سائنسی تحقیق: 20 سیکنڈ میں دل اور رگوں کے زخم بند کرنے والی’گوند‘

چینی ماہرین کا خیال ہے کہ اسے جن جانوروں پر آزمایا گیا ہے ان کے اعضا انسانوں سے مشابہ ہوتے ہیں اور اگلے 3 سے 5 برس میں یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے دستیاب ہوسکے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

بیجنگ: بائی پاس آپریشن کے دوران تیزی سے بہتے ہوئے خون کو روکنا ضروری ہوتا ہے۔ اب اس کے لیے ایک انوکھی گوند بنائی گئی ہے جو صرف 20 سیکنڈ میں زخم پر ہائڈروجل کی صورت اختیار کرکے خون کا رساؤ بند کر دیتی ہے۔ ایسے مواقع پر خون کی رگوں کو فوری بند کرنا ضروری ہوتا ہے۔

چینی ماہرین نے یہ اہم حیاتیاتی گوند بنائی ہے اور کسی بھی پھسلن والی سطح پر بھی اسے لگایا جائے اور اس پر الٹراوائلٹ (بالائے بنفشی) روشنی ڈالی جائے تو یہ جم کر غیرمضر ہائڈروجل میں تبدیل ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اسے دھڑکتے اور تھرکتے ہوئے دل کے پٹھوں پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چین کی چی جیانگ یونیورسٹی کے پروفیسر ہونگ وے اویانگ اور ان کے ساتھیوں نے فی الحال اسے خرگوشوں اور خنزیروں پر آزمایا ہے اور روایتی علاج سے بہتر پایا ہے۔

ماہرین نے اس کی بدولت آدھے منٹ میں جگر کا زخم بھرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ دوسرے تجربے میں اسے سور کے دل میں 6 ملی میٹر قطر کے سوراخ کو بھرنے میں کامیاب تجربے میں استعمال کیا گیا جب ہائی بلڈ پریشر بھی تھا اور خون تیزی سے باہر ابل رہا تھا۔ گوند لگاتے ہی زخم بھرگیا اور کسی منفی اثر کے بغیر 20 سیکنڈ میں خون کا بہاؤ مکمل طور پر بند ہوگیا۔

جب گوند کو خرگوش پر آزمایا گیا تو اس سے جگر کا زخم اور کٹی ہوئی شریان کو چند سیکنڈوں میں کامیابی سے بند کردیا گیا۔ بس اتنا کرنا ہوتا ہے کہ زخم پر گوند ڈالنے کے بعد اس پر بالائے بنفشی روشنی ڈالی جاتی ہے اور اس کے بعد وہ ایک مضبوط پٹی کی طرح سخت ہوجاتی ہے۔ معمولی سی تبدیلی سے یہ 290 ایم ایم ایچ جی بلڈ پریشر بھی برداشت کرسکتا ہے خواہ وہ رگ ہو، شریان ہو یا دل کی اندرونی یا بیرونی دیوار ہی کیوں نہ ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے حیاتیاتی گوند سے بھرنے والا زخم چند ہفتوں میں نہ صرف بہتر ہوگیا بلکہ وہ قدرتی طور پر مندمل ہونا شروع ہوگیا۔ تاہم اس میں تھوڑی بہت سوزش اور جلن دیکھی گئی ہے۔ چینی ماہرین کا خیال ہے کہ اسے جن جانوروں پر آزمایا گیا ہے ان کے اعضا انسانوں سے مشابہ ہوتے ہیں اور اگلے 3 سے 5 برس میں یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے دستیاب ہوسکے گی۔

Published: 15 May 2019, 7:10 PM