دنیا بھر کے خلائی سائنس دانوں نے اسرو کو سراہا

دنیا بھر کے خلائی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے ماہرین اور محققین نے اسرو اور اس کے 16000 سے زیادہ سائنسدانوں کی طرف سے چاند کی مہم کو تقریباً مکمل کر لینے کی کوششوں کی ستائش کی ہے۔

تصویر اے آئی این ایس
تصویر اے آئی این ایس

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دنیا بھر کے خلائی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے ماہرین اور محققین نے ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) اور اس کے 16000 سے زیادہ سائنسدانوں کی طرف سے چاند کی مہم کو تقریباً مکمل کر لینے کی کوششوں کی ستائش کی ہے۔ خیال رہے کہ چندریان-2 کے لینڈر ’وکرم‘ کا رابطہ چاند کی سطح پر لینڈ کرتے وقت اسرو سے منقطع ہو گیا، تاہم 2379 کلوگرام وزن کا چندریان-2 کا آربیٹر چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے۔

سیاروں کی گردش کی ماہر (پلینیٹری سائنٹسٹ) ایملی لکڑاوالا نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’لوگوں کے لئے یہ بس ایک اشارہ ہے کہ لینڈر کو سطح پر لانے کی کوششوں میں لگے ہندوستان نے چاند کی مدار میں اپنی دوسری خلائی گاڑی کامیابی کے ساتھ بھیج دی ہے۔ چندریان-2 کا آربیٹر ایک سال تک وہاں رہے گا۔ جبکہ لینڈر محض دو ہفتوں تک ہی کام کرتا۔‘‘

ناسا اسپیس فلائٹ کے لئے لکھنے والے کرس جی این ایس ایف نے کہا، ’’اگر وکرم سطح پر اترنے میں ناکام رہا، جیسا کہ لگ رہا ہے، تو یاد رکھیں کہ وہاں آربیٹر ابھی ہے اور وہاں سے 95 فیصد تجربے ہو رہے ہیںْ آربیٹر چاند کے مدار میں محفوظ ہے اور اپنے مشن کو پورا کر رہا ہے۔ یہ مکمل طور پر ناکامی نہیں ہے۔‘‘

ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے اسپیس ٹیکنالوجی اینڈ سائنس انیشئیٹیو میں ریسرچ ڈائریکٹر اور سائنس انیشیئٹیو اور مارش اپورچیونٹی روور ٹیم کی رکن ڈاکٹر تانیا ہیریسن نے کہا، ’’مشن کنٹرول میں کافی خواتین کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔‘‘

وہیں آسٹریلین اسپیس ایجنسی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا، ’’لینڈر وکرم چاند پر اپنے مشن کو پورا کرنے سے کچھ ہی کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ اسرو ہم آپ کی کوششوں اور خلا میں سفر جاری رکھنے کے آپ کے عزائم کی سراہنا کرتے ہیں۔‘‘

وہیں ایمیزون کے بانی جیف بیزوس نے پہلے ہی اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا، ’’ٹیم انڈیا کو میری نیک خواہشات، گڈلک انڈیا۔‘‘

واضح رہے کہ اپنے کئی مراحل کو کامیابی کے ساتھ مکمل لینے کے بعد وکرم اپنی طے شدہ رفتار کے ساتھ صحیح طرح سے چاند کی سطح پر لینڈ کر رہا تھا کہ تبھی لینڈر اپنے طے شدہ راستے سے تھوڑا سا ہٹ گیا اور اچانک اس کا رابطہ اسرو سے منقطع ہو گیا اور اچانک اس سے اسرو کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

دریں اثنا، اسرو کے سربراہ سیون جذباتی ہو گئے، اس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں گلے لگا لیا اور تسلی دیتے ہوئے ان کی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی۔ مودی کے اس قدم کی تعریف کرتے ہوئے ہندوستان میں اسرائیل کے سابق سفیر ڈینیل کارمن نے ٹوئٹ کیا، ’’کیا لمحہ ہے، کیا جذبہ ہے!‘‘