اسٹیفن ہاکنگ کی شان میں نظم: قدرت نے تجھے بخشی تھی ’اشیاء کی جہانگیری‘

سلام اے اسٹیفن ہاکنگ، تیری نظروں کی تیزی اور تیری فطرت کی غمازی، کہ قدرت نے تجھے بخشی تھی ’اشیاء کی جہانگیری‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پیرزادہ شاہ محمد احمد

اسٹیفن ہاکنگ نظریاتی طبعیات کا عظیم سائنسداں

ماہر فلکیات، ریاضی داں، معلم، ماہر تعلیم

وفات: 14 مارچ 2018

مصنف: اے بریف ہسٹری آف ٹائم

-----------------------------------

سلام

اے اسٹیفن ہاکنگ

تیری نظروں کی تیزی

اور

تیری فطرت کی غمازی

کہ

قدرت نے تجھے بخشی تھی ’اشاء کی جہانگیری‘

تو سمجھا تھا

کہ سرِّ کائنات رنگ و بو کیا ہے

کھلے تھے

تجھ پہ اسرار طبعیات نظریاتی

رُخ شمس و قمر سے

اور نقاب ماہ و انجم سے

کہ سرکائی نقاب ان کی بھی تونے کس سلیقہ سے

تیری آنکھوں کی زد میں تھی

’خلاء‘ کی بیکراں وسعت

کہ ساعت کیا ہے؟

کیا ہے وقت؟

کیا اس کی حقیقت ہے؟

تو وہ نباض فطرت تھا

کہ تونے

ہم کو بتلایا

کہ لمحے کیا ہیں

کیا ہے روشنی

اور

ارتعاش روشنی کیا ہے

نظر پڑتی ہے استعجاب کی تیری بصیرت پر

بتایا

وقت کے ادوار تاریخی

ہے کتنی دور رس تیری نگاہ برق پرور بھی

جو خیرا کر رہی ہے

چشم آدم، چشم عالم کو

کہ سائنس کے افق پر

تو تھا

بے شک منفرد تارا

تیری تحقیق

بے شک منفردتھی، منفرد ٹھہری

کہ

تیری یاد میں روئیں گے

مہر و ماہ و انجم بھی

کہ تو انگارہ خاکی تھا

کہ تجھ پر

ناز کرتا ہے جہان رنگ و بو سارا

تحیر ہے

کہ تو

مفلوج تھا

معذور تھا

نہ جنبش تھی تیرے خاکی بدن میں اور نہ لرزش تھی

نہ حرکت تھی تیرے

اس دست و بازو میں

مگر

بدلے میں اس کے

تجھ کو

قدرت نے دیا وہ ذہن لاثانی

تھی وجدانوں کی دنیا میں تری ہنگامہ آرائی

تو زندہ

تو زندہ ہی رہے گا

کارگاہ علم و تحقیق و تجسس میں

شعور و فکر جوہر

کشیدہ تیرے پڑھتے ہیں

کہ دنیائے خرد میں نام ہے تیرا

صفیر روشنی تو ہے

صفیر آگہی تو ہے

نہ نذرانہ عقیدت کا ہے

تیری

اس بصیرت کو

جو چھن کر علم کے روزن سے لیتی ہے تیرا بوسہ

سلام

اخلاص کا لے لے

اے اسٹیفن ہانکنگ

سلام اے اسٹیفن ہاکنگ، سلام اے اسٹیفن ہاکنگ

-----------------------------

از: - پیرزادہ شاہ محمد احمد رمز

ایم اے، ایل ایل بی

سلطان پور بھاوا، الہ آباد

Published: 5 Jan 2020, 7:11 PM
next