ہندوستانی بحریہ میں دیسی ساختہ لینڈنگ کرافٹ جہاز کو کل کیا جائے گا شامل

ایل سی یو 56 خشکی اور تری والا جہاز ہے۔ اس کا اہم رول اصل جنگی ٹینکس، بکتر بند گاڑیوں، فوجیوں اور آلات کو سمندری جہاز سے ساحل اور ساحل سے سمندری جہاز منتقل کرنا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: دیسی ساختہ لینڈنگ کرافٹ یوٹلٹی (ایل سی یو) جہاز کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا جائے گا۔وائس ایڈمیرل اتل کمار جین فلیگ آفیسر کمانڈنگ ان چیف، ایسٹرن نیول کمانڈ پیر کو اسے ہندوستانی بحریہ میں شامل کریں گے۔

ایل سی یو 56 خشکی اور تری والا جہاز ہے۔ اس کا اہم رول اصل جنگی ٹینکس، بکتر بند گاڑیوں، فوجیوں اور آلات کو سمندری جہاز سے ساحل اور ساحل سے سمندری جہاز منتقل کرنا ہے۔

ایسٹرن نیول کمانڈ نے اپنے بیان میں یہ بات بتائی۔ دیسی ساختہ اور گارڈن ریسرچ شپ بلڈرس اینڈ انجینئرس لمیٹیڈ کولکاتا کی جانب سے تیار کردہ اس جہاز سے ہندوستانی بحریہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اس کی لمبائی 62 میٹر ہے اور اس میں دو ایم ٹی یو ڈیزل انجن لگے ہیں جس سے اس کی رفتار 15 ناٹ ہوتی ہے۔

اس میں عصری سہولیات کے ساتھ ساتھ 30 ایم ایم کی سی آر این۔ 91 گنس بھی ہیں جن کو تلنگانہ کے ضلع میدک کی آرڈیننس فیکٹری میں بنایا گیا ہے۔ اس جہاز میں چار آفیسرس، 56ملاحوں کی ٹیم شامل ہوگی۔

اس کو بحریہ میں شامل کرنے کے بعد یہ جہاز انڈومان اینڈ نکوبار کے بحریہ کے حصہ پورٹ بلیر فلوٹیلو کا حصہ بن جائے گا۔ اس کو بیچنگ آپریشنس، ایس اے آر، ڈیزاسٹر ریلیف آپریشنس، ساحلی نگرانی کے کام کے لئے استعمال کیا جائے گا۔