کورونا ویکسین کے سلسلہ میں ’آکسفورڈ یونیورسٹی‘ کی اہم پیش رفت، بندروں پر کامیاب تجربہ

کسی مرض کی ویکسین تیار کرنے میں عموماً 10 سال تک کا وقت لگ جاتا ہے لیکن تصور کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین اس سال کے آخر تک دستیاب ہو سکتی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کی سمت میں ایک اہم شروعاتی کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ذریعے ایجاد کی جا رہی ویکسین کا بندروں پر کیا گیا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک مختصر تحقیق تھی اور اسے چھ بندروں پر کیا گیا تھا تاہم اس کے نتائج اس قدر حوصلہ افزا رہے کہ اسی مہینے سے اس ویکسین کا انسانوں پر تجربہ (ہیومن ٹرائل) شروع کر دیا گیا ہے۔

برطانیہ کی معروف دواساز کمپنی ایسٹرا جینکا نے گزشتہ مہینے اعلان کیا تھا کہ وہ آکسفورڈ اور انگلینڈ میں ہی واقع جینر انسٹی ٹیوٹ کے محققین کے ساتھ مل کر اس سمت میں کوششیں کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کچھ بندروں میں ویکسین کے ایک ڈوز کے بعد 14 دن کے اندر ہی کرونا وائرس کے خلاف انٹی باڈیز پیدا ہو گئیں۔ دوسرے بندروں میں بھی یہ یہ عمل 28 دن کے اندر مکمل ہو گیا۔ اس کے بعد بندروں کو کرونا وائرس کی بھاری تعداد کے رابطہ میں لایا گیا۔ اس کے بعد پتہ چلا کہ ویکسین نے بندروں کے پھیپھڑوں کو نقصان سے محفوظ رکھا۔

ویکسین کے اثر سے کورونا وائرس زیادہ تیزی سے نہیں پھیل پایا۔ ماہرین اسے ایک خوش آئند خبر قرار دے رہی ہیں۔ لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن میں پروفیسر اسٹیفن ایوانس کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی سمت میں جو ایک بڑی رکاوٹ تھی اسے دور کر لیا گیا ہے۔

بندروں میں ویکسین کے تجربہ کا کامیاب ہونا ایک اہم کامیابی ہے لیکن کیا اس سے پوری طرح بے فکر ہوا جا سکتا ہے! ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسا بھی ہوا ہے کہ جو ویکسین بندروں پر کام کر رہی تھی وہ انسانوں کے معاملہ میں ناکام ہو گئی۔ پروفیسر اوانس کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں ایک چیز تسلی بخش ہے اور وہ یہ کہ ویکسین نے کام خراب نہیں کیا، ورنہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ویکسین کے تجربہ کے بعد بندروں کی صورت حال مرض کی حالت سے بھی زیادہ بدتر ہو جاتی ہے۔

اب انسانوں پر ٹرائل چل رہا ہے اور 13 مئی تک ایک ہزارو لوگوں کو ویکسین کی خوراک دی جا چکی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں واضح طور پر نتائج حاصل ہو جائیں گے۔ عموماً کسی نئی ویکسین کی آمد میں 10 سال تک کا وقت گزر جاتا ہے لیکن کورونا وائرس سے جان گنوانے والوں کی تعداد جس طرح سے بڑھ رہی ہے اس کے پیش نظر اس سال کے آخر تک ایک مؤثر ویکسین کے آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

Published: 15 May 2020, 6:11 PM