ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی بم کو یاد کرنا کیوں ضروری... (قسط اول)

دوسری جنگ عظیم کے آخری سال میں امریکہ اور انگلستان نے جاپان پر فوجوں کو بھیج کر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ جنگ ختم ہوسکے۔

6 اگست 1945 وقت صبح کے سوا آٹھ بجے ایٹمی بم گرا دیا، 43 سکنڈ گرنے کے بعد ایٹم بم پھٹا، زبردست روشنی کی چمک ، خوفناک ، گرم ہر چیز میں آگ لگانے والی آندھی اور پھر پورے شہر پر چھاجانے والا مشروم بادل۔ یہ چند الفاظ ان تین امریکی جہازوں (29-B) میں سے ایک خاص جہاز کے کمانڈر کی ڈائری میں لکھے گئے کچھ الفاظ اس طرح کے ہیں جیسے کوئی معمولی سی ڈیوٹی کو انجام دینے کے بعد کوئی سپاہی لکھتا ہو۔

انسانی تاریخ میں اتنے وحشیانہ ہتھیار کا یہ پہلا استعمال کہ چشم زدن میں 3 لاکھ سے زیادہ آبادی والا شہر پورے طور سے تباہ ہوگیا۔

امریکی ہوائی فوج کے یہ تین جہاز اس بات سے بے خبر کہ ان کے اس بم نے لاکھوں معصوم لوگوں کو سیکنڈوں میں جلا کر خاک کردیا ، جو زندہ بچے ان کی حالت مرنے والوں سے بدتر ہو گئی ۔2.5 کلومیٹر کے دائرے میں صرف 3 عمارتوں کے ڈھانچے بچے، باقی سب عمارتیں اسکول، اسپتال، گھر ، ہر جاندار شئی پیڑ پودھے، کیڑے مکوڑے سب جل کر خاک ہوگئے۔

ایٹامک بم ڈوم (A-Bomb Dome) جو ایک صنعتی فروغ سینٹر تھا اس کی عمارت کے ڈھانچے کو اس سانحہ کی یادگار کے طور پر رکھا گیا ہے تاکہ ہم اس واقعہ کو نہ بھولیں اور غلطی دوبارہ نہ کریں۔

دوسری جنگ عظیم کے آخری سال میں امریکہ اور انگلستان نے جاپان پر فوجوں کو بھیج کر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ جنگ ختم ہوسکے۔ امریکہ کے فوجی ماہریں کا یہ اندازہ تھا کہ اس طرح جاپان پر حملہ کرنے میں بہت زیادہ امریکی فوجیوں کی جان جانے کا خطرہ ہے۔ سویت یونین کے سربراہ اسٹالن نے ابھی تک جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا تھا۔ جاپانی فوجی ہر مورچہ پر بغیر ہتھیار ڈالے اپنے آخری فوجی تک لڑائی کرتے تھے اور اس کی وجہ سے اتحادیوں کو کافی جانی نقصان ہورہا تھا اور امریکی عوام ایک لمبی جنگ سے تھک چکے تھے۔

یورپ میں جنگ ختم ہوچکی تھی ، جرمنی نے شکست قبول کرلی اور 8 مئی 1945 کو ہتھیار ڈال دیئے اس لئے اب سب کی توجہ جاپان کو شکست دینے کی طرف تھی۔ 8مئی 1845 میں جاپان کو پوٹسڈین ڈیکلیریشن (PotsdaneDeclaration) کے تحت یہ خبردار کیا گیا کہ مکمل تباہی سے بچنے کے لئے وہ فوراً ہتھیار ڈال دے۔ لیکن جاپانی شاہی فوج نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا اور جنگ جاری رکھی۔ اس بے وقوفی کی اصل قیمت جاپانی فوجی اور بے قصور عوام چکاتی رہی۔

امریکی صدر روزویلیٹ نے استالن سے درخواست کی کہ وہ بھی جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کریں، اسٹالن نے اپنی فوجوں کو جاپان کے پاس سائبیریا میں جمع کرنا شروع کیا اور اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ 15 اگست کو جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کریں گیں۔ جاپانی فوجی صلاح کاروں کو یقین تھا کہ روس کے سربراہ اسٹالن امریکہ اور جاپان میں مصالحت کروادیں گے۔

جاپان کی کمرتوڑنے کےلئے امریکہ نے ہوائی جہازوں کی مدد سے آگ لگانے والے بموں کا استعمال کیا اور جاپان کے 67 شہروں کو جلاکر خاک کردیا،لیکن اس کے باوجود جنگ جاری رہی۔ ہیروشیما پر ایٹامک بم گرانے سے پہلے ٹوکیو پر زبردست بمباری کی گئی، جس میں ایک رات میں 1 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں اور ٹوکیو شہر بری طرح تباہ ہوگیا۔ مہینوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے جاپان میں ہر چیز کی کمی کے ساتھ لوگوں کے فاقہ کی نوبت آگئی۔ میرے ایک بزرگ جاپانی دوست نے یہ بتایا کہ کافی دنوں تک تالاب کی نرم گھاس کھاکر گزارنے پڑے۔

20ویں صدی کے شروع ہوتے ہی سائنسی تحقیات نے حیرت انگیز رفتار سے قدرت کے چھپے ہوئے رازوں کو کھولنا شروع کیا۔ 1901 میں پلینک کی فوٹون کی کھوج ، پھر 1904 میں انسٹائن کی اسپیشل تھیوری آف رلیٹوٹی اور ایٹم کے ہونے کی یقین دہانی، 1911 میں ردرفورڈ کی ایٹم کے اندر نیوکلیس کی کھوج ، بورکا ایٹم کا ماڈل ، انسٹائن کا مشہور مقولہ E = mc2 جس نے ایٹم کے اندر چھپی ہوئی بے تحاشہ قوت کی طرف اشارہ کیا۔1915 میں انسٹائن کی جنرل تھیوری نے کائنات کے بارے میں ایک نئی سمجھ کی بنیاد ڈالی جس نے نیوٹن کے اصولوں کو بدل ڈالا اور دوسری طرف کوانٹم قوانین نے ایٹم کے اندر چھپے ہوئے حیرت میں ڈالنے والی ایک نئی دنیا کو روشن کیا۔ 1932 میں چیڈوک نیوٹران کی کھوج نے ایٹم اور اس کے اندر نیوکلیس کے بارے میں کافی حد تک معلومات کو ممکن کیا۔ 1938 میں جرمنی میں آٹو ہین نے یہ معلوم کیا کہ بھاری ایلیمنٹ میں فشن (Fission) کیا جا سکتا ہے۔ 1939 میں لائیز میٹنر اور ان کے بھتیجے رابرٹ فریسک نے فیشن کے عمل کو فزکس کے اصولوں کے تحت سمجھایا۔

نیوکلیر فشن ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی بھاری ایلیمنٹ کا ایٹم ٹوٹ کر ہلکے ایلیمنٹ میں بدل جائے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ بہت ساری قوت بھی ایٹم سے نکلتی ہے۔ اس دریافت نے دوسری جنگ عظیم کے علاوہ عالمی سیاست اور انسان کی انرجی کی بڑھتی ضرورت پر بہت بڑا اثر ڈالا۔

1938 کے تجربہ میں یہ ثابت ہوا کہ نیوٹران کی کم انرجی والی شعاع یورینیم پر اگر ڈالی جائے تو وہ دو کم ماس کے ایلیمنٹز میں ٹوٹ جاتا ہے اس کے علاوہ بہت ساری انرجی اور اوسطاً تقریباً 2.5 نیو ٹران نکلتے ہیں۔ یعنی فشن کے ذریعہ ایٹم کے نیو کلیس میں پوشیدہ بہت ساری انرجی نکلتی ہے۔ ایک نیو کلیس کے فشن سے2.5 نیو ٹران کا نکلنا ایک نہایت اہم دریافت تھی۔ کیونکہ اگر آس پاس بہت سارے یورینیم-235 کے ایٹم موجود ہوں تو ایک نیو ٹران سے فشن کے بعد نکلے ہوئے زائد نیوٹرانس سے فشن ہونے لگے گا اور آس پاس کے سارے یورنیم -235 ایٹم ٹوٹ کر فشن بے تحاشہ انرجی چشم زدن میں پیدا کریں گیں۔ اسی کو چین ریکشن(Chain Reaction)کہتے ہیں اور ایٹم یا نیوکلیر بم میں یہی اصول استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر یورینیم (یو-235)کے فشن سے نکلے فاضل نیوٹران کو ہم کسی اور ایلیمنٹ میں جذب کرلیں تو ہم ہونے والے فشن کو کنٹرل کر سکتے ہیں ۔ جس چیز سے فاضل نیوٹران کو جذب کیا جاتا ہے اس کو موڈیریٹر کہتے ہیں اور نیو کلیر ریکٹر (reactor) میں یہی طریقہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی فاضل نیوٹران کو موڈریٹر کی مدد سے جذب کرکے فشن ہونے والے یو-235 کی تعداد کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ تجرباتی تحقیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف یو-235 ہی نہیں بلکہ کئی اور ایٹموں کو خاص کر پلوٹونیم (پی یو 239)کو بھی اسی طریقہ سے فشن بم یا ریکٹر میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر ہم یورینیم یا پلوٹونیم کو ایک گولے کی شکل میں اکٹھا کریں اور کسی صورت سے فاضل نیوٹران کو اس گولے سے باہر نہ نکلنے دیں تو بغیر کسی کنٹرول کے چین ریکشن کی وجہ سے نیو کلیر بم زیادہ شدت سے بے تحاشہ انرجی پیدا کرے گا۔ گولے کا وہ وزن جس میں یہ فشن خود بخود شروع ہوگا وہ کرٹیکل ماس (وزن) کہلاتا ہے۔ تجربہ نے یہ ثابت کیا تقریباً 15 کلو یورنیم یا صرف 5 کلو پلوٹینیم فوراً ہی بم کی طرح پھٹنا شروع ہوجائے گا۔

سائنسی تحقیات سے معلوم ہوئی معلومات نے عالمی سیاست کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔

1938 کے جرمنی میں نازی پارٹی برسر اقتدار آچکی تھی اور تمام وہ لوگ جو نازی پارٹی کے ہمدرد نہیں تھے وہ معتوب تھے اور سرعام لنچنگ ہورہی تھی۔ تمام دنشور خاص کر یہودی سائنس داں اور عام یہودی بھی اپنی جان بچاکر جرمنی سے باہر بھاگ رہے تھے۔ میٹنر کے والدین چونکہ یہودی تھے وہ اپنی جان بچاکر سویڈن چلے گئے۔ جرمنی میں نفرت کا ماحول ایسا تھا کہ تمام بڑے سائنس دان جرمنی چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ لے رہے تھے۔ پورے ملک میں نازی پارٹی سے تعلق رکھنے والے غنڈے سڑکوں پر انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرکے آزاد گھوم رہے تھے۔

کیا آپ کو اس طرح کے ماحول کی جھلک آس پاس دکھائی دے رہی ہے یا کسی چیز پر تنقید کرتے ہوئے آپ کو ڈر لگتا ہے۔

جرمنی میں ہن اور اسٹریس مین فشن سے متعلق تجربات کرتے رہے اور اس کے نتیجوں سے میٹنر کو مسلسل باخبر رکھا۔ میٹنر اپنے بھتیجے آٹو فرسک کے ساتھ مل کر ان نتیجوں کو فزکس اصولوں کی کسوٹی پر سمجھنے میں کامیاب ہوئے کہ نیوکلیس میں ایسا آخر کیوں ہوتا ہے۔فشن کی ان اہم معلومات پر آٹوہین کو 1944 کے نوبل انعام سے نوازہ گیا۔

فشن کی دریافت کرنےوالے ان چاروں سائنسدانوں نے باوجود بہت دباؤ کے اپنے کو ایٹم بم سے مطابق ہر طرح کی تحقیقات سےاپنے کو الگ رکھا کیونکہ وہ اس خوفناک ہتھیار کے دوررس نتائج کو سمجھ رہے تھے کہ اس کا استعمال ایک انسان دشمن عمل ہوگا۔ شائد وہ ہیرو شیما میں مرنے والے لاکھوں لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔

ہیروشیما میں چشم زدن میں 75 ہزار معصوم لوگ جل مکر راکھ ہوگئے اور اگلے ایک مہینے میں مرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ایٹم بم کسی بھی اعتبار سے ایک فوجی ہتھیار نہیں ہے۔ جو ہتھیار اسکول اور اس میں بچوں کو جلاکر راکھ کر دے، اسپتال اور اس میں مریض اور ڈاکٹر، گھروں میں معصوم لوگ ختم ہوجائیں وہ ہتھیار پوری طرح انسانیت کا دشمن ہے اور جب تک ایسے ہتھیار دنیا سے ختم نہیں ہوجاتے یہ خطرہ ہمیشہ ہی رہے گا کہ کہیں پھر نہ کوئی دوسرا ہیروشیما ہوجائے۔

میں اس مضمون کی اگلی قسط میں ناگا ساکی پر بم اور کچھ مین ہیٹن کی تاریخ کا ذکر کروں گا۔

ترکی شاعر ناظم حکمت کی مشہور نظم dead girl(متوفی لڑکی)کے کچھ حصہ کے ساتھ ہی اس پارٹ کو ختم کرتا ہوں۔

میں آتی ہوں اور ہر دروازوں پر دستک دیتی ہوں۔

لیکن میں نہیں دکھتی ہوں کیونکہ میں بہت پہلے ہیروشیما میں مرچکی ہوں۔

میں 7 سال کی ہوں کیونکہ جب بھی 7سال کی تھی۔

کیونکہ مجھ کو بتایا گیا کہ مرے ہوئے بچے بڑے نہیں ہوتے

ایکدم سے ہزاروں بجلی کی چمک اور سورج سے زیادہ گرم لہر چلی۔

پہلے میرے بال جلے آنکھیں مدھم ہوئیں اور میں اندھی ہو گئی۔

میں جل کر راکھ ہوئی اور تیز آندھی نے میری ہڈیوں کی راکھ بھی اڑادی۔

میں آتی ہوں اور خاموشی سے ہر دروازہ پر دستک دیتی ہوں ۔

مجھ کو اپنے لئے کچھ بھی نہیں چاہیے، نہ کوئی پھل، نہ چاکلیٹ نہ چاول ، نہ روٹی۔

مجھ کو دنیا میں امن چاہیے تاکہ ہم بچے زندہ رہ سکیں، کھیل سکیں اور بلاوجہ ہنس سکیں۔

سب سے زیادہ مقبول