سائنسدانوں کا ’باغبانی فصلوں‘ کی کاشتکاری پر زور

زرعی سائنسدانوں نے زیر زمین پانی کے سطح میں دن بدن درج کی جارہی گراوٹ کے پیش نظر باغبانی فصلوں کی کاشتکاری پر زور دیا ہے جس سے کسان اچھی آمدنی حاصل کر سکیں اور پانی کی بچت سے زرعی اخراجات بھی کم ہوں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: زرعی سائنسدانوں نے زیر زمین پانی کے سطح میں دن بدن درج کی جارہی گراوٹ کو دیکھتے ہوئے کم سینچائی میں اچھی پیداوار والی فصلوں خاص کر باغبانی فصلوں کی کاشتکاری پر زور دیا ہے جس سے کسان اچھی آمدنی حاصل کر سکیں اور پانی کی بچت کر کے زرعی اخراجات کو کم کیا جاسکے۔

سنٹرل انسٹی ٹیوٹ فار سب ٹراپکل ہورٹیکلچر(سی آئی ایس ایچ) رحمان کھیڑا لکھنؤ اور محکمہ جنگلات کی جانب سے ’پر ڈراپ مور کراپ‘ موضوع پر کل سے یہاں چل رہے دو روزہ سمینار میں زرعی سائنس دانوں نے نامیاتی کاشتکاری،پھلوں کی باغبانی، مشروم کی پیداوار،پھولوں کی کھیتی اور سبزیوں کی کاشتکاری پر خصوصی زور دیا۔

سی آئی ایس ایچ کے چیف سائنس داں ڈاکٹر دنیش سنگھ نے زیر زمین پانی کے کم ہوتی سطح ،اس کا کھیتی پر غلط اثر اور ڈراپ سینچائی سے پانی کا تحفظ،اس کا فصل پر اچھا اثر،بوند بوند کھیتی میں استعمال اور فیصلوں کی پیداوار میں اضافے کے لئے اس کے فائدے کی تفصیل سے جانکاری دی۔

ڈاکٹر اے آر رام نے کیمیکل کھادوں کا صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کو دیکھتے ہوئے فصلوں کی نامیاتی کھیتی کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس ضمن میں ہر کسان کو بیدا ر ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر رام نے سائنسی تکنیک سے فصلوں کے تیار کرنے کے پورے عمل پر تفصیل سے روشنی ڈالا۔

آج تقریبا چار سو کسانوں کو ادارے کا دورہ کرا کر اس ضمن میں ان کو سائنسی تکنیک کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔ لکھنؤ،ہردوئی، اناؤ،رائے بریلی اور سیتا پور کے ضلع باغبانی افسر ان نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی۔