اسرو: کارٹوسیٹ-3 اور 13 امریکی ’نینو سٹیلائٹس‘ کو خلاء میں بھیجنے کی تیاری

کارٹوسیٹ یعنی ’ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ‘ ایک ایسا سٹیلائٹ ہے جو زمین کی بہت صاف تصویر لے سکتا ہے۔ اس کی تصویر اتنی شفاف ہوتی ہیں کہ کسی شخص کی ہاتھ میں بندھی ہوئی گھڑی کا وقت بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) زمین کی تصویریں اور نقشہ سازی والے سٹلائیٹ کارٹوسیٹ 3 کو امریکہ کے دیگر 13تجارتی نینو سٹلائیٹس کے ساتھ 25 نومبر کو چھوڑے گی۔ اسرو کے مطابق آندھرا پردیش کے سری ہریکوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے پی ایس ایل وی-سی 47 کے ذریعے ان سٹیلائٹوں کی لانچنگ عمل میں لائی جائے گی۔

یہ لانچنگ 25 نومبر 2019 کو ہندوستانی وقت کے مطابق 9.28 شب کی جائے گی۔ کارٹوسیٹ-3 تیسری نسل کا ایک جدید ترین اور موثر سیٹیلائٹ ہے جو بہترین تصاویر لینے میں اہل ہے۔ یہ سٹیلائٹ امریکہ کے 13 تجارتی نینو سیٹلائٹوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر جائے گا۔ اسرو نے کہا ہے کہ ان سٹلائیٹس کو چھوڑنا موسمی حالات پر منحصر ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی اسرو اپریل اور مئی میں 2 سرویلانس سٹیلائٹ لانچ کر چکا ہے۔ اسرو نے 22 مئی کو سرویلانس سٹیلائٹ ریسیٹ 2-بی اور یکم اپریل کو ای ایم آئی سیٹ لانچ کیا تھا۔ ان دونوں کا بنیادی کام دشمنوں کے رڈار پر بھی نگاہ رکھنا ہے۔

کارٹوسیٹ یعنی ’ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ‘ ایک ایسا سٹیلائٹ ہے جو زمین کی بہت صاف تصویر لے سکتا ہے۔ اس کی تصویر اتنی شفاف ہوتی ہیں کہ کسی شخص کی ہاتھ میں بندھی ہوئی گھڑی کا وقت بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر اس سٹیلائٹ کا کام خلاء سے ہندوستانی سرزمین کی نگرانی کرنا ہوگا۔

Published: 19 Nov 2019, 7:11 PM