ٹیکنالوجی کے ذریعہ نئی ’نسل کی گائے‘ ہوگی پیدا، ڈھائی گنا زیادہ دودھ دیگی

ٹی اے جی کمپنی قومی ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کی تحریک اور تعاون سے ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے گائے کو حاملہ کرنے کی شرح 60 سے 70 فیصد تک بڑھائی جاسکے گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: لائیواسٹاك ٹیکنالوجی کمپنی ٹراپیكل انيمل جنیٹکس (ٹی اےجی) نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعہ گائے کو مصنوعی طریقے سے حاملہ کرواکر ان سے ڈھائی گنا زیادہ دودھ دینے والی بچھیا پیدا کرائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی قومی ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی ) کی تحریک اور تعاون سے ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے گائے کو حاملہ کرنے کی شرح 60-70 فیصد تک بڑھائی جاسکے۔ جنیٹکس اور بايوٹیکنالوجی کی مدد سے پیدا ہونے والی بچھیا سے عام گائے کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ دودھ ملتا ہے۔

ٹی اےجی کے بانی اور مینیجنگ ڈائرکٹر ڈاکٹر پروین کنی نے ’یواین آئی‘ کو بتایا کہ تکنیکی طور پر گائے کو 14 سال کی عمر تک حاملہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی پیٹینڈ ٹیکنالوجی ٹراپیكل بووائن جنیٹکس (ٹی بی جی) کے ذریعے گایوں کو 14 سال کی عمر تک حاملہ کیا جا سکتا ہے اور ان سے تقریباً پوری زندگی دودھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گایوں میں ’امبرايو ٹرانسپلانٹیشن‘ ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف مادہ (فیمیل) امبرايو یا سیكسڈ امبرايو کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسے سیكسڈ امبرايو ٹیکنالوجی کا بھی نام دیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے بچھیا کی ہی پیدائش کو یقینی بناتا ہے جو مستقبل میں زیادہ دودھ دینے والی گائے بنتی ہے۔ ایک گائے کی عمر تقریبا 15 سال کی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کنی نے بتایا کہ سال 2015 میں قائم ان کی کمپنی نے گجرات کے سابرمتی آشرم (گئوشالہ) میں ایک جنین برون فیکٹری قائم کی ہے جس کے ذریعہ امبرايو پیداوار کو صنعتی سطح پر کرنے کا انتظام ہے۔ وہاں سے امبرايو تیار کرکے گائے میں امبرايو ٹرانسپلانٹیشن کے لئے اسے استعمال کیے جائیں گے یا گئوشالہ کی گایوں کو سروگیسی کے ذریعہ پیداوار کے لئے ان میں ٹرانسپلانٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس امبرايو پروڈکشن یونٹ کی پانچ ہزار امبرايو پیداوار کی صلاحیت ہے جسے مستقبل میں 20000 کی صلاحیت تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ گئوشالہ میں تازہ ترین ٹیکنالوجی سے حمل ٹھہرایا جا رہا ہے جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کمزور جینیات کی وجہ سے گایوں سے دودھ کی پیداوار کم ہوتی جاتی ہے لیکن ان کی ٹیکنالوجی سے حاملہ کرائی گئی گائے کی بچھیا اپنی ماں کے مقابلہ میں ڈھائی گنا سے زیادہ دودھ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو گائے بچھڑا-بچھیا جننے کے بعد ایک ہزار لیٹر دودھ دیتی ہے، ان کی ٹیکنالوجی سے حاملہ کرائی گئی گائے کی بچھیا چار ہزار لیٹر تک دودھ دے سکتی ہے۔

ڈا کٹر کنی نے بتایا کہ ان کے ذریعہ قائم کی جانے والی فیکٹری میں سیكسڈ امبرايو ٹیکنالوجی سے بنائے گئے برون سے حاملہ کرائی گئیں گائیں 90 فیصد تک بچھیا ہی پیدا ہوتی ہیں، اسے سیكسڈ امبرايو ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے۔ اگر کسی گائے کو بچھڑا بھی ہوتا ہے تو اسے بھی گایوں کو حاملہ کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دینے کے بجائے پال لیا جاتا ہے اور وہ بھی کسانوں کی آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والا بچھڑا بھی اعلی قسم کے ہوتے ہیں جن کے ذریعے حاملہ کرائی جانی والی گایوں سے اچھی نسل کے بچھڑے-بچھیا پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ نہ کر پانے والی اور کھلی چھوڑ دی گئی گایوں کو بھی اس ٹیکنالوجی سے حاملہ کیا جا سکتا ہے جس سے کھلے جانوروں سے کسانوں کی فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کو بھی روکا جا سکے گا۔

ڈاکٹرکنی نے کہا کہ ان کی کمپنی کا مقصد ملک میں دودھ کی پیداوار بڑھاکر کسانوں کے لئے صحیح جنیٹکس کی گائیں فراہم کرنا ہے جس سے کسان خوشحال اور پر مسرت زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے کی نئی جدتوں میں ان کی معروف کمپنی ٹرانسوواکو جنیٹکس انک امریکہ، روژلین انسٹی ٹیوٹ،یونیورسٹی آف ایڈنبرگ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیكنالوجی مدراس اور نیشنل سینٹر فار بايولوجیكل سائنسز کے ساتھ اسٹریٹجک اور تکنیکی تعاون و شراکت حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا منصوبہ شمالی اور جنوبی ہندوستان میں اپنی لیباٹریز قائم کرنے کی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ مقدار میں برون تیار کر کے گایوں کو حاملہ کیا جائے اور كسانوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ زیادہ تعداد میں برون کی پیداوار سے ان کی قیمت بھی کم ہو جائے گی۔ وہ گئوشالاؤں اور کسانوں کے گروپوں کو بھی اپنی خاص تکنیک كے ذریعے برون کی پیداوار میں مدد کرنا چاہتے ہیں جس سے کسان خود گایوں کو حاملہ کر کے اپنے اس اہم لائیواسٹاک سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ وہ’رورل انٹر پرینور شپ پروگرام ‘بھی چلا رہے ہیں جس سے کاروباری تکنیکی تربیت مہیا کرواکر ملازمتوں کے مواقع پیدا کرائے جا سکیں۔

ڈاکٹرکنی نے کہا کہ حکومت کسانوں کی ترقی کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی کسانوں کی ترقی پر منحصر ہے اور اس لئے ایسے وسائل پر خاص طور پر غور کرنا چاہیے جس کے ذریعے کسانوں کی آمدنی دگنی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی اےجی کا مشن حکومت کی منصوبہ بندی کے مطابق ہندوستانی زرعی شعبہ میں آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنا ہے۔ اسی کے تحت نئی تکنیک کے ذریعہ گایوں کی جینیات کو بہتر بنا کر دودھ کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔ کمپنی کو یقین ہے کہ اس کی یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوگی اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔