سائنس دانوں نے وہ ’بھوتیا عمل‘ دیکھا جس سے آئنسٹائن انکار کرتے تھے!

سائنس دانوں نے مادے کے ایٹم یعنی جوہر کے ذیلی ذروں کے درمیان غیرمعمولی رابطے اور آپس میں معلومات کے تبادلے کے مظہر کی تصویر بنا لی ہے، اس سے مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ کی تخلیق میں مدد ملے گی۔

سائنس دانوں نے ’بھوتیا عمل‘ دیکھ لیا
سائنس دانوں نے ’بھوتیا عمل‘ دیکھ لیا

ڈی. ڈبلیو

کئی دہائیاں قبل ’کوانٹم انٹیگلمنٹ‘ کا معاملہ طبعیات کی دنیا کے دو عظیم دماغوں آئنسٹائن اور نیلز بوہر کے درمیان علمی اختلاف کی ایک بنیادی وجہ رہا تھا۔ نیلز بوہر مُصر تھے کہ کوانٹم سطح پر ذرات کے درمیان معلومات کے تبادلے کا ایک تعلق پایا جاتا ہے، جو ان کے درمیان کسی بھی فاصلے پر کارگر رہتا ہے، تاہم آئنسٹائن اس سے اختلاف کرتے تھے۔ آئنسٹائن نے تو اسے اسپوکی ایکشن، یا ’بھوتیا عمل‘ تک قرار دے دیا تھا۔ بعد میں تجربات نے نیلز بوہر کو درست اور آئنسٹائن کو غلط تو قرار دے دیا، مگر ذرات کے درمیان اس رابطے کی تصویر اب پہلی بار لی گئی ہے۔

ذرات کے درمیان ربط کیوں اور کیسے؟

طبعیات میں روشنی کی دوہری ماہیت ایک بہت بڑا سوال رہی ہے۔ اس معاملے میں دوہرے چھید والا تجربہ ایک مشہور عمل ہے، جس میں روشنی کو اگر دو چھیدوں میں سے گزارا جائے، تو وہ اس دوہرے چھید والی دیوار کے پیچھے اسپیکٹرم بنا کر اپنی موجی حرکت کا ثبوت دیتی ہے۔ تاہم حیرت انگیز طور پر اگر کسی ڈیٹیکٹر کی مدد سے یہ جانچنے کی کوشش کی جائے کہ الیکٹران کس چھید سے گزرے، تو یہ اسپیکٹرم ختم ہو جاتا ہے اور روشنی ذراتی حرکت کا اظہار کرتی ہے۔ نیلز بوہر کا کوانٹم نظریہ اسی لیے یہ بتاتا ہے کہ ان جوہری ذرات کا حتمی مقام کبھی طے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ انہیں فقط پروبیبیلٹی یعنی امکان سے جانچا جا سکتا ہے۔

سب ایٹومک سطح پر الیکٹران اور دیگر ذرات کسی صورت اپنے اصل مقام یا گردش کا حتمی علم نہیں ہونے دیتے اور اس کا تعین کرنے کی صورت میں وہ دوسرے ذرے کو مطلع کر دیتے ہیں، جو اس موصولہ معلومات کی بنا پر اپنا رویہ طے کر لیتا ہے۔ یعنی جب تک الیکٹران کا مشاہدہ نہ کیا جائے، اس کا رویہ مختلف ہوتا ہے اور مشاہدہ کیا جائے تو اس کا رویہ اور ہوتا ہے۔ نیلز بوہر کے نظریے کے مطابق اس کی وجہ جوہر کے ان ذیلی ذرات کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہے، جو روشنی کی رفتار سے تیز ہوتا ہے اور ان کے درمیان فاصلہ اگر کائناتی بھی کیوں نہ ہو جائے، یہ رابطہ نہیں ٹوٹتا۔

تصویر کیا بتا رہی ہے؟

کوانٹم انٹیگلمنٹ کی بنائی گئی بلیک اینڈ وائٹ تصویر گو کہ بہت سادہ سی دکھائی دے رہی ہے، تاہم اس آنکھ کی شکل کی تصویر میں ذرات کے درمیان ربط غیرمعمولی مظہر ہے۔ یونیورسٹی آف گلاسکو کے سائنس دانوں کی اس کاوش میں دو الگ الگ مگر اطلاعات کے اعتبار سے جڑے ہوئے ذرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس تجربے سے وابستہ سائنس دان پاؤل انٹونی موریاؤ کے مطابق، ''ہم نے جو تصویر لی ہے، یہ اس ربط کا مظہر ہے، جو فطرت کی ماہیت کے ایک بنیادی اظہاریے سے عبارت ہے۔ ہم پہلی بار اس مظہر کو تصویر میں ڈھالنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘

موریاؤ کی قیادت میں سائنس دانوں کی ٹیم کی اس کاوش کو جرنل سائنس ایڈوانسر میں شائع کیا گیا ہے۔ طبعیات کے قوانین کے مطابق دو ذرات بائنری (یعنی ہاں اور نہ) کی طرح کی نوعیت یا حالت میں گردش یا حرکت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے غیرمحسوس طریقے سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ مظہر اس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک اس کا مشاہدہ نہ کیا جائے۔ اگر انہیں مشاہدے سے قبل کئی نوری سال کے فاصلے تک ایک دوسرے سے جدا کر دیا جائے، تو بھی ان کے درمیان معلومات کا تبادلہ قائم رہتا ہے، جس کے ذریعے اگر ایک ذرے کا مشاہدہ کیا جائے، تو دوسرا اس کی مخالف حالت اختیار کر لیتا ہے۔

اس کو عام فہم طریقے سے یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے یہ دو علیحدہ مگر جڑے ہوئے ذرات دو ایک جیسے ڈبے ہیں، جن میں دو بلیاں بند ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ڈبے میں بند بلی کے حوالے سے ایک ہی وقت میں دو امکانات ہو سکتے ہیں، یعنی بلی زندہ ہے یا بلی مردہ ہے۔ انٹیگلمنٹ کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر ایک ڈبے میں بلی زندہ ملی ہے، تو ایسے دوسرے ڈبے میں بلی ہر حالت میں مردہ ملے گی۔ یا اگر پہلے ڈبے میں بلی مردہ ملی ہے، تو دوسرے میں ہر صورت میں زندہ ملے گی۔ آئن اسٹائن نے اسی لیے اس مظہر کو 'بھوتیا عمل‘ قرار دیتے ہوئے ابتدا میں مسترد کر دیا تھا۔