سائنس کے بڑھتے قدم، بڑھتی سہولیات

شعرو ادب، سائنس وٹیکنالوجی، فن و موسیقی تمام علوم و فنون کا ایک بحرِ بے کراں ہے جس نے معلومات کے ایک سیلِ رواں کی صورت اختیار کر لی ہے۔

مظہر حسنین

اگر کمپیوٹر سائنس دنیا کا معجزہ ہے تو دنیا کا سب سے بڑا قدرتی کمپیوٹر یعنی انسانی ذہن اپنی بلندیٔ پرواز، تفکر اور قدرتی تخلیق کی ایسی مثال ہے جس کے ذریعہ کی گئیں ایجادات و دریافت پر رشک آتا ہے۔ اس کا ایک مظہر دیکھنا ہو تو ٹی وی کے چینل نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری دیکھیں اور میرے خیال میں جو یہ چینل نہیں دیکھتا وہ خود کو کنوئیں کامینڈھک بنے رہنا پسند کرتا ہے۔ اہل مغرب جس طرح کی سرنگیں سمندر کے اندر نکال رہے ہیں اور جیسے پل سمندروں کے اوپر بچھا رہے ہیں، انہیں دیکھ کر حیرت بھی انگشت بدنداں رہ جاتی ہے، بے اختیار رب جلیل کی عظمت اور دین کا تصور دو چند ہوجاتا ہے، دہریئے پریشاں اور متشکک خدا کی وحدانیت پر ایمان لے آتے ہیں۔ یہ قدرت کا انعام ہے کہ اس نے انسان کے مختصر دماغ کو اس قدر کمال اور فراست بخشی کہ وہ محیر العقول کارنامے تخلیق کر رہا ہے۔

انسان کو اس لئے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ وہ قدرت کے مظاہر کو اظہار کا لبادہ بخش سکے۔ سائنس کے عجائب اور ٹیکنالوجی کے کرشمے دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ خدا کس قدر عظیم ہوگا جس نے مٹی بھر انسانی ذہن کو اس قدر خصائل سے نوازا۔ یہ سب کمال میرے رب کا ہے، ورنہ انسان کیا اور اس کی بساط کیا۔ مٹی اور راکھ کا ساٹھ سالہ ڈھیر جو بالآخر خود بھی مٹی میں مل جاتا ہے، اس کے بنائے ہوئے کارنامے کئی سوسال تک زندہ و تابندہ رہتے ہیں۔

تاج محل کو دیکھیں، جسے بنے ساڑھے تین سو سال ہوگئے، مگر اس کی چمک دمک آج تک ماند نہیں پڑی، اور نہ ہی کوئی دراڑ سامنے آئی ہے۔ تاج محل کو سالانہ ایک ارب لوگ دیکھنے آتے ہیں اور بھارت کو ایک ارب ڈالر بھی دے کرجاتے ہیں۔ موجودہ وقت میں امریکہ، یورپ حتیٰ کہ مشرق قریب میں بھی سائنس و ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کر چکی ہے اور ایسے کارنامے سرانجام دیئے جارہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سمندروں کو سمندروں سے اور ملکوں کو ملکوں سے ملایا جا رہا ہے۔ ہالینڈ اور برطانیہ دو الگ ممالک ہیں جن کے بیچ میں ایک زور آور سمندر حائل ہے، لیکن ان دونوں ممالک کو اندر ہی اندر اس طرح ملا دیا گیا ہے کہ ہالینڈ سے داخل ہونے والا کوئی بھی شخص راستے میں پانی کا ایک قطرہ تک نہیں دیکھتا اور برطانیہ پہنچ جاتا ہے۔

انسان نے صنعتی میدان میں بھی تیزی سے ترقی کی۔ آبادی میں اضافے کے باعث غذائی اجناس کی ضروریات بڑھتی گئیں۔ پھر اس مسئلے کے حل کے لئے فصلوں میں مصنوعی کھاد اور فصلوں کو کیڑے سے بچانے کے لئے زرعی ادویات کا استعمال شروع کیا گیا۔ سائنس وٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے میڈیکل میں ترقی کی جن بیماریوں کا علاج کبھی ممکن ہی نہیں تھا یعنی ٹی بی اور کینسر وغیرہ آج ڈاکٹرز ان بیماریوں کا علاج کر رہے ہیں۔ انسانوں نے سائنس کی بدولت زمین، چاند اور ستاروں کو بھی مسخر کر لیا ہے۔ جن جانوروں سے انسان کبھی ڈرا کرتا تھا آج ان کا استعمال روزمرہ زندگی میں کر رہا ہے۔

ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کی ایجادات نے انسانی زندگی میں کافی سہل اور آسانی پیدا کر دی ہے۔ ٹیلی ویژن کے ذریعے ہم گھر بیٹھے دین اور دنیاوی معلومات حاصل کر سکتے ہیں جبکہ انٹرنیٹ کے ذریعے سے ہم آن لائن تعلیم حاصل کی جا رہی ہے۔ انٹرنیٹ نے انسان کے لئے گھر بیٹھے بیٹھے تمام کام آسان کر دیئے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے نہ آن لائن بات چیت اور خرید و فروخت بلکہ روزی کمانا بھی ممکن ہو چکا ہے۔

ٹیلی فون کی ایجاد نے رابطوں کو آسان بنا دیا اور اب ہم دنیا بھر میں کہیں بھی کسی بھی رشتہ دار سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ سائنس وٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کو آرام دہ بنا دیا ہے اور آنے والے وقتوں میں اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ انسان بالکل سست اور کاہل ہو جائے گا اوراپنے تمام کام مشینوں سے کروائے گا۔

سائنس کے بڑھتے قدم، بڑھتی سہولیات

موبائل فون کی مثال دیکھ لیں۔ یہ انقلاب ہماری نگاہوں کے سامنے وقوع پذیر ہوا، اور اب صرف ایک بٹن دبانے سے آپ چند سیکنڈ میں قطب شمالی پہنچ جاتے ہیں۔ موبائل فون کی ایجاد کے بعد انسانی زندگی میں اس قدر تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں کہ آج کا انسان یہ سوچتا ہے کہ آخر دنیا اب تک اس کے بغیر زندہ کیسے رہی؟ کمپیوٹر کو دیکھیں تو دنیا سحر انگیز لگنے لگتی ہے۔

جس طرف بھی نظر ڈالیے سائنسی کرشموں کے تحیر خیز نظارے انسان کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ صدیوں کے فاصلے سمٹ کر لمحوں کی دسترس میں آگئے ہیں۔ اب دنیا نہ صرف ایک عالمی گاؤں کا منظر پیش کر رہی ہے۔ بلکہ گاؤں پھیل کر پوری دنیا تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ اگر ایک واقعہ دنیا کے ایک کونے میں وقوع پذیر ہوتا ہے تو دوسرے لمحے اس کی خبر دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ موبائل ہی کو لیجئے! جس نے دنیا کے رہن سہن اور برتاؤ کے رویے ہی بدل ڈالے ہیں۔ گلی کی نکڑ پر بیٹھے نوجوانوں کا ٹولہ موسیقی سے بذریعہ موبائل لطف اندوز ہو رہا ہے۔ ایک دوسرا گروہ موبائل کے ذریعے تلاوتِ کلامِ پاک سے اپنے سینوں کو منور کر رہا ہے۔ دوسری طرف انٹرنیٹ نے دنیا جہاں کی معلومات کو انسان کے قدموں میں ڈھیر کر رکھی ہے۔ لوگ اپنی ضرورت اور مزاج کے مطابق اس ذریعے سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

شعرو ادب، سائنس وٹیکنالوجی، فن و موسیقی تمام علوم و فنون کا ایک بحرِ بے کراں ہے جس نے معلومات کے ایک سیلِ رواں کی صورت اختیار کر لی ہے۔ شمسی توانائی جیسی مفت ملنے والی دولت کو انسان نے مسخر کر کے اپنے دماغ میں چھپی ہوئی قوتوں کو باہر نکالا ہے اور انسانیت کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب شمسی توانائی سے چلنے والے پینل بجلی گھروں کی جگہ لے رہے ہیں۔ ایٹم کے سینے کو چیر کر انسان نے توانائی کا ایک ایسا بحرِ بے کراں دریافت کیا جس نے ایجادات کے میدانوں میں ایک ایسی ایجاد کی جس نے تہذیبوں کو اندھیروں کو بھی تبدیل کر دیا اور اندھیرے میں ڈوبی قوموں کو روشنی کے ایسے مینار عطا کیے جو ان کی عظمت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ لیزر اور بصری ریشوں یعنی آپٹیکل فائبر کی ایجاد نے پیغامات کی ترسیل کا کام اتنا سریع اور تیز رفتار بنا دیا کہ اب انسان یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ ’’محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی’’صدرِ مجلس! سائنس کی ان بہاروں کا تذکرہ تو ایک لامحدود وقت کا متقاضی ہے۔ گھر سے دفتر تک اور دفتر سے بازار تک ہر مقام سائنسی بہاروں کا جلوہ پیش کرتا ہوا ہی نظر آتا ہے۔