سائنس

مٹی میں بھی اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحمت پیداہونے کا انکشاف

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مٹی میں پائے جانے والے بیماریوں کے موجب جرثوموں نے اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرلی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

الینوائے: ایک نئی تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مٹی میں پائے جانے والے جرثوموں میں بھی اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوگئی ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مٹی میں پائے جانے والے بیماریوں کے موجب جرثوموں نے اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرلی ہے۔

’فیوچریٹی‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر ایرک ہارٹ مین نے کھیل کے 42 میدانوں سے نمونے حاصل کیے۔ ان نمونوں کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا گیا تو تشویشناک انکشاف ہوا۔

نمونوں سے حاصل ہونے والے حیران کن نتائج سے پتہ چلا کہ مٹی میں پائے جانے والے بہت سے جرثومے جیسے’ ٹرکلوسان‘ نے اپنی جین میں تبدیلی کرلی ہے جس سے ان جراثیم پر اینٹی بایوٹکس کا اثر ختم ہوگیا ہے۔

مٹی میں کئی جان لیوا جراثیم پائے جاتے ہیں، کسی حادثے کے نتیجے میں سڑک یا میدان میں گرنے والے شخص کو چوٹ لگ جائے تو کھال ادھڑ جانے کی صورت میں یہ جراثیم جسم کے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔

اس قسم کے حادثے میں اگر فوری طور پر تشنج( ٹیٹنس) کا انجکشن نہ لگوایا جائے تو یہ جراثیم قوت مدافعت کو بری طرح نقصان پہنچاتے ہوئے انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں اگر جراثیم اینٹی بایوٹکس کا اثر ختم ہوجائے تو موت کی شرح میں ہولناک اضافے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ صرف امریکہ میں سالانہ 25 ہزار آدمی اینٹی بایوٹکس کی مزاحمت کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اینٹی بایوٹکس کے بے دریغ استعمال اور زیادہ خوراک کے وجہ سے جراثیم نے اپنی جین کی ہیٔت میں تبدیلی کرکے اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کرلی ہے۔