دوربین کی کہانی: گیلیلیو نے دوربین نہیں کی ایجاد... وصی حیدر

سب سے پہلے گیلیلیو نے اپنے اس نئے کھلونے کا رخ چاند کی طرف کیا تو اس نے یہ پایا کہ چاند کی سطح اوبڑ کھابڑ ہے کہیں گڈھے ہیں تو کہیں چھوٹی پہاڑیاں اور بڑے پہاڑ ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وصی حیدر

وصی حیدر

1607 میں نیدر لینڈ کے ایک چشمے کے لینس کاریگر ہانس لپرہے نے جب دو لینس ایک دفتی کے ٹیوب میں رکھے تو اس نے یہ دیکھا کے اس کی مدد سے دور کی چیزیں بڑی اور پاس دکھائی دیتی ہیں۔ جلد ہی یہ پہلی دوربین بچوں کے کھلونے کی شکل میں یورپ کے شہروں میں بازاروں اور میلوں میں مقبول ہونے لگی، خاص طور پر فرانس میں۔

1609 میں جب گیلیلیو نے اس کھلونے کے بارے میں سنا تو اس کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا اور اس نے فوراً ہی اس کو بجائے زمین پر دور کی چیزوں کو دیکھنے کے اس کا رخ آسمان کی طرف کیا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ کائنات میں انسان اور ہماری زمین سے مطابق ہماری سمجھ میں آنے والے ایک زبردست انقلاب کی شروعات تھی۔

سب سے پہلے گیلیلیو نے اپنے اس نئے کھلونے کا رخ چاند کی طرف کیا تو اس نے یہ پایا کہ چاند کی سطح اوبڑ کھابڑ ہے کہیں گڈھے ہیں تو کہیں چھوٹی پہاڑیاں اور بڑے پہاڑ ہیں۔ اس کے اس مشاہدے سے یہ بھرم ٹوٹ گیا کہ آسمانی چیزیں کسی ایسی خاص مادہ سے نہیں بنی ہیں جو ہم اپنی زمین پر ہر جگہ دیکھتے ہیں۔

اس نے پھر دوربین کو اپنی کہکشاں (Miley Way) کو دیکھنے کے لئے استعمال کیا۔ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ کہکشاں آسمان میں پھیلے ہوئے ایک بادل کی طرح ہے۔ دوربین سے دیکھنے کے بعد اس نے یہ پایا کہ بجائے ایک بادل کے اس کہکشاں میں کروڑوں ستارے ہیں۔

گیلیلیو کو سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز دکھائی دی جب اس نے اپنی دوربین کا رخ جوپیٹر (عطارو) کی طرف کیا۔ اس وقت تک فلکیاتی سائنسداں جوپیٹر کو ایک آوارہ سیارہ کے نام سے جانتےتھے اور آسمان میں اس کے چلنے کے راستہ کو اچھی طرح سمجھنے میں کافی دشواریاں تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ یہ سیارہ کچھ اپنی مرضی سے گھوم رہا ہے۔

گیلیلیو حیرت میں پڑ گیا جب اس نے دوربین سے جوپیٹر کے پاس تین چھوٹے کالے نقطے دیکھے۔ شروع میں اس نے سوچا کہ شائد یہ کچھ نئے ستارے ہیں جن سے کسی وجہ سے روشنی نہیں آرہی ہے۔ کچھ دن اور انتظار کرنے کے بعد جب اس نے دوبارہ دوربین سے دیکھا تو اس مرتبہ تین کے بجائے چار چھوٹے نقطے کچھ اپنی جگہ سے ہٹے دکھائی دیئے اس مشاہدے کے بعد گیلیلیو فوراً ہی سمجھ گیا کہ یہ چار نقطے اصل میں جوپیٹر کے چاند ہیں جو اس کے چاروں طرف چکر لگا رہیں ہیں۔ اس دریافت کے اس زمانے میں بڑے دور رس نتائج تھے۔ یہ ثابت ہوا کہ جس طرح ہماری زمین کے گِرد ایک چاند چکر لگا رہا ہے ویسے اور سیاروں کے گرد بھی ان کے چاند چکر لگا رہے ہیں۔ یعنی کائنات میں ہماری زمین کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے کہ ہر چیز اس کے گرد چکر لگائے۔ یہ بات اس وقت کی ہر مذہبی سمجھ کے خلاف تھی۔ جو انسانی زندگی اور ہماری زمین کو کائنات کا محور مانتے تھے۔ گیلیلیو کے مشاہدے سے ’’زمین کائنات کا محور ہے‘‘ اس سمجھ کو زبردست دھکا لگا اور یہ ثابت ہوگیا کہ سیاروں کی گردش کو سمجھنے کے لئے کوپرنکس کی تھیوری صحیح ہے۔ سارے سیارے نجائے زمین کے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔

گیلیلیو کے ان انقلابی تجرباتی مشاہدوں سے عیسائی مذہب کے رہنما اس قدر برہم ہوئے کہ اس کو نظر بند کردیا اور اس طرح سچ کو دبانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ یہ سوچ کہ سارا علم پرانی کتابوں میں موجود ہے سائنسی مشاہدوں نے بار بار غلط ثابت کیا ہے کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں یہ سمجھ اور مستحکم ہوئی جب گیلیلیو نے اپنی دوربین کا رخ وینس (زہرہ) کی طرف کیا۔ اس نے یہ دیکھا کہ بالکل جس طرح ہمارے چاند کا روشن حصہ مہینہ بھر میں بدلتا ہے ویسے ہی زہرہ کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ جیسے چاند کی پہلی تاریخ سے چودہ تاریخ تک چاند کا روشن زیادہ ہوتا ہوا روشن حصہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے بعد پھر چاند سے آنے والی روشنی غائب ہو جاتی ہے اسی طرح زہرہ (وینس) کا روشن حصہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے صرف فرق یہ کہ زہرہ کے روشن حصہ میں بدلاؤ پورے ایک سال میں ہوتا ہے۔ ان مشاہدوں نے یہ ثابت کردیا کہ سارے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گیلیلیو نے یہ بھی ثابت کیا کہ زہرہ (وینس) زمین اور سورج کے بیچ میں ہے۔

یہ ساری حیرت انگیز دریافت ایک معمولی سے دفتی کے سلینڈر میں دورلینس کی دوربین سے ہے۔

اب بھی بہت چیزیں دریافت ہونے کے انتظار میں ہیں صرف اپنے اندھے اعتقادوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔