اسرو کی جرأت مندانہ کاوشوں کی دنیا بھر میں پزیرائی، ناسا بھی ستائش کرنے پر مجبور

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اسرو کے خلائی مشن چندریان -2 کی ستائش کی ہے۔ ناسا نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’’ہم چندریان-2 مشن کو چاند کے جنوبی قطب پر اترانے کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہیں۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اسرو کے خلائی مشن چندریان -2 کی ستائش کی ہے۔ ناسا نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’’خلائی مشن مشکل ہوتے ہیں۔ ہم اسرو کے چاند کے جنوبی قطب پر اس کے چندریان-2 مشن کو اترانے کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہیں۔ آپ نے ہمیں اپنے سفر سے حوصلہ افزا کیا ہے اور ہم آپ کے ساتھ اپنے شمسی نظام کے بارے میں مزید دریافت کرنے کے لئے مستقبل کے مواقع کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

وہیں، متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی کی طرف سے بھی اسرو کی تعریف کی گئی ہے۔ ایجنسی کی طرف سے کہا گیا، ’’چندریان-2 سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں میں ہم اپنی طرف سے اسرو کا پورا تعاون کریں گے۔ ہندوستان کے اس قدم نے ثابت کیا ہے کہ وہ خلائی شعبہ میں اہم کردار ادا کرے گا اور نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔‘‘

قبل ازیں، پاکستان کی پہلی خلانورد نمیرا سلیم بھی اسروں کی تاریخی کوشش کی تعریف کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’چندریاد-2 مشن جنوبی ایسیا کے لئے خلا کے شعبہ میں ایک لمبی چھلانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ، ’’میں چندریان-2 کے لینڈر وکرم کی چاند کے جنوبی قطب میں سافٹ لینڈنگ کی کوشش کے لئے اسرو اور ہندوستان کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔‘‘

واضح رہے کہ چاند کی سطح پر آتے وقت 2.1 کلومیٹر کی بلندی پر اسٹیشن سے چندریان- کے لینڈر ’وکرم‘ کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس سے قبل وکرم نے ’رف بریکنگ‘ اور فائن بریکنگ کے مراحل کو کامیابی کے ساتھ پورا کر لیا تھا لیکن ’سافٹ لینڈنگ‘ سے قبل زمین پر موجود اسٹیشن سے اس کا رابطہ ختم ہو گیا۔

وکرم لینڈر سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اسرو کے سائنس دانوں اور ملک کے باشندگان مایوسی میں ڈوب گئے۔ اسرو کے صدر کے سیون نے اس کے بعد سائنس دانوں نے تبادلہ خیال کیا اور اعلان کیا کہ وکرم لینڈر کو چاند کی سطح کی طرف لانے کا عمل منصوبہ کے مطابق اور حسب معمول نظر آئی۔ لیکن جب وہ محض 2.1 کلو میٹر کی بلندی پر تھا تو اس کا رابطہ زمینی اسٹیشن سے منقطقع ہو گیا۔