’چاند مریخ کا حصہ ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ نے ناسا کو پڑھائی سائنس!

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا، ’’ناسا کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم چاند پر جا رہے ہیں، یہ تو ہم 50 سال قبل کر چکے ہیں۔ انہیں بڑی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے مثلاً چاند (جوکہ مریخ کا حصہ ہے)‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: اپنے بیانات کی وجہ سے اکثر تنازعات میں رہنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ٹوئٹ نے پھر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں ناسا کو مخاطب کر کے اسے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ناسا کو یہ کہنا بند کر دینا چاہیے کہ وہ چاند پر جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے 2024 تک چاند پر دوبارہ قدم رکھنے کا ہدف رکھا ہے اور تبھی سے غفلت کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

یورپ کے دورے سے واپسی کے دوران ’ایئر فورس ون‘ سے ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا، ’’ہم اس پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں اور ناسا کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم چاند پر جا رہے ہیں جبکہ یہ تو ہم 50 سال قبل ہی کر چکے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا، ’’ہم جو کچھ اہم کر رہے ہیں اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، مثلاً مریخ (جوکہ چاند کا حصہ ہے)، دفاع اور سائنس۔‘‘

حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ شاید یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ چاند کا سفر مریخ کے سفر کی سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے لہذا یہ مریخ کے سفر کا حصہ ہے۔ بہر حال ٹرمپ کے اس ٹوئٹ کے حقیقی معنی واضح نہیں ہیں۔

ٹوئٹ سے یوں بھی محسوس ہوتا ہے، گویا وہ امریکہ خلائی ایجنسی سے گزارش کر رہے ہیں کہ اسے مریخ کے مشن پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور چاند کے مشن کو اس سمت میں محض ایک قدم اور آگے بڑھانے جیسا ہے۔

نائب صدر مائیک پینس نے اپریل میں 2024 تک چاند پر واپسی کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ کچھ ماہرین کو اس مشن کے بروقت پورا ہونے پر شبہ ہے۔

Published: 8 Jun 2019, 2:10 PM