مشینوں کے حصار میں قید ہوتا انسان

بے جان اشیاء کے انٹرنیٹ کا ایک اور پہلو ’ہر جگہ کمپیوٹنگ ‘ ہے جسے یوبی کیوٹس کمپیوٹنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ہر شئے کو سینسر اور کمپیوٹر پروسیسر سے آراستہ کرکے اسے اسمارٹ بنایا جاتا ہے۔

جی ہاں! چونکئے مت، دانتوں تلے انگلی مت دبائیے، کیونکہ ہم ایسی حقیقت سے آپ کو آگاہ کرنے جارہےہیں جو آنے والے زمانے میں آپ سے ہم کلام ہوں گی ۔ جنہیں سائنس کی اصطلاح میں انٹر نیٹ آف تھنگس (Internet of Things) کام نام دیا گیا ہے ۔ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں اس سمت پیش رفت کے بہت قوی امکانات ہیں ۔یہ تکنیکی ترقی آپ کی گھریلو اشیاء کو آپ سے منسلک کر دے گی اور ایک ایسے نیٹورک سسٹم کا وجود عمل میں آجائے گا جس سے ہر لمحہ آپ اپنی گرد و پیش کی اشیا ء سے منسلک ہو جائیں گے ۔آپ کی فریج سے لیکر گاڑی ، مائیکرو یو اوون،ٹیلی ویژن، اے سی اور یہاں تک چھت اور سیڑیاں سب کچھ ایک تکنیکی نظام کی پابند ہوجائینگی ۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نئے نظام سے رشتے استوار کریں اور آئندہ کی آہٹ پر اپنے کان دھریں تاکہ سہولیات کا زیادہ سے زیادہ اور صحیح فائدہ اٹھاسکیں۔

اطلاعاتی ومواصلاتی تکنیک روز افزوں انسانی زندگی پر اثر انداز ہورہی ہے ، ساتھ ہی تیزرفتار تبدیلی بھی رونما ہو رہی ہے۔ کمپیوٹر و موبائل انٹر نیٹ ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی میں تلاطم مچا رکھا ہے ۔ برقی لہروں کے ہچکولے اطلاعات کو جھولے جھلا رہی ہیں۔ بہت سارے لوگ اس سے ہم اہنگی کے لیے بے تاب ہیں اور بہت سارے لوگ اس جادوئی دنیا سے خوفزدہ ہیں اور اپنی لاعلمی کی بنیاد پر اس کے قریب آنے سے کترا رہے ہیں ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی اسراریت کے راز کو فاش کرنے کے لیے اس کے قریب جانا ہوگا ۔جیسا کہ معین احسن جذبی ؔنے کہا تھا :

اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے

کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے دریا کا نظارہ کرتے ہیں

.

جذبی ؔکا یہ شعر اطلاعاتی و مواصلاتی انقلاب سے بہت موزوں ہے کیونکہ آئندہ پانچ برس میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی تعداد 50 ارب تک پہنچ جائے گی ۔ کیا گھریلو برتن، دروازے اور یہاں تک کہ گملے میں نصب پودے بات کرسکتے ہیں ! اگر نہیں تو ذرا مستقبل قریب کا یہ منظرنامہ ملاحظہ فرمائیے:

’’ایک صبح دروازے پر دستک ہوتی ہے آپ دروازے تک جاتے ہیں تو وہاں موجود بیکری والا کہتا ہے کہ مجھے آپ کے فریج نے بلایا ہے اور انڈے ختم ہونے پر اس نے ہمیں ایک میسج دیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد آپ کے فون پر ایک ٹیکسٹ نمودار ہوتا ہے جس میں گلاب کا پودا پیاس کے مارے چیخ رہا ہے۔کمرے میں آکر آپ جیسے ہی کپ ختم کرتے ہیں تو کپ پرمیسج نمودار ہوتے ہیں کہ آپ تھوڑی اور کافی پینا پسند کریں گے؟‘‘

یہ کسی فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ ان میں سے تقریباً تمام اشیا اب حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہیں۔انہیں’’انٹرنیٹ آف تھنگس‘‘ یا اشیائے انٹرنیٹ کا نام دیا گیا ہے ۔

سین فرانسسیسکو میں ایک ماہر انفارمیشن ٹیکنالوجی ’’ ٹم کوٹس‘‘ کا گھر ساخت کے لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ بہت خوبصورت ہے لیکن ٹم کوٹس کا باغیچہ کچھ خاص نظر آیا ۔ یہاں موجود تمام گملوں کی مٹی میں ننھے سینسر لگے ہوئے ہیں۔جو پودے کی نمی پر نظر رکھتے ہوئے اس کی کمی بیشی کی خبر انٹرنیٹ پر بھیجتے ہیں، یہی نہیں ان کے گھر کا ہر کمرہ سینسرز سے مزین ہے اور آنے جانے والوں کی جاسوسی بھی کرتا ہے جب کہ انٹرنیٹ سے جڑ کر ہراہم گھریلو شے ٹویٹ کرتی ہے اور اس طرح بے جان اشیاء کو بھی جان مل گئی ہے۔بلاشبہ ان سب اشیاء میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ یا کم از کم کسی گھریلو نیٹورک سے جڑی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے نظام کی تیاری میں بہت کم قیمت اشیاء استعمال کی گئی ہیں اور کوئی نئی شئے ایجاد نہیں کی گئی ہے۔

ٹم کوٹس اس بات پر خوش ہیں کہ ان کا گھر اب بے جان نہیں بلکہ ایک باشعور مقام ہے ۔ وہ کمرے میں قدم رکھتے ہیں تو ہیٹر، اے سی یا پنکھے ازخودکام کرنے لگتے ہیں۔ سیڑھیوں پر سے قدم ہٹانے کے چند لمحوں بعد روشنیاں گل ہوجاتی ہیں، تمام اشیا ء اپنی ضرورت کے لحاظ سے وائی فائی، بلیو ٹوتھ یا زگ بی نیٹ ورک استعمال کرتی ہیں۔

بے جان اشیاء کے انٹرنیٹ کا ایک اور پہلو ’ہر جگہ کمپیوٹنگ ‘ ہے جسے یوبی کیوٹس کمپیوٹنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ہر شئے کو سینسر اور کمپیوٹر پروسیسر سے آراستہ کرکے اسے اسمارٹ بنایا جاتا ہے۔اگرچہ اسمارٹ اشیا کے نام پر بہت سے آلات بازار میں دستیاب ہیں لیکن ماہرین ان کی اکثریت کو کھلونے کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کا کوئی خاص مصرف نہیں ہوتا۔بعض بہت مفید آلات امریکی آن لائن خریدو فروخت کرنے والی کمپنی کی ویب سائٹ ایمزون پر برائے فروخت ہیں ۔ان میں ایک بریسلٹ ہے جو نیند ، دل کی دھڑکن اور نبض کو نوٹ کرتی رہتی ہے۔

دوسری ایجاد’’ ڈور ان لاکر‘‘ ہے، جو آپ کی آمد کو محسوس کرتے ہوئے از خود کھل جاتا ہے اور کسی اجنبی کی آمد پر اپ کے اسمارٹ فون پر اس کی خبردیتا ہے۔ میمو ایک اور اہم آلہ ہے جو نومولود بچے کی سانس، حرکت، درجہ حرارت اور دیگر اہم چیزوں کو نوٹ کرکے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے والدین کو اس سے آگاہ رکھتا ہے۔دوسری جانب قیمتی سامان ، بچوں اور پالتوجانوروں پر نظر رکھنے والے’اسمارٹ ٹیگز‘ بھی عام ہیں۔ کسی شاپنگ سینٹر یا بھیڑ والی جگہ پر جب آپ کا بچہ ٓاپ سے دور ہوجائے تو ٹیگ فوری طور پر اس کی اطلاع سیل فون پر دیتا ہے ۔اس سادہ سی ایجاد پر ہزاروں بچوں کو گمشدگی سے بچایا جاسکتا ہے۔ماہرین نے ایسے سینسر اور ٹیگ بھی بنالیے ہیں جو ایک مرتبہ چارج کرنے پر ہفتوں اور مہینوں تک چلتے رہتے ہیں ۔یہ ٹیگز کمرشل نیٹ ورک کی بجائے بلیوٹوتھ اوردیگر نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔انٹرنیٹ آف تھنگس سے طبی دنیا میں بھی ایک انقلاب آگیا ہے اور اب مریضوں کے جسم میں ایسے سینسر نصب کئے جارہے ہیں ۔جو وائرلیس نیٹ ورک سے جڑ کر پل پل کی خبر انٹرنیٹ پر جاری کرتے ہیں جنہیں ڈاکٹر اور ماہرین دیکھ سکتے ہیں اور فوری طور پر مناسب قدم اٹھا سکتے ہیں۔سسکو کمپنی کے مطابق صرف اگلے 5 برس میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی تعداد 50 ارب تک پہنچ جائے گی۔

سب سے زیادہ مقبول