زمین کے بیج سے چاند پر پھوٹا پودا، چینی سائنسدانوں کی بڑی کامیابی

چین نے چاند پر حیاتیاتی مطالعہ کے مقصد سے ’چانگ ای-4‘ نامی خلائی مشن کے ذریعہ 6 اشیا چاند پر بھیجی تھیں، ان میں کپاس اور آلو کے بیج کے علاوہ مزید 2 پودوں کے بیج تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بیجنگ: چینی خلائی مشن کی جانب سے چاند پر بھیجےگئے کپاس کے بیج سے پودا نکل آیا ہے، اس واقعہ کو خلائی تحقیق کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب دنیا کے باہر چاند پر کسی پودے کی پرورش ہو رہی ہے۔ چاند پر بھیجے گئے روور پر کپاس کے بیج سے پودا پھوٹ گیا ہے۔ چینی سائنسدانوں نے اس کی معلومات فراہم کی ہے۔

چین نے چاند پر حیاتیاتی مطالعہ کے مقصد سے ’چانگ ای-4‘ نامی خلائی مشن کے ذریعہ 6 اشیا چاند پر بھیجی تھیں، ان میں کپاس اور آلو کے بیج کے علاوہ مزید 2 پودوں کے بیج، خمیر کے بیکٹیریا اور پھلوں پر بیٹھنے والی مکھی بھی شامل تھی، حالانکہ تاحال صرف کپاس کے بیج سے ہی پودا نکلا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس پروجیکٹ سے منسلک سائنسداں شائی گینگ شِن نے بتایا، ’’چینی روور چانگ ای -4 حال ہی میں چاند پر اترا تھا۔ ہم نے ہوا، پانی اور مٹی سے بھرا ایک 18 سینٹی میٹر بالٹی نما ڈبا بھیجا تھا جس کے اندر کپاس، آلو اور سرسوں کے بیج بوئے گئے تھے۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ مہینے چاند کی سطح پر مطالعہ کرنے کے مقصد سے چانگ ای -4 لینڈ روور لانچ کیا گیا تھا۔ 3 جنوری کو کامیابی کے ساتھ یہ چاند کی سطح پر اتر گیا۔ دیگر ممالک کے مشنوں کے مقابلہ چین کا یہ مشن علیحدہ ہے کیونکہ یہ زمین سے بھیجا گیا کوئی آلہ پہلی مرتبہ چاند کی اس سطح پر اترا ہے جو زمین سے نظر نہیں آتی۔

سائنسداں کے مطابق چاند کا جو حصہ زمین کی طرح سے یکساں ہے، لہذا وہاں لینڈ روور جیسے آلات کو اتارنا آسان ہے۔ اس کے برعکس چاند کی دوسری جانب والی سطح کافی ناہموار ہے اور اس سطح کا ابھی زیادہ مطالعہ نہیں کیا گیا ہے۔

چین کے اس خلائی مشن کی مزید ذمہ داریوں میں چاند کی سطح پر منرلز کی موجودگی، نیوٹرونز کے ریکشن اور نیوٹرل خلیوں کا مطالعہ بھی شامل ہے جس سے چاند کے ماحول کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔