پھیلے ہوئے ہیں اور سانپ صحرائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

سانپ کی زندگی

المالکی نے مزید کہا کہ عام طور پر سانپ آپس میں غیر سماجی مخلوق ہیں۔ یہ ملن کے دوران جمع ہوتے ہیں اور پھرمنتشر ہوجا تے ہیں۔ ان کی مادریت نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پائے جانے والے خطرناک سانپوں میں چٹانی سانپ، ابو سیور، ورقی الانف، ابو عیون زہریلے سانپوں میں شمار کیے جاتے ہیں جب کہ بلیک مانبا، عرب کوبرا مشرقی قالینی سانپ، ام جنیب صحرائی سانپ اور بلیک پوریس بھی خطرناک سانپوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔