انڈیا-نیدرلینڈ ٹیکنالوجی سمٹ: زراعت، آبی انتظام اور صحت کے شعبوں کو فائدہ کی امید

مرکزی وزیر ہرش وردھن نے کہا کہ کھیتی باڑی کے بارے میں ہندوستانی علم اور آبی انتظام کے بارے میں نیدرلینڈ کا علم مل کر فوڈ سیکورٹی کویقینی بنانے اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے میں مدد گار ہوسکتے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستان اور نیدرلینڈ کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون میں اضافہ کے لئے دو روزہ ٹیکنالوجی کانفرنس منگل سے قومی راجدھانی دہلی میں شروع ہوئی جس میں زراعت، آبی انتظام اور صحت کا شعبہ اس کانفرنس کا خصوصی موضوع ہے۔

نیدرلنڈ کے کنگ ولیم الیکزینڈر نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے ذریعہ مشترکہ طور سے منعقد کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر سائنس کے شعبہ میں تیزی سے ترقی کے لئے ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ توانائی سے بھرپور ہے اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبہ میں وہ دنیا کی قیادت کرنے والے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوچکا ہے۔

نیدرلینڈ کی ملکہ کوئن میکسیما اور مرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن کی موجودگی میں الیکزینڈر نے کہا کہ نیدرلینڈ میں کئی ہندوستانی سائنس داں، آئی ٹی پروفیسر اور ماہرین کام کرتے ہیں اور کئی طالب علم وہاں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے دکھادیا ہے کہ نئے نئے خیالات کفایتی بھی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے صحت کے شعبہ میں ہندوستان کے ذریعہ ڈیولپ کیے گئے کفایتی نئے خیالات کی تعریف کی۔ نیدرلینڈ کے کنگ نے کہا کہ زراعت، آبی انتظام اور آب وہوا میں تبدیلی کے شعبہ میں یوروپی ممالک کے پاس کافی علم ہے۔ اس کے پاس پنجاب سے بھی کم زمین ہے اس کے باوجود وہ دنیا کا دوسرا بڑا زرعی پیداوار برآمد کندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی نیدرلینڈ کے ڈی این اے میں ہے اور آبی انتظام کے بغیر اس کا وجود ہی ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ہندوستان اور نیدرلینڈ کے درمیان سیاسی تعلقات بھلے ہی 72 سالہ پرانے ہیں، ہماری دوستی چار سو سال پرانی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ کھیتی باڑی کے بارے میں ہندوستانی علم اور آبی انتظام کے بارے میں نیدرلینڈ کا علم مل کر فوڈ سیکورٹی کویقینی بنانے اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے میں مدد گار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کانفرنس میں شامل ہو رہی دونوں ممالک کی کمپنیوں سے اسٹارٹ اپ کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے سکریٹری آشوتوش شرما نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ کے ذریعہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے تعاون سے منعقد یہ 25ویں ٹیکنالوجی کانفرنس ہے۔ ساتھ ہی اس سال سائنس میں نیدرلینڈر کے ساتھ تعاون کے 10 برس بھی پورے ہورہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مل کر کئی اہم شعبوں میں ٹیکنالوجی حل پیش کیے ہیں۔ ان میں پانی، آبی انتظام، آب وہوا کی تبدیلی اور سائبر سیکورٹی شامل ہیں۔

کانفرنس میں دونوں ممالک کی کمپنیوں اور مختلف شعبوں کے درمیان 30 سے زیادہ مفاہمت ناموں پر دستخط کرنے کی امید ہے۔ان میں اترپردیش میں گنگا کی صفائی، دل کی بیماریوں میں خطرہ کم کرنے، اگلی نسل کی گاڑی اور انٹرنیٹ آف تھنگس اورآبی انتظام پر افتتاحی سیشن میں ہی دستخط ہوگئے تھے۔ شرما نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان مفاہمت ناموں سے سماجی چیلنجوں کے نئے حل ڈھونڈنے اور دوطرفہ تجارت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

Published: 15 Oct 2019, 8:01 PM