لیتھیم آئن بیٹری کی دریافت کے لیے تین سائنس دانوں کو کیمیا کا نوبل انعام

دنیا بھر میں لیپ ٹاپ ،موبائل فون اور الیکٹرک گاڑیوں میں استعامل ہونے والی لیتھیم آئن بیٹریوں کی دریافت کےلیے تین سائنس دانوں کو سال 2019 کے کیمسٹری کے نوبیل انعام کےلیے منتخب کیا گیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اسٹاک ہوم: دنیا بھر میں لیپ ٹاپ ،موبائل فون اور الیکٹرک گاڑیوں میں استعامل ہونے والی لیتھیم آئن بیٹریوں کی دریافت کےلیے تین سائنس دانوں کو سال 2019 کے کیمسٹری کے نوبیل انعام کےلیے منتخب کیا گیا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے بدھ کو جاری ایک بیان میں بتایاکہ ہلکے وزن کی لیتھیم آئن بیٹریاں اس وقت موبائل فون، لیپ ٹاپ اور الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہو رہی ہیں اور انکے فروغ کے لیے تین سائنس دانوں، جرمن شہر ژینا میں پیدا ہونے والے امریکی سائنسدان جان بی گوڈینوف، دوسرے برطانوی ایم اسٹینلے ویٹینگھم اور جاپانی کیمیادان اکیرا یوشینو کو 2019 کے نوبیل کیمسٹری انعام کےلیے منتخب کیاگیاہے۔ انھیں انعام کے طورپر 90 لاکھ سویڈش کرونرکی رقم دی جائیگی۔

اکیڈمی کے بیان میں کہا گیا کہ لیتھیم آئن بیٹری کی دریافت سے انسانی زندگی میں انقلاب کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ اس بیان کے مطابق جدید دور میں کئی ضروری اشیاء میں استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریاں یقینی طور پر انتہائی کم وزن ہیں اور یہ ری چارج ایبل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی طاقتور بھی ہوتی ہیں۔

لیتھیم آئن بیٹری کی دریافت کے لیے تین سائنس دانوں کو کیمیا کا نوبل انعام

اکیڈمی نے کہا کہ نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں نے بغیر تار اور زمین سے حاصل ہونے والے ایندھن کو استعمال نہ کرنے والی معاشرت کی بنیاد رکھی ہے۔ جان بی گوڈینوف نوبل انعام حاصل کرنے والے سب سے طویل عمر کے سائنسدان بن گئے ہیں۔ اُن کی عمر ستانوے برس ہے۔ وہ بنیادی طور پر سالڈ اسٹیٹ فزکس کے ماہر ہیں لیکن کیمیا کے شعبے میں انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ امریکی ریاست ٹیکساس کی آسٹن یونیورسٹی میں مکینیکل انجینیئرنگ اور میٹیریل سائنسز کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

دوسرے سائنسدان برطانوی نژاد امریکی ایم اسٹینلے ویٹینگھم ہیں۔ یہ اٹھہتر سالہ کیمیا دان برطانیہ کی برائٹن یونیورسٹی اور نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کیمیا میں نوبل پرائز حاصل کرنے والے تیسرے اکہتر سالہ جاپانی کیمیا دان ہیں۔ ان کا تعلق نوگویو شہر کی میجو یونیورسٹی سے ہے۔ یہ بیٹریاں سورج ،ہو ا اور قابل تجدید توانائی کے دیگر وسائل سے توانائی حاصل کرکے انھیں اسٹو رکرسکتی ہیں اور انکے فروغ سے رکازی ایندھن سے نجات حاصل کرنے کی راہیں ہموار ہونگی ۔