ہمارے جد امجد ہوموسیپینس ہندوستان کب آئے!... وصی حیدر

اسی عنوان سے پچھلے مضمون میں اس حقیقت کا ذکر ہوا کہ سارے انسان ہوموسیپین کی اولادیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی بھی خاص نہیں، چاہے وہ کسی رنگ کا ہو، کسی مذہب کا ہو یا کسی ذات کا ہو۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وصی حیدر

اسی عنوان سے پچھلے مضمون میں اس حقیقت کا ذکر ہوا کہ سارے انسان ہوموسیپین کی اولادیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی بھی خاص نہیں، چاہے وہ کسی رنگ کا ہو، کسی مذہب کا ہو یا کسی ذات کا ہو۔ (چوتھی قسط)

کچھ لوگوں کے لئے یہ سچ پریشان کن ہو سکتا ہے بالکل اسی طرح جیسے کوئی جادو گر اپنے سحر انگیز کرتبوں کے فریب کے پیچھے چھپی ہوئی ترکیبوں کو بتا دے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ تمام انسانی زندگی کی یکسانیت سے خوش ہوں گے کہ ہم سب ایک سحر انگیز کائناتی رقص کا حصہ ہیں۔

ہم اب اس بات کا ذکر کریں گیں کہ ہمارے جد امجد ہوموسیپین کب ہندوستان آئے اور انہوں نے کیا نشانات چھوڑے اور ان کے بعد اور لوگوں کہاں کہاں سے آئے، ہم نے کب کھیتی باڑی شروع کی اورکس طرح اپنے وقتوں کی سب سے بڑی تہذیب کو جنم دیا اور پھر کب ہڑپا کی تہذیب ختم ہوئی۔ اگر ہم ہندوستان میں بسنے والے انسان کے بارے میں جاننا چاہیں تو بھوپال سے 45 کلو میٹر دور بھیم بیٹکا (راسینا ڈسٹرکٹ) میں جانا ہوگا۔ یہ جگہ قدرتی خوبصورتی کی ایک بے مثال جگہ ہے۔ چھوٹی پہاڑیاںان میں کشادہ گپھائیں، پانی کے جھرنے، پھل دار درخت چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں، پاس میں قوارٹز (سخت پتھر) کی پہاڑیاں، جن سے پتھروں کے اوزار اور ہتھیار بنائے گئے ہوں گےاور جنگلی جانوروں سے چھپنے کے لئے پہاڑیاں نہایت کارآمد ہیں۔ مختصراً یہ جگہ اس وقت کے انسانوں کے آرام سے رہنے کے لئے آج کی کسی آرام دہ جگہ سے کم نہیں۔ غرض کہ یہ ایسی جگہ تھی جہاں صدیوں تک بسنے والے لوگوں کی تقریباً ایک لاکھ سال سے لائین سی لگی رہی اور یہ جگہ شائد ہی کبھی خالی رہی۔ یہ جگہ اتنی پسندیدہ تھی کہ صدیوں تک اور خود ہمارے جدو امجد ہوموسیپین یہاں رہے، شکار کھیلا اور زندگی کا جشن مناتے رہے۔یہاں کی پہاڑیوں کی محفوظ گپھاؤں میں انہوں نے اپنے رہنے کے آثار طرح طرح کی تصویروں کی شکل میں چھوڑے ہیں۔ ان میں سے کچھ تصویریں شائد دنیا کی سب سے زیادہ پرانی تصویروں میں شمار ہوتی ہیں۔

اس سوال کا کہ ’’بھیم بیٹکا میں سب سے پہلے انسان کب آیا‘‘ کا جواب تھوڑا مشکل ہے، اس کے جواب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستان میں پہلے انسان سے ہم کیا مطلب سمجھتے ہیں۔ کیا ہم پہلے ہندوستانی سے یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ پہلا ہوموسیپین یا وہ پہلا انسان جس کی اولادوں میں سے ہم آج کے انسان ہیں۔ ان دونوں باتوں میں تھوڑا فرق ہے۔

فرض کیجیے سب سے پہلے 80 ہزار پہلے 30 انسانوں کی ایک ٹولی یہاں آکر آباد ہوئی، لیکن 74 ہزار سال پہلے انڈونیشیا کے سماترا جزیرہ پر ایک بہت بڑا آتش فشاں پھوٹا اور مشرقی ایشیا میں زبردست تباہی ہوئی، جس میں یہاں رہنے والے سارے انسان ختم ہوگئے، اس لئے ان کی کوئی نسل نہیں بچی۔ اب اس کے بعد تقریباً 50 ہزار سال پہلے بسنے والے انسان کسی بڑے قدرتی سانحہ سے بچ گئے اور ان کی نسلیں آگے بڑھیں۔

اگر ہم آثار قدیمہ (Archaeology)کےماہرین سے پوچھیں کہ ہندوستان میں پہلا انسان کب آیا تو ان کا جواب یہ ہوگا کہ تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار سال پہلے انسان ہندوستان میں آباد ہوئے۔ لیکن اگر یہی سوال جنیٹکس کے انسانی آبادی کے ماہرین سے پوچھیں تو ان کا جواب ہوگا کہ پہلا ہوموسیپین ہندوستان میں 65 ہزار سال پہلے بسا، جس کی نسل سے ہم سب لوگ ہیں، ان دونوں جوابات میں کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ ہوموسیپین کے آنے سے پہلے کی انسانی نسلیں دنیا بھر میں ہر جگہ ختم ہوگئیں۔

کچھ دہائیوں تک بہت لوگ یہ سوچتے تھے کہ شائد ارتقا کی مختلف منزلیں طے کرتے ہوئے خود ہندوستان میں انسان کی اور قسموں ہومو اریکٹس (Homo Erectus)سے بعد میں ہوموسیپین یہیں پر پیدا ہوا۔ حالانکہ 1871 ہی میں چارلز ڈارون (1809-1882) نے اس بات کا انکشاف کردیا تھا کہ دنیا بھر میں موجودہ انسان، ہوموسیپین آفریقہ ہی سے آیا ہے۔ یہ سمجھ تھی کہ ہر جگہ انسان کی مختلف نسلیں بنیں اور بعد میں آپس میں گھل مل کر سب ایک ہوگئیں۔ لیکن اس طرح کی سمجھ کو بھی سائنسدانوں نے ردّی کی ٹوکری کی نظر کردیا ہے اور ہم سبھی افریقہ سے آئے اس کو جنیٹکس کی سائنس نے مستحکم کردیا ہے۔

افریقہ میں پرانے انسانوں کی اور نسلوں کا ایک زبردست خزانہ ہے جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملا۔ مثلاً ہمارے پرانے رشتہ دار سہلن تھروپس (Sahelanthropus)کا70 لاکھ سال پرانہ ڈھانچہ، ارڈیپتھیس کا 40 لاکھ سال پرانہ ڈھانچہ، ہوموہبیلیس (Homo Habilis) کا الینتھروپس (Kenyanthropus) کا 35 لاکھ سال پرانہ ڈھانچہ، ہوموہبیلیس کا 24 لاکھ سال پرانہ اور ہائد برجنیس (Heidelbergensis)جو 7 لاکھ سے 2 لاکھ سال تک رہا۔ ہوموسیپین سے پہلے کی اور نسلیں دنیا میں کہیں بھی اب تک نہیں ملیں ہیں۔

تمام سائنسدان اب اس بات سے متفق ہیں کہ دنیا بھر میں موجود تمام انسان افریقی انسانوں کی ایک آبادی کی اولادیں ہیں۔

اگلی قسط میں جنیٹکس کی تھوڑی معلومات کا ذکر ہوگا کہ آخر ڈی این اے میں ایسا کیا ہے کہ اس میں انسانوں کی تاریخ کے سارے راز چھپے ہوئے ہیں۔