چین کا ہدف، بجلی کے لیے فیوژن عمل

فیوژن ری ایکٹر منصوبے سے وابستہ ایک سینیئر چینی سائنس دان نے کہا ہے کہ ان کا ملک سن 2040 تک فیوژن عمل کے ذریعے صاف بجلی کی پیداوار کی کوشش میں ہے۔

چین کا ہدف، بجلی کے لیے فیوژن عمل
چین کا ہدف، بجلی کے لیے فیوژن عمل

ڈی. ڈبلیو

چین اپنے ٹھہرے ہوئے جوہری پروگرام کو تین برس روکے رکھنے کے بعد اب دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چینی ریاست ہیفائی میں قائم ریاستی رصدگاہ کے مطابق چینی سائنس دان روایتی جوہری انشقاق یعنی فشن ری ایکشن کی بجائے غیرعمومی اور انتہائی طاقت ور فیوژن یعنی عمل ایتلاف کے ذریعے توانائی کے حصول کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ عمومی جوہری ری ایکٹر یورنیم ایٹم کو توڑ کر توانائی حاصل کرتے ہیں، تاہم فیوژن یعنی ایتلاف کے عمل میں دو ہائیڈروجن ایٹموں کو ملا تے ہوئے ہیلیم ایٹم میں تبدیل کر کے توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ ٹھیک وہ عمل ہے، جو سورج یا دیگر ستاروں پر جاری ہے۔

جوہری عمل ایتلاف کے صنعتی استعمال کو توانائی کے شعبے میں ایک انقلاب سے تعبیر کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے حاصل ہونے والی بجلی اس عمل کے لیے درکار توانائی سے دس گنا زیادہ ہو گی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی تجارتی دستیابی میں کم از کم پچاس برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

چین نے ٹوکاماک کے نام سے آٹھ سو ترانوے ملین ڈالر کی لاگت سے ایک تنصیب قائم کی ہے، جس میں انتہائی بلند درجہ حرارت میں ہائیڈروجن کے ہم جا کو ابال کر پلازمہ میں تبدیل کیا جاتا ہے اور اس طرح انہیں آپس میں ملا کر ایتلاف کے عمل سے توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اگر یہ تجربات کامیاب ہو جاتے ہیں تو انتہائی قلیل مقدار میں ایندھن درکار ہو گا اور اس سے پیدا ہونے والا تاب کار فضلہ نہ ہونے کے برابر ہو گا۔

ہیفائی انسٹیٹیوٹ آف فزیکل سائنسز کے ادارہ برائے پلازمہ کے ڈائریکٹر زونگ یونتاؤ کے مطابق گو کہ اس ٹیکنالوجی کے سامنے کئی طرح کے چیلنجز بہ دستور موجود ہیں، تاہم اس پروجیکٹ کے لیے چھ ارب یوان کی سرکاری مدد سے ایک نیا تعمیراتی منصوبہ زیر تکمیل ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’’اب سے پانچ برس کے عرصے میں، ہم پہلا فیوژن ری ایکٹر تعمیر کرنا شروع کر دیں گے، جس کی تعمیر میں دس برس کا عرصہ لگ سکتا ہے اور سن 2040 کے قریب یہاں سے بجلی کی پیدوار کا عمل شروع ہو جائے گا۔‘‘