اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنسی پروجیکٹ ’جیمز ویب ٹیلی اسکوپ‘ خلا میں روانہ

امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ناسا کی مہنگی ترین جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو کئی مہینوں کی تاخیر کے بعد خلا میں روانہ کردیا گیا

جیمز ویب ٹیلی اسکوپ / تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @Space_Station
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ / تصویر بشکریہ ٹوئٹر / @Space_Station
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ناسا کی مہنگی ترین جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو کئی مہینوں کی تاخیر کے بعد خلا میں روانہ کردیا گیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ٹیلی اسکوپ کو یوروپی خلائی ایجنسی آریان فائیو کے راکٹ کے ذریعے جنوبی امریکہ میں فرانسیسی کالونی فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اپنی تحقیق کے دوران یہ مشن مختلف سیاروں، سیارچوں اور خلا میں دیگر مقامات پر زندگی کی تلاش اور تحقیق کا کام کرے گا۔ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں 30 برس کا عرصہ لگا ہے اور اسے 21 ویں صدی کے سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔


سائنسدانوں کو امید ہے کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ خلا میں ان ستاروں کو ڈھونڈ پائے گی جو ساڑھے 13 ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔ واضح رہے کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ امریکی خلائی ادارے ناسا، یوروپی خلائی ادارے ’ایسا‘ اور کینیڈین خلائی ادارے سی ایس اے کا 10 ارب ڈالر کی لاگت کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔