بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے تاریخی مشن کے بعد سنیتا ولیمز کی ناسا سے ریٹائرمنٹ، 27 سالہ خلائی سفر کا اختتام
سنیتا ولیمز نے ناسا سے ریٹائرمنٹ لے کر 27 سالہ شاندار خلائی سفر مکمل کر لیا۔ نو ماہ کے تاریخی مشن، متعدد خلائی چہل قدمیوں اور قیادت کے کردار نے انہیں خلا نوردی کی نمایاں مثال بنا دیا

سنیتا ولیمز نے اپنے طویل اور غیر معمولی خلائی کیریئر کو باقاعدہ طور پر اختتام تک پہنچا دیا ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا سے ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی انسانی خلائی پرواز کی تاریخ کا ایک اہم باب مکمل ہو گیا۔ ناسا کے مطابق سنیتا ولیمز ستائیس دسمبر دو ہزار پچیس کو ادارے سے سبکدوش ہوئیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر نو ماہ پر مشتمل ایک غیر معمولی اور تاریخی مشن کے بعد عمل میں آئی، جس نے انہیں دنیا کی نمایاں ترین خلا نوردوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔
ناسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سنیتا ولیمز نے انسانی خلائی پرواز کے میدان میں قیادت، مہارت اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی جس نے مستقبل کی خلائی مہمات کے لیے سمت متعین کی۔ ناسا انتظامیہ کے مطابق ان کی خدمات نے نچلے زمینی مدار میں تجارتی مشنز کی راہ ہموار کی اور چاند و مریخ سے متعلق آئندہ منصوبوں کی بنیاد مضبوط کی۔ ادارے نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابیاں آنے والی نسلوں کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دیتی رہیں گی۔
سنیتا ولیمز کی پیدائش اوہائیو کے شہر یوکلڈ میں ہوئی، جبکہ وہ میساچوسٹس کے علاقے نیڈہم کو اپنا آبائی شہر مانتی ہیں۔ ان کے والد پیشے کے اعتبار سے نیورو ایناٹومسٹ تھے اور ان کا تعلق گجرات کے ضلع مہسانہ کے گاؤں جھولاسن سے تھا۔ بعد ازاں وہ امریکہ منتقل ہوئے جہاں ان کی شادی بونی پانڈیا سے ہوئی۔ سنیتا ولیمز کی ذاتی زندگی میں سادگی نمایاں رہی اور وہ اپنے شوہر مائیکل کے ساتھ کتوں کی دیکھ بھال، جسمانی ورزش، گھروں کی مرمت، گاڑیوں اور ہوائی جہازوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ہائیکنگ اور کیمپنگ جیسے مشاغل سے وابستہ رہیں۔
ان کے خلائی کیریئر کا آغاز نو دسمبر 2006 کو اس وقت ہوا جب وہ خلائی شٹل ڈسکوری کے ذریعے روانہ ہوئیں۔ بعد میں وہ ایک اور مشن کے ساتھ کامیابی سے زمین پر واپس آئیں۔ ایکسپیڈیشن 14 اور 15 کے دوران انہوں نے فلائٹ انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور متعدد خلائی چہل قدمیاں کیں، جن میں ان کی تکنیکی صلاحیت اور جسمانی برداشت نمایاں رہی۔
2012 میں انہوں نے قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے ایک طویل مشن کا آغاز کیا اور بعد میں خلائی اسٹیشن کی کمان سنبھالنے والی چند خواتین میں شامل ہو گئیں۔ دو ہزار چوبیس میں شروع ہونے والا ان کا تیسرا مشن سب سے طویل ثابت ہوا، جو تکنیکی مسائل کے باعث نو ماہ تک جاری رہا۔ اس دوران پوری دنیا کی نظریں ان پر مرکوز رہیں۔ مجموعی طور پر انہوں نے باسٹھ گھنٹے سے زائد وقت خلائی چہل قدمیوں میں گزارا اور خلا میں میراتھن دوڑنے والی پہلی انسان بنیں، جو ان کے کیریئر کی ایک منفرد پہچان ہے۔