’ہم سب ایک افریقی ماں کی اولادیں ہیں‘ ... وصی حیدر

مضمون کی اس قسط میں آسان زبان میں اس بات کا ذکر ہوگا کہ آخر جنیٹکس کس طرح ہم کو یہ بتاتی ہے کہ ہم سب افریقہ کی ایک ماں کی اولادیں ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وصی حیدر

اگر ہم یہ مان لیں کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سبھی انسان اصل میں افریقہ سے تقریباً 70 ہزار سال پہلے نکلے ہوئے انسانوں کے ایک گروپ کی اولادیں ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنیٹکس کی سائنس آخر کس طرح اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ تھوڑا بہت جنیٹکس کو سمجھنا ضروری ہے۔ مضمون کی اس قسط میں آسان زبان میں اس بات کا ذکر ہوگا کہ آخر جنیٹکس کس طرح ہم کو یہ بتاتی ہے کہ ہم سب افریقہ کی ایک ماں کی اولادیں ہیں۔

برطانیہ کے مشہور سائنسداں رابرٹ ہوک نے 1665 میں تمام جاندار اور نباتات کی اکائی (جس کو اس نے سیل یعنی خلیہ کا نام دیا) کی دریافت کی۔

جس طرح ایٹم کا نیوکلیس ہوتا ہے اسی طرح ہر جاندار (انسان بھی) کے سیل کے بیچ میں نیوکلیس ہوتا ہے۔ انسانی زندگی کے سارے راز (Genetic Code) نیوکلیس کے اندر کروموزوم کے 23 جوڑوں کے اندر ہوتے ہیں۔ ہر کروموزوم کے اندر ایک بہت بڑا مالیکیول DNA مڑی ہوئی حالت میں ہوتا ہے۔ اسی مالیکیول میں زندگی کے سارے راز پنہاں ہیں۔

ڈی این اے مالیکیول کی سب سے پہلے نشاندہی 1860 میں ایک سوئٹزرلینڈ کے کیمیا داں جان فریڈرک مائسچر نے کی۔ یہ زندگی کی اصل بنیاد کی دریافت تھی۔ اپنی اس اہم دریافت پر بہت سارے تجربات کرنے کے بعد ہی 1874 میں ایک مضمون میں اس کا اعلان کیا۔

ڈی این اے مالیکول کا اصل کیمیائی نام deoxyribonucleic acid ہے۔ اس کے بارے میں کچھ اور باتیں آگے بیان کی گئی ہیں۔

کروموزوم کے 23 جوڑوں کے علاوہ سیل کے نیوکلیس کے باہر ایک اور ڈی این اے مالیکیول مائٹوکونڈریل ڈی این اے یا مختصراً ایم ٹی ڈی این اے ہوتا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ ہر عورت یا مرد میں یہ صرف اس کی ماں سے ہی آتا ہے۔ حالانکہ باپ میں بھی ایم ٹی ڈی این اے ہوتا ہے لیکن وہ اس کو اپنی اولاد کو نہیں دے سکتا ہے جب کہ نیوکلیس کے اندر 23 کروموسوم کے ہر جوڑے کا آدھا حصہ ماں سے اور آدھا باپ سے آتا ہے۔ جنیٹکس کی سائنس یہ بتاتی ہے کہ کسی بھی انسان کی زندگی کے سارے راز ان 23 جوڑے کروموسوم اور ایم ٹی ڈی این اے میں موجود ہوتے ہیں سائنسدانوں نے اس ساری اطلاع کا نام جیونوم دیا ہے۔

ہر کروموسوم کے جوڑے کے دونوں حصہ تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں ان میں ایک جیسے کوڈ آپس مین ایک ہی جگہ پر ہوتے ہیں۔ ان دونوں میں فرق صرف 0.1 فیصد کا ہوتا ہے۔ یہ فرق اوسطاً اتنا ہی ہوتا ہے جتنا کسی بھی دو مختلف انسانوں میں ہوتا ہے۔ یہ فرق ایک سیل کے تقسیم ہونے میں یہ بے ضرر فرق میوٹیشن کہلاتا ہے اور پھر یہ فرق دوسری نسل کو ملتا رہتا ہے۔ اگر یہ نقصان دہ ہوگا تو قدرتی انتخاب میں ختم ہو جائے گا۔

ہم کسی بھی انسان کے پورے جینوم کو ایک کمپیوٹر پروگرام یعنی ہدایتوں کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ہدایتیں صرف چار حروف اے، سی، جی، ٹی سے لکھی ہیں۔ اصل میں یہ چار کیمیائی کمپاؤنڈ ہیں: اے (ایڈینائن)، سی (سائٹوسائن)، جی (گوانائن) اور ٹی (تھائمائن)۔ ہمارے جینوم میں تقریباً 300 کروڑ حروف (اے، سی، جی، ٹی) ہیں۔ اور کسی بھی دو انسانوں کے بیچ 0.1 فیصدی کے فرق کا مطلب 30 لاکھ حروف کا فرق ہو سکتا ہے۔ ان حروف کا فرق کم ہوتا ہے اگر ماں اور باپ کے جدامجد قریبی رشتہ دار ہوں گے۔ اس کا بہت ہی اہم مطلب ہی ہوا کہ جینس میں حروف کا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماں اور باپ کے جد و امجد کتنے قریبی یا دور کے رشتہ دار ہیں۔

1869 میں مائسچر کی ڈی این اے کی دریافت کی اہمیت کا اندازہ سائنسدانوں کو تقریباً 50 سال کے بعد ہوا جب بہت لوگوں کو یہ جستجو ہوئی کہ آخر ڈی این اے کے اس بڑے مالیکیول میں کیا ہے۔ ان تمام سائنسدانوں کا ذکر اس چھوٹے مضمون میں ممکن نہیں لیکن ڈی این اے کی تفصیلی بناوٹ تک پہنچنے سے پہلے ایک روسی سائنسدان فوبس لیو نے (1940-1869) کا ذکر ضروری ہے، کیونکہ اس نے یہ معلوم کیا کہ ڈی این اے کی بناوٹ میں کون کون سے کمپاؤنڈ ہیں۔ اس کی تحقیقات اس قدر سچ تھیں کہ اس نے تقریباً 300 مقولہ سائنسی رسالوں میں لکھے۔ اس کے بعد ارون چارگان (2002-1905) کا نام لینا ضروری اس لیے ہے کہ انھوں نے معلوم کیا کہ ڈی این اے میں اے اور ٹی کی تعداد اور جی اور سی مالیکیول کی تعداد برابر ہوتی ہے۔ اس دریافت کی اہمیت کی وجہ سے اس کو چارگان رول کہتے ہیں۔ اس وقت تک کہ ایسا کیوں ہے کہ اے ہمیشہ ٹی کے ساتھ اور سی ہمیشہ جی کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

ڈی این اے کی دلچسپ کہانی کافی لمبی ہے اس لیے اگلی قسط میں مختصراً اس کی حیرت انگیز بناوٹ کا ذکر اور پھر صرف ان باتوں کا ذکر ہوگا جو اس مضمون کے عنوان سے خاص تعلق رکھتی ہے۔