مشتری کے چاند پر 15 میٹر اونچے برفیلے نوکدار ستونوں کا انکشاف

لندن:سیارہ مشتری کے مشہور چاند یوروپا پر لاتعداد ایسے برفیلے ستون دریافت ہوئے ہیں جو 50 فٹ (15 میٹر) تک بلند ہیں جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ فرش پر ان گنت برفیلے نیزے آسمان کی جانب رخ کئے ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اہرین کے مطابق انتہائی نوکدار ستون یہاں اترنے والے کسی بھی خلائی جہاز کوچند لمحوں میں تباہ کرسکتےہیں۔ زمین کے برفیلے علاقوں میں جب سورج کی روشنی نشیب میں موجود برف سے ٹکرا کر لوٹتی ہے تو اس طرح کی نوکیلی برف وجود میں آتی ہے۔ عین اسی طرح یوروپا پر بھی نوکیلے ابھار وجود میں آگئے ہیں۔ ماہرین زمین پر بننے والی نوکدار برفیلی اشکال کو ’پینی ٹینٹس‘ کا نام دیتے ہیں۔

یوروپا چاند زمین سے کئی درجے خشک اور کئی گنا سرد بھی ہے۔ اب تک ہماری معلومات کے مطابق اس پر فضا نہ ہونے کے برابر ہے یعنی یہ کسی قسم کی گیسوں کے لحاف میں لپٹا ہوا نہیں ہے۔ اس پر ثقل بہت کمزور ہے اور یہی وجہ ہےکہ یہاں جمنے والے برفیلے ستون کئی میٹر بلند دیکھے گئے ہیں۔

کارڈف یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈینیئل ہوبلے اور ان کے ساتھیوں نے اس کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ ان کا خیال ہے کہ شاید اس سے بھی بڑے اور غیرمعمولی ابھار ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ ان کے اطراف ساڑھے سات میٹر گہرائیاں یا نشیب ہیں اور ایک ستون کم از کم 15 میٹر تک بلند ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ یوروپا پر نوکیلے ابھار اس وقت زیادہ بنتے ہیں جب سورج عین ان کے اوپر ہوتا ہے۔ یوروپا کے خط استوا (ایکویٹر) پر ایسا ہی ہوتا ہے اور ان کی بہتات خط ستوا پر ایک پٹے کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ گویا یوروپا نے برفیلی سوئیوں کا کوئی بیلٹ پہن رکھا ہے۔ اگر کوئی خلائی جہاز کو یہاں اتارنے کی کوشش کی جائے تو مشکل ہوگی کیونکہ ابھار کی درمیان ہموار جگہ شاید ہی ہو اور اگر ہو بھی تو خلائی جہاز وہاں پھنس کر رہ جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھاروں کے درمیان گہرے گڑھے موجود ہوسکتے ہیں اور اب تک ہماری نظر وہاں تک نہیں پہنچی ہے۔

ماہرین کے مطابق یوروپا پر نمکین پانی کا سمندر موجود ہوسکتا ہے۔ بعض ماہرین کا اصرار ہے کہ اس کے اندر غیرارضی مخلوق کسی جرثومے یا حیاتیاتی مالیکیول کی صورت میں موجود ہوسکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔