دنیا کی پہلی خاتون چاند پر کرے گی چہل قدمی، ’ناسا‘ کے مشن کی تیاری

بریڈین سٹاین نے کہا ’’صدر ٹرمپ نے چاند کے جنوبی قطب پر 2024 تک ایک مرد اور پہلی خاتون کو بھیجنے کے ہمارے منصوبے کو منظوری دینے کے ساتھ 1.6 ارب ڈالر کے اضافی فنڈ کی بھی منظوری فراہم کر دی ہے‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا سال 2024 تک چاند پر ایک مرد اور ایک خاتون کو بھیجنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مالی سال-2020 کے لئے 1.6 ارب ڈالر کے فنڈ کی منظوری دے دی ہے۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برڈین سٹاین نے پیر کو ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے یہ اطلاع دی۔

بریڈین سٹاین نے کہا ’’صدر نے چاند کے جنوبی قطب پر 2024 تک ایک مرد اور پہلی خاتون کو بھیجنے کے ہمارےمنصوبے کو منظوری دے دی ہے۔ اب صدر نے ہمارے کام پر یقین ظاہر کرتے ہوئے مالی سال 2020 کے تحت اس منصوبے کے لئے 1.6 ارب ڈالر کے اضافی فنڈ کو منظوری فراہم کر دی ہے‘‘۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ اس فنڈنگ سے خلا پروجیکشن نظام اور ہیومن مون لینڈنگ کے نظام کی ترقی کو تقویت ملے گی۔ اس سے چاند کے قطبی علاقوں میں روبوٹ کے ذریعے ریسرچ کرنے جیسی صلاحیتوں کی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

امریکہ ابھی تک چاند پر چھ مشن بھیج چکا ہے۔ اپولو-11 امریکہ سمیت دنیا کی طرف سے چاند پر بھیجا گیا پہلا کامیاب انسانی مشن تھا۔ مشن کو 16 جولائی 1969 کو لانچ کیا گیا تھا۔ 20 جولائی 1969 کو خلا باز نیل آرم اسٹرانگ اور ایڈون ایلڈرن چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے تھے۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ ہمارا ملک ایک مرتبہ پھر چاند پر مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں یہ کام ہو جائے گا۔ اس کے ذریعے پہلی بار کوئی امریکی خاتون چاند پر قدم رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو خلا کی بھی عظیم قوت بنانا چاہتے ہیں۔ چھ مئی سے شروع ہونے والی سٹیلائٹ کانفرنس میں ہندوستان سمیت دنیا کے 105 ممالک کے 15 ہزار سائنسدانوں نے کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)