سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

انٹرنیٹ سروسز کی جنگ .. مظہر حسنین

گوگل کو توقع ہے کہ گوگل پلس مستقبل میں فیس بک کا سب سے بڑا حریف ثابت ہوگا۔ یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فورم اپنے اجراء سے پہلے تین مہینے تک صارفین کی ایک محدود تعداد کے زیر استعمال رہا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

مظہر حسنین

انٹرنیٹ کا آغاز 60 کی دہائی میں ہوا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی ضرورت بن گیا۔ آج اگر ہماری زندگی سے انٹرنیٹ کو نکال دیا جائے تو متعدد ضروریات زندگی خصوصاً روابط میں انسان کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یعنی اب انٹرنیٹ انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان ایک جنگ کا سماں پیدا ہو گیا ہے اور یہ کمپنیاں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لیے بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

جب انٹرنیٹ کا آغاز ہوا تو صرف مائیکرو سافٹ ہاٹ میل کے نام سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرتی تھی۔ وقت گزرتا گیا اور یاہو کا زمانہ آگیا یہ کمپنی تقریباً مائیکرو سافٹ کے مد مقابل آپہنچی۔ ان کمپنیوں نے نہ صرف ای میل بلکہ کئی دوسری انٹرنیٹ سروسز فراہم کیں۔ آج کل تیزی سے ابھرتی ہوئی انٹرنیٹ کمپنی گوگل کو کہا جارہا ہے کیونکہ گوگل نہ صرف نہایت کم عرصے میں یاہو کو پیچھے چھوڑتی ہوئی مائیکرو سافٹ کے مد مقابل آ چکی ہے بلکہ یہ متعدد نئی سروسز بھی فراہم کر رہی ہے۔ گوگل کی سروس میں جی میل۔ انٹرنیٹ وائس چیٹ، چیٹنگ، گوگل ریڈر، گوگل کروم، گوگل ایڈ سینس، گو گل ایڈورڈ، بلاگ اسپاٹ اور گوگل پلس شامل ہے۔

گوگل کی جانب سے گوگل پلس کا آغاز سوشل نیٹ ورکنگ کے شعبے میں مقبولیت حاصل کرنے والی فیس بک کے لئے کیا گیا ہے۔ گوگل پلس کو ٹیسٹ کرنے کے بعد عام صارفین کے استعمال کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ آن لائن صارفین کے لیے گوگل کی نت نئی مصنوعات کی لمبی فہرست میں یہ تازہ اضافہ ہے۔ گوگل کو توقع ہے کہ گوگل پلس مستقبل میں فیس بک کا سب سے بڑا حریف ثابت ہوگا۔ یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فورم اپنے اجراء سے پہلے تین مہینے تک صارفین کی ایک محدود تعداد کے زیر استعمال رہا۔ اس دوران اس پروگرام کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے گوگل نے فیصلہ کیا کہ صارفین کی محدود تعداد کی بجائے اب اسے انٹرنیٹ پر دنیا بھر کے صارفین کو پیش کر دینا چاہئے۔ گوگل پلس کا ایڈریس گوگل پلس ڈوٹ کوم ہے۔ اب کوئی بھی انٹرنیٹ صارف گوگل کی ویب سائٹ پر جا کر وہاں خود کو گوگل پلس کے لیے رجسٹرڈ کروا سکتا ہے۔ اس طرح اب دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والا کوئی بھی انسان گوگل کی اسی طرح کی سروسز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جیسی فیس بک کی طرف سے مہیا کی جاتی ہیں۔ گوگل پلس کی چیٹ سروس صرف ای میل کھول کر بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ گوگل پلس اور ای میل دونوں کو ایک ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ سروسز کی جنگ .. مظہر حسنین

گوگل کا یوں تو اپنا بھی ایک چیٹنگ سافٹ ویئر ہے لیکن سوشل نیٹ ورکنگ کے شعبے میں فیس بک نے گوگل کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اس کی وجہ فیس بک کے صارفین کی وہ تعداد ہے جو خود فیس بک کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 750 ملین بنتی ہے۔ فیس بک اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ آن لائن ٹریفک والی ویب سائٹ ہے۔ دوسری طرف گوگل وہ کمپنی ہے، جس کو آن لائن اشتہارات کے شعبے میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ لیکن فیس بک کی حیران کن کاروباری کامیابی کی وجہ سے گوگل کو یہ خطرہ پیدا ہو چکا تھا کہ جلد ہی فیس بک اشتہارات کے شعبے میں گوگل کو اس کی پہلی پوزیشن سے محروم کر سکتی ہے۔ اس پس منظر میں گوگل کے اعلیٰ عہدیداروں کو اب امید ہے کہ گوگل پلس کی مدد سے وہ فیس بک اور اپنی کمپنی کے درمیان پایا جانے والا کاروباری فاصلہ کافی حد تک کم کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی سائٹ گوگل پلس میں فیس بک کی خصوصیات کا ہی دوبارہ سے استعمال کیا ہے اور اضافی طور پر اس میں ویڈیو چیٹ یا ویڈیو بات چیت کا اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل پلس کے سرکلز فیس بک کے گروپس، ہڈل فیس بک کی گروپ چیٹنگ بالکل فیس بک کی طرح ہے جبکہ کچھ خصوصیات فیس بک سے بڑھ کر ہیں۔ جیسے ہینگ آؤٹ جس میں ویڈیو کانفرنسنگ کی طرح کی خصوصیات ہیں۔ بڑا زبردست فیچر لگ رہا ہے جس میں آٹھ دس کے گروپ کی ویڈیوز اکھٹی چل رہی ہوتی ہیں اور جو بول (یا اونچا بول) رہا ہوتا ہے وہ سنٹر اسٹیج پر نظر آتا ہے۔ اینڈرائیڈ کے لئے اپ لوڈ انسٹینٹ متعارف کروایا گیا ہے۔ جس کے ذریعے آپ جونہی تصویر کھینچیں گے وہ فوری طور پر سرکلز پر آپ کی پرائیویٹ البم میں اپ لوڈ ہو جائے گی۔ جسے آپ ایک کلک کے ذریعے عام یا خاص کے لئے بھی جاری کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسپارکس کی صورت میں آپ کی دلچسپی کے مطابق آپ کو دنیا سے مواد اکٹھا کر کے دکھایا جائے گا۔ میڈیا پر نشر ہونے والی رپورٹس کے مطابق گوگل پلس کے اراکین کی تعداد شروع میں اس کے تجرباتی عرصے کے دوران ہی 25 ملین سے تجاوز کر گئی تھی جبکہ اب اس کی تعداد کروڑ تک ہو چکی ہے۔

گوگل نے گوگل پلس کے آغاز کے ساتھ ہی ایسی خاصیتیں اور امکانات متعارف کرا دیئے ہیں۔ جو ا بھی تک فیس بک میں بھی نہیں تھے۔ فیس بک نے بھی گوگل پلس کے آغاز کے ساتھ اپنی سروسز کو جدید بنانے کے عمل کو تیز تر کر دیا اور تب سے اب تک فیس بک صارفین بھی فیس بک پر کئی نئی تبدیلیاں نوٹ کر چکے ہیں۔ گوگل پلس کی ایک خاص بات وہ نئی ویڈیو چیٹ ہے، جس کو چیٹ ویڈیو ہینگ آؤٹ کا نام دیا گیا ہے، اور جس کے ذریعے کوئی بھی ممبر بیک وقت متعدد افراد کے ساتھ ویڈیو چیٹ کر سکتا ہے۔

گوگل صارفین سے حاصل ہونے والی معلومات کو زیادہ بہتر انداز سے استعمال کرتا ہے جیسے گوگل ڈاکیومنٹس، کیلنڈر اور بہت سی سہولتیں، جبکہ فیس بک ابھی تک ان معلومات کو بیچنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کر سکا۔ ابتدائی مراحل کے دوران گوگل پلس صرف صحافیوں اورٹیکنالوجی سے وابستہ شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے کھولی گئی تھی لیکن دیگر انٹرنیٹ کے صارفین کو دعوتیں بھیجنے کی وجہ سے ویب سائٹ کے صارفین جلد ہی لاکھوں تک پہنچ گئے ہیں۔

انٹرنیٹ سروسز کی جنگ .. مظہر حسنین

گوگل کے تیار کردہ براؤزر کروم نے فائر فاکس کوبہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ انٹرنیٹ براؤزر کی حیثیت ایک دروازے کی سی ہے جس سے آپ انٹرنیٹ کی دنیا میں داخل ہوسکتے ہیں اور پھر دنیا بھر کی معلومات تک آپ کی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں استعمال کیے جانے والے معروف براؤزرز میں مائیکرو سافٹ کا ایکسپلورر، گوگل کا کروم، ایپل کا سفاری اور فائر فوکس براؤزرز شامل ہیں۔

ایک معروف مارکیٹ ریسرچ کمپنی اسٹیٹ کاؤنٹر کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق نومبر کے اختتام تک گوگل کروم کا دنیا بھر میں مارکیٹ شیئر پچیس اعشاریہ چھ نو فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں فائرفوکس کا مارکیٹ شیئرپچیس اعشاریہ دو تین فیصد تھا۔ دوسری طرف مائیکرو سافٹ کے انٹرنیٹ ایکسپلورر کا شیئر مزید کم ہو کر اب چالیس اعشاریہ چھ تین فیصد تک آ گیا ہے۔ اسٹیٹ کاؤنٹر کے مطابق گوگل کروم کے تیزی سے بڑھتے مارکیٹ شیئر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت جلد مائیکرو سافٹ کے ایکسپلورر اور کروم کے درمیان مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔

گوگل نے اپنا کروم نامی براؤزر 2008میں متعارف کروایا تھا۔ نومبر2009 تک اس براؤزر کا مارکیٹ شیئر محض چار اعشاریہ چھ فیصد تھا۔ دوسری طرف انٹرنیٹ ایکسپلورر کی مانگ میں جو کبھی 90 فیصد صارفین کے زیر استعمال رہا ہے، گزشتہ کچھ برسوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ براؤزر محض 57 فیصد صارفین کے استعمال میں تھا جبکہ اس سے ایک برس قبل ہی اس کے صارفین کی تعداد 26 فیصد تھی۔