سفید ترین روغن کی دریافت، جس کے بعد گھروں میں ایئر کنڈیشنر کی ضرورت نہیں رہے گی!

امریکہ میں انجینئروں نے عالمی سطح پر اب تک کا ’سب سے زیادہ سفید روغن‘ دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ دریافت عالمی حدت کے علاج میں مدد گار ثابت ہو گی

تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ میں انجینئروں نے عالمی سطح پر اب تک کا ’سب سے زیادہ سفید روغن‘ دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ دریافت عالمی حدت کے علاج میں مدد گار ثابت ہو گی۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ سفید ترین روغن (وائٹیسٹ پینٹ) 98.1 فیصد تک سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تناسب بازار میں موجود بہترین روغنوں سے تقریبا 8 فیصد زیادہ ہے۔ اس روغن کو انڈیانا میں بورڈو یونیورسٹی میں تیار کیا گیا ہے۔

بورڈو یونیورسٹی کے محققین کی ٹیم کے مطابق یہ نیا روغن گرم ماحول والے علاقوں میں عمارت کو زیادہ مؤثر شکل میں ٹھنڈا رکھے گا۔ اس طرح ایئرکنڈیشننگ ٹکنالوجی کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ اس روغن میں بیریم سلفیٹ نامی ایک کیمیائی مرکب شامل کیا گیا ہے۔


بورڈو یونیورسٹی میں میکینیکل انجینئرنگ کے استاد پروفیسر شیولن روان کہتے ہیں کہ "اگر آپ اس روغن کو تقریبا 90 مربع میٹر کے رقبے کی چھت پر استعمال کر رہے ہیں تو اس سے 10 کلو واٹ تک کی کولنگ پاور حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ توانائی ان سینٹرلائزڈ ایئرکنڈیشنوں سے زیادہ طاقت ور ہے جو اس وقت زیادہ تر گھروں میں استعمال ہو رہے ہیں۔"

روغن کو انتہائی سفیدی دینے والے دو عوامل ہیں۔ پہلا یہ کہ روغن میں کیمیائی مرکب "بیریم سلفیٹ" کا ارتکاز کافی زیادہ رکھا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ روغن میں بیریم سلفیٹ کے تمام ذرات مختلف حجم کے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔