ناسا کا اِسروں کے ساتھ مشترکہ طور پر ’ارتھ سسٹم آبزرویٹری‘ ڈیزائن کرنے کا منصوبہ

امریکی خلائی ایجنسی ناسا آب و ہوا کی تبدیلی اور اس کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک نیا ’ارتھ سسٹم آبزرویٹری‘ ڈیزائن کرے گی اور اس مشن میں اسرو کا اہم شراکت دار ہوگا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) آب و ہوا کی تبدیلی اور اس کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک نیا ’ارتھ سسٹم آبزرویٹری‘ ڈیزائن کرے گی اور اس مشن میں ہندوستانی خلائی ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کا اہم شراکت دار ہوگا۔

ناسا نے گزشتہ روز ایک پریس ریلیز میں کہا’’ ناسا آب و ہوا میں تبدیلی ، آفات اور جنگل کی آگ ، زرعی بہتری کے اصلاحات اور اہم معلومات فراہم کرنے کے لئے زمین پر مبنی مشنوں کا ایک نیا سیٹ ڈیزائن کرے گا۔ ’ارتھ سسٹم آبزرویٹری‘ والا مصنوعی سیارہ انوکھے انداز میں ڈیزائن کیا جائے گا اوراس میں کام میں دونوں ادارے ایک دوسرے کی مدد کریں گے‘‘۔


ناسا نے کہا ’’ناسا کے اس مشن میں اسرو کے ساتھ شراکت ہے۔ اس مشن کے ذریعہ زمین کی سطح میں نصف انچ سے بھی کم تبدیلی کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ اس صلاحیت کو ’نسار‘ (ناسا-اسرو سنتھیٹک اپرچر ریڈار) مشن میں استعمال کیا جائے گا‘‘۔

ناسا اس وقت ہندوستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ ’نسار‘ تیار کرنے کے لئے مشترکہ طور پر کام کر رہا ہے اور اس کا مقصد مشترکہ طور پر زمین کا مشاہدہ کرنا ہے۔

’نسار‘ تیار کرنے کا ہدف زمین کی سطح پر ہونے والی ٹھیک ٹھیک تبدیلیوں کی نگرانی کرنا ، آتش فشاں دھماکا خیز مواد کے بارے میں متنبہ کرنا ، زیر زمین پانی کی فراہمی کی نگرانی میں مدد کرنا اور برف کی چادریں پگھلنے کی شرح کی نگرانی کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔